(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کوئی بھی قاتل اچانک پیدا نہیں ہوتا، وہ پہلے انسان کے اندر مرتی ہوئی روشنی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ جب دلوں میں نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں، جب تعصب کو پانی ملتا ہے، جب انتقام کو بہادری کا نام دیا جاتا ہے، تو پھر ایک دن معاشرہ حیران ہو کر دیکھتا ہے کہ پھولوں کی جگہ کانٹے کیوں اگ آئے ہیں۔
قاتل ہاتھوں سے پہلے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
ایک بچہ جب محبت کی زبان کے بجائے نفرت کے نعرے سنتا ہے، جب اسے رحم کے بجائے غصہ ورثے میں ملتا ہے، جب اسے انسان سے پہلے دشمن پہچاننا سکھایا جاتا ہے، تو دراصل ہم ایک فرد نہیں، ایک پورا موسم تیار کر رہے ہوتے ہیں۔
نفرت کی سب سے بڑی تباہی یہ نہیں کہ وہ کسی ایک انسان کو مار دیتی ہے؛ اس کی اصل ہلاکت یہ ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے دلوں میں قبرستان آباد کر دیتی ہے۔
پھر جہاں قاتلوں کی فصل اگتی ہے، وہاں گورکنوں کی ضرورت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جو معاشرے زندگی کی قدر کھو دیتے ہیں، وہاں موت کے کاروبار کرنے والے پروان چڑھنے لگتے ہیں۔
ہم نے اقتدار، مفاد اور غلبے کی خواہش میں کہیں نہ کہیں اپنے ہاتھوں سے وہ بیج بوئے ہیں جن کے پھل زہر آلود ہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنایا، مکالمے کو جنگ بنایا، اور انسان کو شناختوں کے خانوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر شکوہ کیا کہ دلوں میں ویرانی کیوں اتر آئی۔
لیکن ہر اندھیرے کے مقابل ایک امکان ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
اگر نفرت کی فصل کاشت کی جا سکتی ہے تو محبت کے باغ بھی اگائے جا سکتے ہیں۔ اگر ایک نسل کو زہر دیا جا سکتا ہے تو ایک نسل کو حکمت، رحم اور حسن بھی سکھایا جا سکتا ہے۔
ہمیں ایسی نسل پیدا کرنی ہے جو قبریں نہیں، باغ تلاش کرے؛ جو زخم نہیں، مرہم بنے؛ جو نفرت کے وارث نہیں، محبت کے امین ہوں۔
کیونکہ تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ کسی کو شکست دینا نہیں، بلکہ انسان کے اندر کے انسان کو زندہ رکھنا ہے۔
اور جس دن انسان نے دوبارہ انسان کو دیکھنا سیکھ لیا، اسی دن قاتلوں کی فصل سوکھنے لگے گی اور محبت کے پھول پھر سے کھلنے لگیں گے۔
