حرفِ کُن کے متلاشی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان نے جب پہلی بار آسمان کی طرف دیکھا ہوگا تو شاید اس کے پاس کوئی زبان نہیں تھی، مگر اس کے اندر ایک سوال ضرور پیدا ہوا ہوگا۔
یہ سب کیا ہے؟
یہ روشنی کہاں سے آئی؟
یہ زندگی کس حکم سے نمودار ہوئی؟
اور میں کون ہوں؟
شاید انسانی شعور کی پہلی جنبش ہی تلاشِ حقیقت تھی۔ پھر یہی تلاش کبھی فلسفہ بنی، کبھی دعا، کبھی سجدہ، کبھی شعر اور کبھی قلم۔
انسان ازل سے حرفِ کُن کے راز کا متلاشی ہے۔
وہ اس ایک حکم کے مفہوم تک پہنچنا چاہتا ہے جس سے عدم میں امکان پیدا ہوا، خاموشی میں آواز آئی، تاریکی میں روشنی اتری اور مٹی نے انسان کا روپ اختیار کیا۔
مگر حرفِ کُن کا راز صرف کتابوں کے صفحات میں نہیں ملتا۔
کبھی یہ راز ایک تنہا رات میں کھلتا ہے، جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے اور ایک انسان اپنے رب کے سامنے جھکا ہوتا ہے۔
کبھی تہجد کے اندھیرے میں۔
کبھی آنکھ سے بے اختیار بہنے والے آنسو میں۔
کبھی کسی مظلوم کی آہ سن کر بے چین ہو جانے والے دل میں۔
اور کبھی اس لمحے جب انسان اپنی تمام علمی بڑائی، اپنی کامیابی، اپنی انا اور اپنے دعوے ایک طرف رکھ کر اعتراف کرتا ہے:
میں جانتا بہت کم ہوں۔
شاید معرفت کی پہلی سیڑھی یہی اعتراف ہے۔
انسان جتنا اپنے علم پر فخر کرتا ہے، حقیقت اتنی ہی اس سے دور ہوتی جاتی ہے۔
اور جب وہ اپنی کم مائیگی تسلیم کرتا ہے تو حقیقت اس کے قریب آنے لگتی ہے۔
اسی لیے شکستگی میں ایک عجیب روشنی ہوتی ہے۔
جو دل کبھی ٹوٹا ہی نہ ہو، اسے دوسرے کے درد کا اندازہ کیسے ہوگا؟
جو انسان کبھی اپنی کمزوری سے نہ گزرا ہو، وہ کسی دوسرے کے آنسو کی زبان کیسے سمجھے گا؟
جو شخص اپنے اندر کے اندھیروں سے واقف نہ ہو، وہ دوسروں کے لیے چراغ کیسے بنے گا؟
کامل ہونے کا دعویٰ انسان کو اکثر بے حس بنا دیتا ہے۔
ناتمام ہونا، شاید انسان ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
ہم سب کہیں نہ کہیں ٹوٹے ہوئے ہیں۔
کسی کے اندر ماضی کی کرچیاں ہیں، کسی کے اندر جدائی کا موسم، کسی کے اندر ناکامی کی خاموشی اور کسی کے اندر ایسی جنگ جس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرتا۔
مگر شاید انسان کی خوب صورتی یہی ہے کہ وہ اپنی شکستگی کے باوجود محبت کر سکتا ہے۔
ٹوٹ کر بھی کسی کو سہارا دے سکتا ہے۔
خود خالی ہو کر بھی کسی کے لیے دعا کر سکتا ہے۔
اور اپنے زخم چھپا کر کسی دوسرے کے زخم پر ہاتھ رکھ سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض جاندار نہیں رہتا۔
وہ آدم بنتا ہے۔
اور آدمیت کی حفاظت صرف قانون نہیں کرتا۔
اس کی حفاظت کبھی کبھی ایک کتاب کرتی ہے۔
