(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دنیا میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بدصورتی ہمیشہ بدصورت شکل میں ظاہر نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی بدصورتی تاج پہن کر آتی ہے، کبھی مسکراہٹ اوڑھ لیتی ہے، کبھی الفاظ کی شائستگی میں چھپ جاتی ہے، اور کبھی کامیابی کے لباس میں ہمارے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بدصورتی کو پہچاننے کے لیے آنکھ نہیں، بصیرت درکار ہوتی ہے۔
بدصورتی دراصل کسی چیز کا بگڑا ہوا چہرہ نہیں، اس کی کھوئی ہوئی روح ہے۔
ایک درخت صرف اس لیے خوبصورت نہیں کہ وہ سبز ہے؛ وہ خوبصورت اس لیے ہے کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق سایہ دیتا ہے، پھل دیتا ہے، زندگی میں حصہ ڈالتا ہے۔ اگر وہ سبز رہے مگر زہر دینے لگے تو اس کا حسن صرف ایک دھوکا رہ جائے گا۔
اسی طرح انسان بھی ہے۔
انسان کی بدصورتی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی اصل سے دور ہونے لگتا ہے۔ جب عقل ہو مگر حکمت نہ ہو، زبان ہو مگر سچ نہ ہو، طاقت ہو مگر رحم نہ ہو، علم ہو مگر عاجزی نہ ہو—تو انسان ظاہری طور پر مکمل ہوتے ہوئے بھی اندر سے شکستہ ہو جاتا ہے۔
بدصورتی دراصل بے ترتیبی کا نام ہے۔
جیسے ایک ساز کے تمام تار موجود ہوں مگر سُر نہ ہو، جیسے ایک کتاب الفاظ سے بھری ہو مگر معنی سے خالی ہو، جیسے ایک شہر روشن ہو مگر اس میں سکون نہ ہو۔
اصل المیہ چیزوں کا ٹوٹنا نہیں، ان کا بے مقصد ہو جانا ہے۔
آج کا انسان شاید بدصورت اس لیے نہیں ہو رہا کہ اس کے پاس حسن کی کمی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس نے حسن کا مفہوم بدل دیا ہے۔ اس نے چمک کو خوبصورتی سمجھ لیا، نمائش کو وقار، شور کو اثر، اور جمع کرنے کو کامیابی۔
یوں آہستہ آہستہ حقیقت پیچھے رہ گئی اور اس کا عکس آگے آ گیا۔
بدصورتی وہ لمحہ ہے جب سایہ اپنے وجود کو روشنی سمجھنے لگے۔
جب انسان اپنی کمزوریوں کا دفاع کرنے لگے، اپنی غلطیوں کو نظریہ بنا لے، اپنی خواہشوں کو اصول کا نام دے دے، تو وہ صرف غلطی نہیں کرتا؛ وہ اپنی اندرونی ساخت کو مسخ کر دیتا ہے۔
فطرت میں ہر چیز اپنی جگہ خوبصورت ہے، کیونکہ وہ اپنی حقیقت سے وفادار ہے۔ پتھر پتھر رہ کر خوبصورت ہے، دریا دریا رہ کر، پھول پھول رہ کر۔
صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنی اصل بھول کر مصنوعی صورتیں اختیار کر لیتا ہے۔
وہ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے خود سے دور ہوتا جاتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب آئینہ چہرہ دکھاتا ہے، مگر انسان اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتا۔
بدصورتی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ باہر سے پہلے اندر پیدا ہوتی ہے، مگر انسان اسے باہر تلاش کرتا رہتا ہے۔
وہ چہروں، لباسوں، قوموں، گروہوں اور زمانوں کو بدصورت کہتا ہے، مگر اپنے اندر پیدا ہونے والی سختی، حسد، غرور اور خود فریبی کو نہیں دیکھتا۔
حقیقی حسن اپنی تکمیل میں نہیں، اپنی صداقت میں ہے۔
ایک ٹوٹا ہوا انسان بھی خوبصورت ہو سکتا ہے اگر وہ سچا ہے، اور ایک کامیاب انسان بھی بدصورت ہو سکتا ہے اگر وہ اپنی روح سے بے وفا ہے۔
کیونکہ کائنات میں سب سے قیمتی چیز بے عیب ہونا نہیں، اصل ہونا ہے۔
بدصورتی کا فلسفہ ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ دنیا میں بدصورت چیزیں کون سی ہیں؛ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم نے اپنے اندر کون سی چیزیں ایسی پیدا کر لی ہیں جو ہماری اصل خوبصورتی کو ڈھانپ رہی ہیں۔
شاید انسان کا سب سے بڑا سفر خوبصورت نظر آنے کا نہیں، بلکہ خوبصورت ہونے کا سفر ہے۔
اور خوبصورتی کا آغاز اُس لمحے ہوتا ہے جب انسان اپنی بنائی ہوئی تصویروں سے نکل کر اپنی اصل حقیقت کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
