(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
حبت کوئی جذبہ نہیں، یہ روح کی بیداری کا وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے وجود کی تنگ دیواروں سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں سانس لینا سیکھتا ہے۔ جس دل میں محبت اترتی ہے، اس کے موسم بدل جاتے ہیں۔ اس کی نگاہ میں سختی کی جگہ نرمی، بے معنویت کی جگہ حیرت اور شور کی جگہ ایک خاموش نغمہ جنم لیتا ہے۔ وہ دنیا کو صرف دیکھتا نہیں، محسوس کرنے لگتا ہے۔
محبت انسان کے باطن میں جلنے والا ایسا چراغ ہے جس کی روشنی پہلے اپنے اندر کے اندھیروں کو منور کرتی ہے، پھر اس کی کرنیں دوسروں کے دلوں تک پہنچنے لگتی ہیں۔ محبت کے زیرِ اثر بولے جانے والے لفظ محض الفاظ نہیں رہتے؛ وہ دعاؤں کی طرح اٹھتے ہیں، بارش کی طرح برستے ہیں اور تھکے ہوئے دلوں کے لیے سایہ بن جاتے ہیں۔ محبت سے لبریز روح میں ایک ایسی موسیقیت پیدا ہو جاتی ہے جس کی لے میں درخت، ہوائیں، بارشیں اور خاموش راتیں بھی شریک معلوم ہوتی ہیں۔
محبت تک رسائی عقل کی فتوحات سے نہیں ہوتی۔ اس کے دروازے پر علم کے تاج، انا کے عصا اور برتری کے تمغے اتارنے پڑتے ہیں۔ محبت کے شہر میں داخل ہونے والا ہر شخص اپنی بڑائی سے دست بردار ہوتا ہے۔ یہاں وہی قبول ہوتا ہے جو اپنے دل کو نرم مٹی کی طرح لے آئے؛ ایسا دل جو سن سکے، محسوس کر سکے، ٹوٹ سکے اور کسی دوسرے کے درد میں بھیگ سکے۔
محبت ایک عبادت گاہ بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ اس میں انسان کسی شے پر قبضہ نہیں کرتا، بلکہ اپنے وجود کی دیواریں گرا دیتا ہے۔ وہ لینے سے زیادہ دینے کا ہنر سیکھتا ہے، منوانے سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اور اپنے حصے کی روشنی دوسروں کے چراغوں میں بانٹنے لگتا ہے۔ محبت میں آدمی جتنا خالی ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی بھرنے لگتا ہے۔ یہی اس کا عجیب معجزہ ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب محبت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں ہر چہرہ اسے ایک راز محسوس ہونے لگتا ہے اور ہر روح ایک امانت۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ دلوں کو توڑنا محض ایک اخلاقی خطا نہیں بلکہ کائنات کے حسن میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لیے وہ نفرت سے زیادہ معافی، فاصلے سے زیادہ قربت اور فیصلوں سے زیادہ رحم کو اختیار کرتا ہے۔
محبت کی آخری منزل کسی انسان، کسی تعلق یا کسی خواہش پر ختم نہیں ہوتی۔ محبت اپنی اصل میں ایک دریا ہے جو بالآخر اسی سمندر کی طرف بہتا ہے جہاں سے اس کا پہلا قطرہ اٹھا تھا۔ جو شخص محبت کی آگ میں اپنے نفس کی سختیوں کو جلا دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اس نور کے قریب پہنچنے لگتا ہے جو ہر پاکیزگی کی اصل ہے۔ اسے معلوم ہونے لگتا ہے کہ زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں؛ زندگی دراصل اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب دل میں محبت پیدا ہوتی ہے اور اس محبت کی خوشبو انسان کو اپنے رب کے قرب تک لے جاتی ہے۔
اور شاید دنیا کے سب سے محروم لوگ وہ نہیں جن کے پاس دولت، شہرت یا اختیار نہیں ہوتا؛ بلکہ وہ ہیں جن کے دل محبت کی بارش سے کبھی تر نہیں ہوئے، جو اپنے باطن کے چراغ جلائے بغیر ہی رخصت ہو گئے، اور جنہوں نے زمین پر چلتے ہوئے بھی زندگی کے اصل ذائقے کو کبھی چکھا ہی نہیں۔