ایک شعر کرتا ہے۔
ایک سچا جملہ کرتا ہے۔
اور کبھی ایک ایسا قلم کرتا ہے جو سچ لکھنے کی قیمت جانتا ہو، مگر پھر بھی سچ لکھتا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ اہلِ قلم کسی بھی معاشرے کی ظاہری نہیں، باطنی سرحدوں کے محافظ ہوتے ہیں۔
سپاہی سرحد پر کھڑا ہو کر دشمن کو روکتا ہے۔
ادیب انسان کے اندر اتر کر اس دشمن کو پہچانتا ہے جو خاموشی سے انسان کے اندر گھر بنا رہا ہوتا ہے۔
وہ دشمن کبھی جہالت ہوتا ہے۔
کبھی تعصب۔
کبھی خود غرضی۔
کبھی نفرت۔
کبھی دولت کا غرور۔
اور کبھی یہ خطرناک خیال کہ انسان کی قیمت اس کے پاس موجود چیزوں سے طے ہوتی ہے۔
ادیب اس جھوٹ کے سامنے قلم اٹھاتا ہے۔
وہ یاد دلاتا ہے کہ انسان کی قیمت اس کے لباس، عہدے، بینک اکاؤنٹ، شہرت یا طاقت سے نہیں ہوتی۔
انسان اس لیے قیمتی ہے کہ اس کے اندر ایک ایسا باطن ہے جو محبت کر سکتا ہے، درد محسوس کر سکتا ہے، توبہ کر سکتا ہے، خواب دیکھ سکتا ہے اور اپنے خالق کو پہچاننے کی جستجو کر سکتا ہے۔
اسی لیے سچا قلم صرف الفاظ نہیں لکھتا۔
وہ انسان کو انسان کے سامنے دوبارہ دریافت کرتا ہے۔
مگر آج کا عہد عجیب ہے۔
ہمارے پاس معلومات پہلے سے زیادہ ہیں، مگر معرفت کم ہوتی جا رہی ہے۔
رابطے پہلے سے زیادہ ہیں، مگر تعلق کم ہوتے جا رہے ہیں۔
آوازیں پہلے سے زیادہ ہیں، مگر سننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
کتابیں پہلے سے زیادہ شائع ہو رہی ہیں، مگر کتاب پڑھنے کی فرصت کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہم نے دنیا کو اپنے ہاتھ کی اسکرین پر سمیٹ لیا ہے، مگر اپنے اندر کی دنیا سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہی ہمارے عہد کا اصل المیہ ہے۔
انسان نے کائنات کو تو فتح کرنا شروع کر دیا، مگر خود کو کھونا شروع کر دیا۔
بازار اب صرف بازار میں نہیں رہا۔
وہ ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔
ہماری خواہشوں میں۔
ہماری گفتگو میں۔
ہماری پسند ناپسند میں۔
حتیٰ کہ بعض اوقات ہماری دوستیوں اور رشتوں میں بھی۔
ہر چیز کی قیمت پوچھی جا رہی ہے۔
مگر ہر چیز کی قیمت نہیں ہوتی۔
ماں کی دعا کی کوئی قیمت نہیں۔
باپ کی شفقت کی کوئی قیمت نہیں۔
دوست کی وفا کی کوئی قیمت نہیں۔
کسی اجنبی کی بے غرض مدد کی کوئی قیمت نہیں۔
کسی مظلوم کے لیے بہایا جانے والا آنسو کسی بازار میں فروخت نہیں ہوتا۔
اور کسی سچے قلم کی حرمت کو بھی کسی کرنسی میں نہیں تولا جا سکتا۔
جب معاشرہ ہر چیز کو قیمت میں ناپنے لگتا ہے تو سب سے پہلے وہ ان چیزوں کو کھو دیتا ہے جن کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
