(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی کبھی تاریخ اپنے سینے میں کچھ تاریخیں محفوظ کر لیتی ہے۔ وہ تاریخیں کیلنڈر پر تو ایک عدد کی صورت لکھی ہوتی ہیں، مگر دراصل وہ انسان کے حافظے، قوم کے شعور اور آنے والی نسلوں کی آنکھوں میں ایک سوال بن کر زندہ رہتی ہیں۔ چودہ اگست بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔
یہ صرف وہ دن نہیں جب ایک خطۂ زمین نے ایک نئے نام کے ساتھ دنیا کے نقشے پر جگہ بنائی تھی؛ یہ وہ دن بھی ہے جب ایک خواب نے جغرافیہ اختیار کیا تھا۔ ایک خواب جو بے شمار ہجرتوں، بچھڑنے والوں، اجڑنے والے گھروں، خاموش قبروں اور ان گنت قربانیوں سے گزر کر حقیقت کے دروازے تک پہنچا تھا۔
مگر خواب کا جغرافیہ حاصل کر لینا، خواب کی تکمیل نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی انسان مکان بنا لیتا ہے مگر گھر نہیں بنا پاتا۔ کبھی ریاست وجود میں آ جاتی ہے مگر معاشرہ تشکیل نہیں پاتا۔ کبھی آزادی کا پرچم لہرا دیتا ہے مگر ذہن بدستور غلام رہتے ہیں۔
شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:
ہم نے پاکستان حاصل تو کر لیا، کیا ہم ابھی تک پاکستان بنانے کے مرحلے میں نہیں؟
کیونکہ ملک زمین سے بنتا ہے، مگر قوم انسان سے بنتی ہے۔
زمین ہمیں ملی تھی؛ اب انسان ہمیں بنانا ہے۔
سرحدیں نقشے پر کھینچی جا سکتی ہیں، مگر کردار کسی نقشے پر نہیں کھینچا جاتا۔ دستور کتاب میں لکھا جا سکتا ہے، مگر انصاف انسان کے باطن میں پیدا ہوتا ہے۔ ادارے عمارتوں میں قائم کیے جا سکتے ہیں، مگر ان کی روح ان لوگوں سے بنتی ہے جو ان عمارتوں میں بیٹھتے ہیں۔
اسی لیے کسی قوم کا اصل بحران کبھی صرف معاشی نہیں ہوتا، کبھی صرف سیاسی نہیں ہوتا، کبھی صرف تعلیمی نہیں ہوتا۔
اصل بحران اس وقت شروع ہوتا ہے جب ضمیر اور مفاد کے درمیان مفاد جیت جائے۔
جب سچ بولنے والا بے وقوف اور جھوٹ بولنے والا کامیاب سمجھا جانے لگے؛ جب سفارش قابلیت سے زیادہ طاقتور ہو جائے؛ جب منصب خدمت کے بجائے مراعات کا دروازہ بن جائے؛ جب قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم دکھائی دینے لگے؛ جب ہم وطن سے محبت کا دعویٰ تو کریں مگر اپنے معمولی مفاد کے لیے اسی وطن کے اجتماعی حق کو قربان کر دیں—تو پھر مسئلہ صرف نظام میں نہیں رہتا، انسان کے اندر اتر جاتا ہے۔
اور قوموں کی سب سے مشکل تعمیر وہ ہوتی ہے جو انسان کے اندر کرنی پڑے۔
پاکستان کو آج سب سے پہلے نئے منصوبوں سے زیادہ نئے انسان درکار ہیں۔
ایسے انسان جو یہ سمجھ سکیں کہ وطن سے محبت صرف اس وقت ظاہر نہیں ہوتی جب قومی پرچم ہاتھ میں ہو؛ وطن سے محبت اس وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو اور انسان پھر بھی خیانت سے انکار کر دے۔
محبِ وطن ہونا شاید یہی ہے کہ آپ اپنے حصے کا اندھیرا بڑھانے سے انکار کر دیں۔
آپ رشوت نہ لیں۔
آپ جھوٹ نہ پھیلائیں۔
آپ کسی کمزور کا حق نہ کھائیں۔
آپ اپنے منصب کو ذاتی مفاد کی سیڑھی نہ بنائیں۔
آپ اختلاف رکھنے والے کو دشمن نہ سمجھیں۔
آپ اپنے بچے کو صرف کامیاب ہونا نہیں، اچھا انسان ہونا بھی سکھائیں۔
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بظاہر معمولی ہیں، مگر قومیں انہی معمولی اعمال کے بڑے مجموعے سے بنتی ہیں۔
