(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی زندگی میں کچھ فاصلے میلوں کے نہیں ہوتے، کچھ فاصلے تو ایک ہی گھر کی چار دیواری میں جنم لیتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگ برسوں ایک دوسرے کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں، ایک ہی راستے پر چلتے ہیں، ایک ہی چھت کے سائے میں دن رات گزارتے ہیں، مگر دل کے موسم ایک دوسرے سے بے خبر ہونے لگتے ہیں۔
یہ دوری اچانک نہیں آتی، نہ ہی کسی ایک دن کوئی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی بے اعتنائیوں، نظر انداز کیے گئے لمحوں، اور غیر محسوس عادتوں سے آہستہ آہستہ بنتی ہے۔ رشتہ ٹوٹتا نہیں، بس اس کی حرارت کم ہونے لگتی ہے۔
زندگی کی مصروفیات اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ ذمہ داریاں، معاشی مسائل، گھر کے معاملات، مستقبل کی فکریں، یہ سب انسان کو تھکا دیتی ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم کبھی کبھی زندگی کو سنبھالتے سنبھالتے اُن ہاتھوں کو ہی بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ زندگی اٹھائی ہوتی ہے۔
رشتے صرف فرائض کی تکمیل سے زندہ نہیں رہتے، انہیں احساس کی نمی بھی درکار ہوتی ہے۔ ایک گھر نظم و ضبط سے چل سکتا ہے مگر ایک تعلق صرف نظم سے نہیں چلتا، اسے دل کی شرکت چاہیے۔
کبھی ہم اپنے قریبی انسانوں کے ساتھ وہ نرمی نہیں رکھتے جو اجنبیوں کے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں ہم لہجے سنبھالتے ہیں، الفاظ تولتے ہیں، مسکراہٹیں بانٹتے ہیں، مگر گھر کی دہلیز پر آتے ہی گمان کر لیتے ہیں کہ اپنائیت ہر کمی پوری کر دے گی۔ حالانکہ محبت بھی توجہ مانگتی ہے، خاموشی میں بھی آواز چاہتی ہے۔
سب سے خطرناک مرحلہ وہ نہیں جب اختلاف پیدا ہو، بلکہ وہ ہے جب سوال ختم ہوجائیں۔ جب انسان سامنے بیٹھے شخص کی کیفیت جاننے کی کوشش چھوڑ دے۔ جب گفتگو صرف ضرورتوں کی فہرست بن جائے اور دل کی دنیا کا ذکر کہیں پیچھے رہ جائے۔
بعض رشتے نفرت سے نہیں مرتے، غفلت سے کمزور پڑتے ہیں۔ انسان سمجھتا رہتا ہے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے، مگر اندر کہیں کوئی خوبصورت شے آہستہ آہستہ اپنی روشنی کھو رہی ہوتی ہے۔
ہم اکثر اپنے ساتھی کو ایک پرانی تصویر کی طرح دیکھتے ہیں، جیسے وہ ہمیشہ ویسا ہی رہے گا جیسا ہم نے برسوں پہلے جانا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ اس کے خوف، خواب، ترجیحات اور احساسات بدلتے ہیں۔ جو لوگ ایک دوسرے کو نئے سرے سے دریافت نہیں کرتے، وہ ایک دن ایک دوسرے کے پاس رہ کر بھی اجنبی محسوس کرنے لگتے ہیں۔
محبت کا حسن صرف بڑے دعووں میں نہیں، بلکہ اُن معمولی لمحوں میں چھپا ہوتا ہے جہاں کوئی بغیر وجہ پوچھ لے: “آج دل کیسا ہے؟”
جہاں کوئی خاموشی کو صرف خاموشی نہ سمجھے بلکہ اس کے پیچھے چھپی تھکن، اداسی یا طلب کو محسوس کرے۔
رشتے باغ کی مانند ہوتے ہیں۔ اگر برسوں پہلے لگایا ہوا پودا خوبصورت تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ پانی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بعض اوقات پرانے درخت بھی نئی بہار کے منتظر ہوتے ہیں۔
ضروری نہیں کہ تعلق میں کوئی بڑا انقلاب برپا کیا جائے۔ کبھی ایک سچی گفتگو، ایک خلوص بھرا لمس، ایک توجہ سے سنا ہوا جملہ، برسوں کی گرد ہٹا دیتا ہے۔
زندگی کی دوڑ میں ساتھ چلنا کافی نہیں، کبھی کبھی رک کر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس ہاتھ کو تھام کر سفر شروع کیا تھا، وہ ہاتھ اب بھی ہماری گرفت میں ہے یا ہم نے صرف اس کی موجودگی کا عادی ہو کر اسے محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔
محبت کا چراغ اکثر بجھتا نہیں، بس بے توجہی کی ہوا سے مدھم پڑ جاتا ہے۔ اسے بجھنے سے پہلے تھوڑا سا حصار، تھوڑی سی قربت، تھوڑا سا وقت چاہیے۔
کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ دو لوگ ایک مکان میں رہ رہے ہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ دو دل اب بھی ایک دوسرے کے اندر گھر کیے ہوئے ہیں۔