اور پھر ایک دن انسان خود بھی ایک قابلِ خرید و فروخت شے بن جاتا ہے۔
اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا؟
ایک زمانہ تھا جب کتابیں انسان کے اندر چراغ جلاتی تھیں۔
آج کبھی کبھی کتاب بھی صرف سجاوٹ بن جاتی ہے۔
وہی معاشرہ جو میر، غالب، اقبال، فیض اور دوسرے اہلِ فکر کی کتابوں کو اپنی تہذیبی میراث سمجھتا تھا، اگر ایک دن انہی کتابوں کو فٹ پاتھ پر بے اعتنائی سے پڑا دیکھے تو سمجھ لینا چاہیے کہ صرف کتابیں نہیں گریں۔
ایک تہذیبی حافظہ زخمی ہوا ہے۔
کتاب کا خاک میں پڑا ہونا اتنا افسوس ناک نہیں جتنا یہ کہ کوئی اسے اٹھانے کے لیے جھکے بھی نہیں۔
کیونکہ کتاب دراصل کاغذ نہیں۔
کتاب انسان کی صدیوں کی سوچ کا محفوظ حافظہ ہے۔
ایک کتاب اٹھانا کبھی کبھی ایک پورا عہد اٹھانا ہوتا ہے۔
اسی لیے جس معاشرے میں کتاب کی قدر ختم ہو جائے، وہاں سوال کی قدر بھی ختم ہونے لگتی ہے۔
اور جہاں سوال مر جائے، وہاں فکر مر جاتی ہے۔
اور جہاں فکر مر جائے، وہاں انسان صرف ہجوم رہ جاتا ہے۔
ہجوم سوچتا نہیں۔
ہجوم صرف ردِعمل دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دجالی عہد اپنی اصل طاقت دکھاتا ہے۔
دجال کو اگر محض ایک خارجی کردار کے طور پر دیکھا جائے تو شاید ہم اس تصور کے سب سے گہرے فکری پہلو سے محروم رہ جائیں۔
دجالی فتنہ صرف آنکھوں کو دھوکا دینے کا نام نہیں۔
یہ حقیقت کے بجائے دکھائی دینے والی چیز کو حقیقت سمجھ لینے کا فتنہ بھی ہے۔
وہ عہد جہاں جھوٹ خوب صورت پیکج میں سچ سے زیادہ قابلِ قبول ہو جائے۔
جہاں شور دلیل پر غالب آ جائے۔
جہاں شہرت کردار سے بڑی ہو جائے۔
جہاں مقبولیت صداقت کا معیار بن جائے۔
جہاں انسان اپنی اصل سے زیادہ اپنی نمائش میں دلچسپی لینے لگے۔
اور جہاں سچ بولنے سے زیادہ اہم یہ ہو جائے کہ کتنے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ وہ زمانہ ہے جس میں قلم کی ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔
کیونکہ جب آئینے بھی چہروں کو خوش کرنے لگیں تو قلم کو حقیقت دکھانی پڑتی ہے۔
جب زبانیں مصلحت کا لباس پہن لیں تو قلم کو بے لباس سچ لکھنا پڑتا ہے۔
جب ہر طرف شور ہو تو قلم کو خاموش حقیقت کی آواز بننا پڑتا ہے۔
مگر ہر لکھنے والا اہلِ قلم نہیں ہوتا۔
قلم ہاتھ میں ہونا اور قلم کی حرمت جاننا دو الگ باتیں ہیں۔
لفظوں کا ذخیرہ ہونا اور لفظوں کا اخلاق جاننا دو الگ چیزیں ہیں۔
ایک شخص ہزاروں صفحات لکھ سکتا ہے اور پھر بھی انسان کے دکھ سے بے خبر رہ سکتا ہے۔
اور دوسرا شخص چند سطریں لکھ کر کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جگا سکتا ہے۔
اصل قلم وہ ہے جس کے پیچھے ضمیر کھڑا ہو۔
