عینِ عمل: جب ارادے کردار کا لباس پہن لیتے ہیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی پہچان اس کے خیالات سے نہیں، اس کے آثار سے ہوتی ہے۔ خیال خوشبو کی طرح ہے، مگر عمل وہ پھول ہے جس سے خوشبو کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ اچھائی کے خواب دیکھتے ہیں، نیکی کے چرچے کرتے ہیں، بلند مقاصد کے نقشے بناتے ہیں؛ مگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خوابوں کو اپنے قدموں کی زبان عطا کر سکیں۔ یہی مقام عینِ عمل کا ہے۔
عمل محض حرکت کا نام نہیں۔ ہر حرکت عمل نہیں ہوتی، جیسے ہر آواز موسیقی نہیں ہوتی۔ عمل وہ ہے جس میں نیت کی روح شامل ہو، مقصد کی روشنی موجود ہو، اور کردار کی گواہی ساتھ چل رہی ہو۔ ورنہ ہاتھ تو بہت کچھ کرتے ہیں، مگر ہر حرکت انسان کو بلند نہیں کرتی۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا خلوص بھرا قدم، بڑے بڑے دعووں سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔
ارادہ ایک بیج ہے، مگر عمل وہ زمین ہے جہاں اس بیج کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ بیج اپنی صلاحیت کا اعلان نہیں کرتا، خاموشی سے مٹی کے اندر اترتا ہے، اندھیرے برداشت کرتا ہے، اپنی پرانی شکل کھوتا ہے، تب کہیں جا کر ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی قانون انسان پر بھی جاری ہے۔ جو شخص اپنی آسانیوں کے خول سے باہر نہیں نکلتا، اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں کبھی شجر نہیں بنتیں۔
عینِ عمل انسان کو یہ راز سکھاتی ہے کہ تبدیلی خواہشوں سے نہیں، عادتوں سے پیدا ہوتی ہے۔ بڑے فیصلے اکثر ایک لمحے میں کیے جاتے ہیں، مگر بڑی شخصیات چھوٹے چھوٹے معمولات سے تعمیر ہوتی ہیں۔ ایک سچا لفظ، ایک وعدے کی پاسداری، ایک خاموش خدمت، ایک مشکل وقت میں ثابت قدمی؛ یہی وہ اینٹیں ہیں جن سے کردار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
عمل کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ جو شخص صرف منزل دیکھتا ہے، وہ راستے کی سختیوں سے گھبرا جاتا ہے؛ لیکن جو اپنے قدم کی ذمہ داری سمجھ لیتا ہے، وہ ہر مشکل کو تربیت کا ایک مرحلہ سمجھنے لگتا ہے۔ پتھر راستے کی رکاوٹ بھی ہوتے ہیں اور تراشے جائیں تو بنیاد بھی بن جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان انہیں کس نظر سے دیکھتا ہے۔
بعض لوگ نیکی کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ جب حالات سازگار ہوں گے تو اچھا کام کریں گے۔ مگر عمل کا مسافر جانتا ہے کہ حالات کبھی مکمل نہیں ہوتے۔ جو شخص روشنی کا منتظر رہے، وہ اندھیرے میں بیٹھا رہتا ہے؛ اور جو چراغ جلانا سیکھ لے، وہ اپنے حصے کی روشنی پیدا کر لیتا ہے۔
عمل کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ اسے تعریف کے بغیر بھی جاری رکھا جائے۔ آسان کام وہ ہے جسے لوگ دیکھیں اور سراہیں؛ مشکل کام وہ ہے جسے صرف خدا دیکھے اور دل مطمئن رہے۔ خالص عمل وہ ہے جو نگاہوں سے بے نیاز ہو، کیونکہ اس کی قیمت لوگوں کی زبان نہیں، نیت کی پاکیزگی طے کرتی ہے۔
جس شخص کا عمل پختہ ہو جاتا ہے، اس کے اندر ایک عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔ اسے اپنے آپ کو بار بار ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی زندگی خود اس کی گواہی بن جاتی ہے۔ درخت اپنے پھلوں کا تعارف نہیں کراتے؛ سایہ خود بتا دیتا ہے کہ وہ کتنا وسیع ہے۔
عینِ عمل انسان کو شکایت کے مقام سے ذمہ داری کے مقام تک لے جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ دنیا نے اسے کیا دیا، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ دنیا کو کیا دے سکتا ہے۔ وہ حالات کو الزام دینے کے بجائے اپنے کردار کو مضبوط کرتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ انسان کا اصل اختیار اپنی نیت، اپنی کوشش اور اپنے ردِعمل پر ہے۔
عمل کی معراج یہ نہیں کہ انسان بہت کچھ کر گزرے؛ بلکہ یہ ہے کہ جو کچھ کرے، اس میں سچائی، حسن اور اخلاص پیدا کر دے۔ ایک مخلص عمل کبھی چھوٹا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی قدر اس کے حجم سے نہیں، اس کے اندر چھپی ہوئی روح سے ہوتی ہے۔
آخرکار عینِ عمل انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں سوچ اور کردار کے درمیان فاصلہ مٹنے لگتا ہے۔ جو دل میں ہوتا ہے، وہی زندگی میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔ پھر انسان کے الفاظ اس کے اعمال کے محتاج نہیں رہتے، کیونکہ اس کا کردار خود ایک خاموش اعلان بن جاتا ہے۔
وہ جان لیتا ہے کہ راستے قدموں سے نہیں، ثابت قدمی سے طے ہوتے ہیں؛ عمارت اینٹوں سے نہیں، مسلسل تعمیر سے بنتی ہے؛ اور انسان دعووں سے نہیں، اپنے عمل کے آئینے میں پہچانا جاتا ہے۔
یہی عینِ عمل ہے؛ جہاں نیت کو پرواز ملتی ہے، ارادے کو سمت ملتی ہے، اور انسان اپنے وجود کو محض ایک امکان نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک روشن حقیقت میں بدل دیتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top