ہم نے آزادی کو شاید بہت عرصہ صرف سیاسی مفہوم میں دیکھا ہے۔ ہمیں آزادی کا ایک اور مفہوم دریافت کرنا ہوگا۔
آزادی صرف یہ نہیں کہ کوئی باہر سے ہم پر حکومت نہ کرے؛ آزادی یہ بھی ہے کہ ہمارے فیصلے جہالت، تعصب، خوف، لالچ اور شخصیت پرستی کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوں۔
جس ذہن کو سوال کرنے کی اجازت نہیں، وہ آزاد ذہن نہیں۔
جس معاشرے میں اختلاف کی گنجائش نہیں، وہ زندہ معاشرہ نہیں۔
جس تعلیم میں تجسس نہیں، وہ تعلیم نہیں، معلومات کی منتقلی ہے۔
اور جس قوم میں تحقیق کا چراغ بجھ جائے، وہ اپنی قسمت کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔
دنیا بدل چکی ہے۔
آج جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں؛ علم میں لڑی جاتی ہیں، ٹیکنالوجی میں لڑی جاتی ہیں، معیشت میں لڑی جاتی ہیں، مصنوعی ذہانت میں لڑی جاتی ہیں، تحقیق گاہوں میں لڑی جاتی ہیں اور ان ذہنوں میں لڑی جاتی ہیں جو مستقبل کو آج سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس دنیا میں پاکستان کا سب سے بڑا دفاع صرف ہتھیار نہیں، بیدار ذہن ہیں۔
ہمیں ایسے اسکول چاہییں جہاں بچے صرف یہ نہ سیکھیں کہ جواب کیا ہے، بلکہ یہ بھی سیکھیں کہ سوال کیسے پیدا ہوتا ہے۔
ایسی جامعات چاہییں جہاں ڈگریاں نہیں، دریافتیں پیدا ہوں۔
ایسی لیبارٹریاں چاہییں جہاں نوجوان دوسروں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے بجائے نئی ٹیکنالوجی بنائیں۔
ایسی معیشت چاہیے جہاں نوجوان روزگار مانگنے والوں کی قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
کیونکہ جس قوم کا نوجوان صرف نوکری ڈھونڈتا ہے، وہ معیشت کا حصہ بنتا ہے؛ مگر جو نوجوان مسئلہ حل کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ معیشت کی سمت بدل سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس سب سے قیمتی سرمایہ شاید اس کے معدنی ذخائر نہیں، اس کے دریا نہیں، اس کے کھیت نہیں۔
اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نوجوان ذہن ہیں۔
مگر نوجوان صرف عمر کا نام نہیں؛ نوجوانی دراصل امکان کا نام ہے۔
اور امکان اگر علم سے نہ جڑے تو ہجوم بن جاتا ہے۔
اسی لیے ہمارے نوجوانوں کو صرف روزگار نہیں، سمت چاہیے؛ صرف ڈگری نہیں، بصیرت چاہیے؛ صرف انٹرنیٹ نہیں، فکری تربیت چاہیے۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو آواز دے دی ہے، مگر آواز مل جانا اور بات میں وزن پیدا ہو جانا دو الگ چیزیں ہیں۔
آج ایک جھوٹ سیکنڈوں میں ہزاروں ذہنوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک الزام کسی انسان کی برسوں کی عزت مٹا سکتا ہے۔ ایک نفرت انگیز جملہ معاشرے میں وہ دراڑ پیدا کر سکتا ہے جسے بھرنے میں نسلیں لگ جائیں۔
اس لیے ڈیجیٹل دور کا باشعور شہری وہ نہیں جو ہر خبر سب سے پہلے پہنچا دے؛ بلکہ وہ ہے جو ہر خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی سچائی جانچ لے۔
آزادیِ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی پیدا ہوتی ہے۔
زبان آزاد ہو تو کردار پابند ہونا چاہیے۔
قلم آزاد ہو تو ضمیر بیدار ہونا چاہیے۔
اور انگلیاں جب موبائل کی اسکرین پر چلیں تو ذہن میں یہ احساس بھی زندہ رہنا چاہیے کہ دوسری طرف بھی ایک انسان ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان نہیں بنانا جہاں سب ایک دوسرے سے متفق ہوں۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو انسان سمجھتے رہیں۔