وہ قلم جو طاقتور کے سامنے جھک جائے اور کمزور کے لیے فلسفے لکھے، قلم نہیں، تجارت ہے۔
وہ قلم جو سچ جانتے ہوئے خاموش رہے، کبھی کبھی جھوٹ بولنے والے قلم سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
کیونکہ جھوٹ بولنے والا کم از کم اپنا چہرہ دکھا رہا ہوتا ہے؛ خاموش قلم اپنے دامن کو پاک سمجھنے کا فریب دے سکتا ہے۔
اہلِ قلم کا کام صرف تنقید کرنا نہیں۔
ان کا کام انسان کے اندر انسان کو بچانا ہے۔
جب دنیا بے رحم ہو تو ادب کو رحم یاد دلانا ہے۔
جب زمانہ نفرت سے بھر جائے تو شعر کو محبت کی زبان بننا ہے۔
جب لوگ ایک دوسرے کو استعمال کرنے لگیں تو کہانی کو تعلق کی حرمت یاد دلانی ہے۔
جب انسان اپنی کامیابی کے نشے میں دوسروں کو بھول جائے تو فلسفہ اسے فنا کی حقیقت دکھائے۔
اور جب طاقتور یہ سمجھنے لگے کہ اس کی طاقت ابدی ہے تو تاریخ اسے یاد دلائے کہ تخت ہمیشہ قبرستان کے کنارے سے گزرتے ہیں۔
یہی ادب کی اصل طاقت ہے۔
ادب حکومت نہیں کرتا۔
مگر حکومت کرنے والوں کے ضمیر کو آئینہ دکھا سکتا ہے۔
ادب قانون نہیں بناتا۔
مگر قانون بنانے والے انسان کو انسان رہنے کی یاد دلا سکتا ہے۔
ادب دنیا نہیں بدلتا۔
مگر دنیا بدلنے والے انسان کے اندر کچھ بدل سکتا ہے۔
اور کبھی کبھی یہی کافی ہوتا ہے۔
سقراط اسی لیے آج بھی زندہ ہے۔
اس کے پاس کوئی سلطنت نہیں تھی۔
کوئی فوج نہیں تھی۔
کوئی خزانہ نہیں تھا۔
اس کے پاس صرف سوال تھا۔
اور سوال سے زیادہ خطرناک چیز شاید کوئی نہیں ہوتی۔
کیونکہ سوال تخت سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
سوال بتاتا ہے کہ جو کچھ ہمیں حقیقت بتایا جا رہا ہے، شاید حقیقت اس سے مختلف ہو۔
اسی لیے ہر عہد میں سقراط کو تنہا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
ہر دور میں سوال کرنے والوں کو خاموش کرانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
اور ہر دور میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی کو اپنی حفاظت سمجھتے ہیں۔
مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ کبھی کبھی خاموش رہنے والے محفوظ رہ جاتے ہیں، مگر ان کے بعد آنے والی نسلیں محفوظ نہیں رہتیں۔
اس لیے قلم کو زندہ رہنا ہوگا۔
مگر صرف لکھنے کے لیے نہیں۔
انسان کو بچانے کے لیے۔
ہمیں ایسے قلم کی ضرورت ہے جو انسان کو اس کی مٹی بھی یاد دلائے اور آسمان بھی۔
جو اسے اس کی فنا دکھائے مگر اس کی معنویت بھی۔
جو اسے اس کی کمزوری بتائے مگر اس کے اندر موجود امکان بھی۔
جو اسے دنیا سے بے رغبت نہ کرے بلکہ دنیا کو صحیح نسبت سے دیکھنا سکھائے۔
کیونکہ مسئلہ دنیا کا ہونا نہیں۔
مسئلہ دنیا کا انسان کے اندر خدا سے بڑا ہو جانا ہے۔
