آئینے جھوٹ نہیں بولتے، نگاہیں بول جاتی ہیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

محبت کے دعوے اکثر الفاظ سے شروع ہوتے ہیں، مگر سچائی ہمیشہ رویّوں میں اپنا تعارف کراتی ہے۔ زبانیں کسی کو چاند، سورج اور کائنات کا سب سے حسین انسان قرار دے سکتی ہیں، لیکن ایک بےاختیار جملہ اکثر برسوں سے تراشے گئے سارے استعارے ڈھا دیتا ہے۔
عجیب لوگ ہیں! پہلے نگاہوں کو آئینہ کہتے ہیں، پھر ایک دن آئینے کی طرف بھیج دیتے ہیں۔ تب سمجھ آتی ہے کہ محبت کی تعریف حسن سے نہیں، قبولیت سے لکھی جاتی ہے۔ جو انسان کو اس کی حقیقت سمیت اپنا لے، وہ عاشق ہے؛ اور جو ہر لمحہ پیمائش کرتا رہے، وہ صرف تماشائی ہے۔
اصل محبت چہرے کا فیصلہ نہیں کرتی، دل کی توقیر کرتی ہے۔ وہ رنگ، عمر، جھری، تھکن یا وقت کے لکھے ہوئے آثار پر تبصرہ نہیں کرتی، بلکہ ان سب کے باوجود ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ جس محبت کو حسن کا سہارا درکار ہو، وہ محبت نہیں، پسند کا عارضی موسم ہے۔ اور موسموں کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک عجیب فریب ہے کہ کچھ لوگ تعریفوں کے تاج پہنا کر انسان کو اپنے گرد گھماتے ہیں، پھر ایک ہی جملے سے وہ سارا تاج خاک میں ملا دیتے ہیں۔ گویا محبت نہیں، خود پسندی کا دربار سجایا ہوا تھا جہاں دوسرا انسان نہیں، صرف اپنی پسند کا عکس مطلوب تھا۔
یاد رکھیے! جس محبت کو بار بار آئینے کی ضرورت پڑے، وہ ابھی آنکھ کی محبت ہے، دل کی نہیں۔ دل جب دیکھتا ہے تو چہرہ نہیں، چراغ دیکھتا ہے؛ اور چراغ کی روشنی عمر، رنگ اور نقش کی محتاج نہیں ہوتی۔
اس لیے ایسے دعووں سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں جو ایک بےدھیان لمحے میں اپنا ہی انکار کر بیٹھیں۔ سچی محبت کبھی انسان کو اپنے وجود پر شرمندہ نہیں کرتی، بلکہ اسے اس کے رب کی تخلیق ہونے پر مزید محترم بنا دیتی ہے۔ باقی جو حسن کے نام پر محبت بیچتے ہیں، وہ دراصل محبت نہیں، پسند کی تجارت کرتے ہیں۔ اور تجارت میں نفع و نقصان ہوتا ہے، وفا نہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top