فاصلے کا فریب

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بلندی ہمیشہ صرف فاصلہ نہیں بڑھاتی بعض اوقات وہ نظر کو بھی بدل دیتی ہے۔ انسان جب اوپر اٹھتا ہے کسی مقام، اختیار، علم یا کامیابی کی سیڑھی پر تو اسے لگتا ہے کہ منظر واضح ہو رہا ہے، حالانکہ اصل میں زاویہ بدل رہا ہوتا ہے۔ یہی زاویہ وہ خاموش فریب ہے جس میں چیزیں چھوٹی نہیں ہوتیں، بس دور ہو جاتی ہیں، اور دوری کو انسان کمی سمجھ بیٹھتا ہے۔
ابتدا میں یہ پرواز معصوم ہوتی ہے۔ خواہشیں، محنت، خواب سب مل کر انسان کو زمین سے تھوڑا اوپر لے جاتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے بلندی بڑھتی ہے، نیچے کی آوازیں مدھم ہونے لگتی ہیں۔ وہی آوازیں جو کبھی رہنمائی تھیں، اب شور محسوس ہوتی ہیں۔ وہی چہرے جو کبھی اپنا پن تھے، اب ہجوم لگتے ہیں۔ انسان یہ نہیں مانتا کہ وہ دور ہو گیا ہے؛ وہ یہ کہہ کر دل کو مطمئن کرتا ہے کہ باقی سب چھوٹے رہ گئے ہیں۔
یہیں سے انا کی ایک باریک تہہ جمتی ہے۔ غرور چیختا نہیں، وہ آہستہ آہستہ لہجے میں اترتا ہے، فیصلوں میں جھلکتا ہے اور رویوں میں بولتا ہے۔ طاقت، مقام یا کامیابی انسان سے سب سے پہلے اس کی یادداشت چھینتی ہے۔ وہ اپنے ماضی کو ایک غیر ضروری باب سمجھ کر بند کر دیتا ہے وہ دن جب اس کے قدم بھی زمین پر تھے، جب اس کی نگاہ برابر کی سطح پر تھی، جب سوال اس کی آنکھوں میں اور لرزش اس کی آواز میں ہوا کرتی تھی۔ اب وہ اپنے آپ کو بلندی کا فطری حق دار سمجھنے لگتا ہے اور نیچے ہونا اسے ناکامی محسوس ہونے لگتا ہے حالانکہ زمین پر ہونا زندگی کی بنیادی شرط ہے۔
اونچائی پر ایک اور حقیقت بھی جنم لیتی ہے: تنہائی۔ جتنا مقام بلند، اتنا دائرہ تنگ۔ وہاں شور نہیں ہوتا صرف خاموشی ہوتی ہے ایسی خاموشی جس میں انسان کی اپنی آواز لوٹ لوٹ کر آتی ہے۔ اسی بازگشت میں خود پسندی پلتی ہے۔ نیچے کی دنیا بےترتیب، معمولی اور غیر اہم لگنے لگتی ہے مگر دراصل وہی بےترتیبی زندگی کی سانس ہے۔ بلندی اگر اس سانس سے کٹ جائے تو وہ کامیابی نہیں رہتی، ایک خوبصورت مگر بےجان منظر بن جاتی ہے۔
لیکن یہ کہانی یک طرفہ نہیں۔ جس لمحے اوپر والا نیچے والوں کو چھوٹا سمجھنے لگتا ہے اسی لمحے نیچے والوں کی نظر میں بھی وہ سکڑنے لگتا ہے۔ زمین سے دیکھنے پر وہ کوئی دیو نہیں ہوتا، بس ایک دور سا نقطہ ، ایک حرکت کرتا سایہ، جس کے خدوخال واضح نہیں، جس کی آواز نہیں پہنچتی۔ جتنا وہ اوپر جاتا ہے اتنا ہی انسان کم اور نشان زیادہ بن جاتا ہے۔ نیچے والوں کے لیے وہ قابلِ رشک ہو سکتا ہے مگر قابلِ قربت نہیں رہتا۔ فاصلہ دونوں طرف سے انسانیت کو گھٹا دیتا ہے۔
یوں ایک عجیب توازن ٹوٹ جاتا ہے۔ اوپر والا سمجھتا ہے کہ اس کی بلندی نے اسے بڑا کر دیا ہے اور نیچے والے محسوس کرتے ہیں کہ اس کی دوری نے اسے اجنبی بنا دیا ہے۔ نہ بلندی اسے حقیقتاً بڑا کر پاتی ہے، نہ دوری نیچے والوں کی نظر میں اسے وہی انسان رہنے دیتی ہے جو کبھی ان کے شانہ بشانہ چلتا تھا۔ اصل نقصان یہی ہے کہ مقام پاتے ہوئے نسبت کھو دی جاتی ہے اور نسبت کھو جائے تو قد کی ساری پیمائشیں جھوٹی ہو جاتی ہیں۔
اصل عظمت اونچا اڑنے میں نہیں بلکہ اونچائی پر رہ کر نظر کو برابر رکھنے میں ہے۔ وہی بلندی معتبر ہے جو دل کو نرم رکھے، جو یاد دلاتی رہے کہ فاصلہ منظر بدلتا ہے، انسان نہیں۔ بڑا وہ نہیں جو اوپر پہنچ جائے، بڑا وہ ہے جو اوپر جا کر بھی جھکنے کا ہنر نہ بھولے جو جانتا ہو کہ ہر پرواز کو ایک دن زمین پر اترنا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم کتنا اونچے اڑے، سوال یہ ہے کہ اڑتے ہوئے ہم نے انسانیت کو کہاں رکھا۔ کیونکہ جو بلندی دوسروں کو چھوٹا دکھانے لگے وہ دراصل نظر کو محدود کر دیتی ہے۔ اور محدود نظر چاہے کتنی ہی اونچائی پر کیوں نہ ہو، انجامِ کار اندھی ہو جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top