کیونکہ اختلاف قوم کو نہیں توڑتا؛ ناانصافی توڑتی ہے۔
زبانوں کا فرق قوم کو نہیں توڑتا؛ حق تلفی توڑتی ہے۔
ثقافتوں کا تنوع کمزوری نہیں؛ تعصب کمزوری ہے۔
پاکستان کی خوب صورتی اس کی یکسانیت میں نہیں، اس کے تنوع میں ہے۔ یہ ملک ایک ہی رنگ کا کپڑا نہیں؛ یہ مختلف رنگوں سے بنی ہوئی ایک ایسی چادر ہے جس کی خوب صورتی اسی وقت قائم رہتی ہے جب ہر رنگ کو اپنی جگہ عزت ملے۔
لیکن رنگوں کی یہ خوب صورتی انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔
جہاں میرٹ مر جاتا ہے وہاں امید بھی مرنے لگتی ہے۔
ایک نوجوان جب اپنی قابلیت کے باوجود یہ محسوس کرے کہ اس کے سامنے سفارش کھڑی ہے، تو صرف ایک فرد مایوس نہیں ہوتا؛ ایک پوری نسل کا اعتماد زخمی ہوتا ہے۔
اس لیے میرٹ صرف نوکری دینے کا اصول نہیں؛ یہ قوم کو امید دینے کا نام ہے۔
اور امید کسی بھی ریاست کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔
معیشت بھی اسی امید سے بنتی ہے۔
ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جو دنیا سے تعلق رکھے مگر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ جو تجارت کرے مگر اپنی پیداوار پیدا کرے۔ جو قرض لے تو ضرورت کے تحت، مگر مستقبل قرض کے سہارے نہ بنائے۔ جو اپنی زمین سے صرف فصل نہ اگائے بلکہ علم، ٹیکنالوجی اور قدر بھی پیدا کرے۔
ہمیں کسان کو صرف زمین کا آدمی نہیں، جدید معیشت کا شراکت دار سمجھنا ہوگا۔
ہمیں مزدور کے ہاتھ کو صرف محنت کا ذریعہ نہیں، قومی پیداوار کی بنیاد سمجھنا ہوگا۔
ہمیں صنعت کار کو صرف سرمایہ رکھنے والا نہیں، روزگار اور جدت پیدا کرنے والا قومی کردار سمجھنا ہوگا۔
اور ہمیں اپنے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو صرف زرِمبادلہ بھیجنے والے نہیں، علم، تجربے، سرمایہ اور عالمی روابط کے سفیر سمجھنا ہوگا۔
دنیا میں عزت مانگی نہیں جاتی؛ پیدا کی جاتی ہے۔
اور قوموں کی عزت ان کے نعروں سے نہیں، ان کے کردار، علم، انصاف اور پیداوار سے بنتی ہے۔
پھر ایک دن آتا ہے جب دنیا آپ کے بارے میں وہی بات کہتی ہے جو آپ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے۔
ہمیں وہ دن لانا ہے۔
مگر یہ دن صرف حکومت نہیں لا سکتی۔
کوئی ایک جماعت نہیں لا سکتی۔
کوئی ایک ادارہ نہیں لا سکتا۔
کوئی ایک لیڈر نہیں لا سکتا۔
یہ دن تب آئے گا جب کروڑوں لوگ اپنے اپنے چھوٹے دائرے میں ایک بڑا فیصلہ کریں گے:
میں خرابی کا حصہ نہیں بنوں گا۔
ایک استاد کہے گا: میں اپنے طالب علم کی آنکھ میں سوال زندہ رکھوں گا۔
ایک ڈاکٹر کہے گا: میں مریض کو انسان سمجھوں گا۔
ایک تاجر کہے گا: میں نفع کماؤں گا مگر اعتماد نہیں بیچوں گا۔
ایک افسر کہے گا: میں اختیار کو امانت سمجھوں گا۔
ایک سیاست دان کہے گا: میں اختلاف کو دشمنی نہیں بناؤں گا۔
ایک صحافی کہے گا: میں خبر کو سنسنی سے زیادہ سچائی دوں گا۔
ایک نوجوان کہے گا: میں اپنی انگلیوں سے صرف تبصرے نہیں، مستقبل تخلیق کروں گا۔
اور ایک عام شہری کہے گا:
میں جہاں کھڑا ہوں، وہاں پاکستان کو تھوڑا سا بہتر چھوڑ کر جاؤں گا۔
شاید یہی قومی تعمیر کی سب سے حقیقی تعریف ہے۔
