فیصلے وہاں جنم لیتے ہیں جہاں نفس خاموش ہوتا ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ہمیں اکثر ایسے دو راستوں پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں دونوں ہی سمتیں درست معلوم ہوتی ہیں، یا دونوں ہی غلط۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان دلیلوں سے زیادہ اپنی خواہشوں کا قیدی بن جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مسئلہ سمجھ نہیں آ رہا، حالانکہ اکثر مسئلہ سمجھ کا نہیں، خواہش کا ہوتا ہے۔ خواہش جتنی بلند آواز میں بولتی ہے، بصیرت اتنی ہی دھیمی پڑ جاتی ہے۔
فیصلہ کرنے کا اصل ہنر یہ نہیں کہ انسان ہر راستے کا انجام جان لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر بولنے والی ہر آواز کو پہچان لے۔ بعض آوازیں نفس کی ہوتی ہیں، بعض خوف کی، بعض لالچ کی، اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو ضمیر کے دروازے پر بہت آہستہ دستک دیتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ انسان اکثر شور سن لیتا ہے، دستک نہیں۔
جب دو فیصلے برابر دکھائی دیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے ہٹ جائیے۔ اپنے آپ سے یہ نہ پوچھیے کہ میں کیا چاہتا ہوں؟ بلکہ یہ سوچیے کہ اگر آج میری زندگی کا وہ شخص، جس کی دیانت، حکمت اور کردار پر مجھے کامل اعتماد ہے، میرے سامنے بیٹھا ہوتا تو مجھے کیا مشورہ دیتا؟ اس ایک سوال میں حیرت انگیز روشنی پوشیدہ ہے۔ انسان بہت سے فیصلے اس لیے خراب کرتا ہے کہ وہ صرف اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے؛ جبکہ صحیح فیصلہ اکثر کسی بہتر نظر کے تصور سے جنم لیتا ہے۔
کبھی اپنے مستقبل کے بوڑھے وجود کو بھی سامنے بٹھا کر سوچیے۔ برسوں بعد جب یہ لمحہ یاد آئے گا تو کون سا راستہ آپ کو سکون دے گا اور کون سا پچھتاوا؟ وقت بہترین منصف ہے۔ جو فیصلہ آنے والے برسوں میں بھی دل کو مطمئن رکھے، وہی زیادہ درست ہوتا ہے۔
خواہشیں ختم نہیں ہوتیں۔ انسان جب تک زندہ ہے، اس کے اندر چاہنے کا ایک سمندر موجزن رہتا ہے۔ کمال یہ نہیں کہ انسان خواہشوں سے خالی ہو جائے؛ کمال یہ ہے کہ وہ خواہشوں کا غلام نہ رہے۔ جو شخص ہر خواہش کے پیچھے دوڑتا ہے، وہ آخرکار اپنی منزل کھو دیتا ہے۔ اور جو ہر خواہش کو لگام دینا سیکھ لیتا ہے، وہ اپنی ذات کا راہی بن جاتا ہے۔
باطنی بلوغت کا آغاز بھی یہی ہے کہ انسان ہر اُبھرتی خواہش کو فوراً حکم نہ مانے۔ ہر جذبے پر عمل ضروری نہیں، ہر خیال حقیقت نہیں، اور ہر خواہش مصلحت نہیں ہوتی۔ جو آدمی اپنی زبان کو تھوڑا خاموش، اپنی بھوک کو تھوڑا قابو، اپنی نیند کو تھوڑا نظم، اور اپنے نفس کو تھوڑا انتظار سکھا دیتا ہے، وہ دراصل اپنے اندر ایک نئے انسان کو جنم دیتا ہے۔
فیصلے عقل سے پیدا ہوتے ہیں، مگر ان کی حفاظت ضبط کرتا ہے۔ جس دل میں خواہشیں تخت نشین ہوں، وہاں حکمت مہمان بن کر بھی زیادہ دیر نہیں ٹھہرتی۔ لیکن جہاں نفس چند قدم پیچھے ہٹ جائے، وہاں بصیرت آ کر رہنے لگتی ہے۔
یاد رکھیے، درست فیصلہ وہ نہیں جو فوراً خوشی دے؛ درست فیصلہ وہ ہے جو برسوں بعد بھی شرمندگی نہ دے۔ اور باطن کی بیداری یہی ہے کہ انسان وقتی خواہش کے شور سے اوپر اٹھ کر اُس خاموش آواز کو سن لے جو ہمیشہ حق، خیر اور سکون کی طرف بلاتی ہے۔ یہی آواز انسان کی اصل رہنما ہے، اور یہی ہر دوراہے پر چراغ بن جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top