ہم ہر خرابی کو ایک دن میں ختم نہیں کر سکتے، مگر ایک خرابی کو اپنے اندر ختم کر سکتے ہیں۔
ہم پورے معاشرے کو فوراً نہیں بدل سکتے، مگر اپنے گھر کا ماحول بدل سکتے ہیں۔
ہم پوری نسل کو تعلیم نہیں دے سکتے، مگر ایک بچے کے ذہن میں روشنی رکھ سکتے ہیں۔
ہم پورا نظام نہیں بدل سکتے، مگر اپنے اختیار کے دائرے میں انصاف کر سکتے ہیں۔
اور کبھی کبھی تاریخ کا رخ کسی بہت بڑے منصوبے سے نہیں بدلتا؛
ایک چھوٹے سے درست عمل کی مسلسل تکرار سے بدلتا ہے۔
اس لیے چودہ اگست پر صرف یہ نہ کہیں کہ پاکستان زندہ باد۔
اپنے عمل سے یہ ثابت بھی کریں کہ پاکستان آپ کے اندر زندہ ہے۔
اگر آپ کے اندر سچ زندہ ہے تو پاکستان زندہ ہے۔
اگر آپ کے اندر انصاف زندہ ہے تو پاکستان زندہ ہے۔
اگر آپ کے اندر علم کی پیاس زندہ ہے تو پاکستان زندہ ہے۔
اگر آپ کے اندر دوسرے انسان کے لیے احترام زندہ ہے تو پاکستان زندہ ہے۔
اگر آپ کے اندر اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ زندہ ہے تو پاکستان زندہ ہے۔
اور اگر آپ اپنے حصے کی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں تو پھر لاکھوں پرچم بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے جو تاریخ ہم سے پوچھ رہی ہے۔
کیونکہ پاکستان صرف ایک ریاست کا نام نہیں۔
پاکستان ایک ذمہ داری کا نام ہے۔
یہ ان لوگوں کی امانت ہے جو اس دنیا سے چلے گئے اور ہمیں ایک خواب دے گئے۔
یہ ان بچوں کا حق ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔
یہ ان نوجوانوں کی امید ہے جو آج ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔
اور شاید یہ ہماری نسل کا آخری امتحان بھی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو صرف ایک ملک دیں گے یا ایک ایسا ملک بھی دیں گے جس پر انہیں فخر ہو۔
چودہ اگست کی اصل صبح تب طلوع ہوگی جب ہمارے شہروں میں روشنی سے زیادہ ضمیر روشن ہوں گے۔
جب ہمارے اسکولوں میں عمارتوں سے زیادہ ذہن تعمیر ہوں گے۔
جب ہماری عدالتوں میں مقدمات سے زیادہ انصاف کی قدر ہوگی۔
جب ہمارے بازاروں میں قیمت سے زیادہ اعتماد ہوگا۔
جب ہماری سیاست میں اقتدار سے زیادہ خدمت ہوگی۔
جب ہمارے نوجوانوں کے خواب ہجرت کا راستہ ڈھونڈنے کے بجائے تخلیق کا راستہ تلاش کریں گے۔
اور جب ایک عام پاکستانی صبح گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچے گا کہ آج مجھے اپنے ملک سے کچھ لینا نہیں، کچھ دینا ہے۔
تب شاید وہ خواب، جس نے ایک دن پاکستان کو جنم دیا تھا، اپنی اگلی منزل پا لے۔
تب چودہ اگست صرف ایک قومی جشن نہیں ہوگا۔
وہ ایک شعوری انقلاب کی علامت ہوگا۔
تب ہم صرف یہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں آزادی ملی تھی۔
ہم یہ بھی کہہ سکیں گے:
ہم نے آزادی کو کردار دیا۔
ہم نے اسے علم دیا۔
ہم نے اسے انصاف دیا۔
ہم نے اسے محنت دی۔
ہم نے اسے تہذیب دی۔
ہم نے اسے انسان دیا۔
اور پھر شاید تاریخ کی کسی خاموش شام میں پاکستان اپنے لوگوں سے یہ نہ پوچھے کہ:
“تم نے مجھ سے کیا پایا؟”
بلکہ وہ مطمئن ہو کر یہ کہے:
“تم نے مجھے کیا بنا دیا!”
یہی وہ دن ہوگا جب ایک خواب، صرف نقشے پر نہیں بلکہ انسان کے کردار میں مکمل ہوگا۔
اور اس دن پاکستان کا پرچم صرف ہوا میں نہیں لہرا رہا ہوگا
وہ کروڑوں زندہ ضمیروں کے اندر لہرا رہا ہوگا۔
پاکستان زندہ باد۔