جب مال وسیلہ سے منزل بن جائے، شہرت مقصد بن جائے، اقتدار عبادت بن جائے اور خواہش خدا بن جائے تو انسان بظاہر کامیاب ہو کر بھی اندر سے فقیر ہو جاتا ہے۔
اور شاید اسی لیے آج ہمیں نئے قلم سے زیادہ نئے باطن کی ضرورت ہے۔
ایسا باطن جو سجدے میں نرم ہو۔
ایسا ذہن جو سوال میں زندہ ہو۔
ایسا دل جو مظلوم کے درد سے بے چین ہو۔
اور ایسا قلم جو سچ لکھتے ہوئے اپنے ہی خلاف لکھنے سے نہ ڈرے۔
یہی حرفِ کُن کی طرف جانے والا راستہ ہے۔
شاید حرفِ کُن کا راز کائنات کے باہر نہیں، انسان کے اندر چھپا ہے۔
جب انسان اپنے اندر سے نفرت کا ایک پتھر ہٹاتا ہے، ایک روشنی پیدا ہوتی ہے۔
جب وہ تکبر چھوڑتا ہے، ایک دروازہ کھلتا ہے۔
جب وہ کسی مظلوم کے لیے کھڑا ہوتا ہے، آدمیت کا ایک چراغ جلتا ہے۔
جب وہ سچ لکھتا ہے، باطل کے اندھیرے میں ایک لکیر پڑتی ہے۔
اور جب ایک انسان دوسرے انسان کو صرف انسان سمجھ کر اس کے ساتھ رحم کرتا ہے، تو شاید وہ اس تخلیقی حکم کی ایک معمولی سی جھلک اپنے کردار میں ظاہر کر دیتا ہے جس نے کائنات کو وجود بخشا تھا۔
اس لیے آج ضرورت صرف اچھی تحریروں کی نہیں۔
اچھے انسانوں کی تحریر کی ہے۔
ایسے لفظ جو کاغذ پر ختم نہ ہوں بلکہ کردار میں اتر جائیں۔
ایسا ادب جو کتاب بند ہونے کے بعد بھی قاری کے اندر کھلا رہے۔
ایسا قلم جو ہاتھ میں نہ رہے بلکہ ضمیر میں اتر جائے۔
اور ایسی فکر جو انسان کو بڑا عالم بنانے سے پہلے بڑا انسان بنائے۔
کیونکہ آنے والے زمانے کا سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں ہوگا کہ انسان نے کتنی مشینیں بنا لیں۔
سوال یہ ہوگا:
کیا مشینیں بناتے بناتے انسان اپنے اندر کے انسان کو بچا سکا؟
اگر جواب ہاں ہے تو تہذیب زندہ ہے۔
اگر جواب نہیں، تو پھر ہماری تمام ترقی صرف ایک خوب صورت عمارت ہے جس کے اندر چراغ بجھ چکے ہیں۔
اس لیے اہلِ قلم!
اپنے قلم کو معمولی نہ سمجھو۔
یہ صرف روشنائی نہیں۔
یہ امانت ہے۔
یہ آنے والی نسلوں کے لیے گواہی ہے۔
یہ اپنے عہد کے چہرے پر رکھا ہوا آئینہ ہے۔
یہ انسانیت کے آخری چراغوں میں سے ایک ہے۔
اسے بازار میں مت بیچو۔
اسے مصلحت کے ہاتھ گروی مت رکھو۔
اسے شہرت کے عوض خاموش مت کرو۔
اسے نفرت کا ہتھیار مت بناؤ۔
اور اسے صرف لفظوں کی نمائش بھی نہ بناؤ۔
اسے آدمیت کی حفاظت کے لیے استعمال کرو۔
کیونکہ شاید آنے والے زمانے میں جب بہت سے مصنوعی چراغ بجھ جائیں گے، جب شور تھک جائے گا، جب بازار اپنے ہی شور میں ڈوب جائے گا اور جب انسان اپنے بنائے ہوئے آئینوں میں اپنا اصل چہرہ تلاش کرے گا، تب کوئی ایک سچا جملہ کہیں سے اٹھے گا۔
وہ جملہ شاید بہت مختصر ہوگا۔
مگر اس میں پوری انسانیت کی گواہی ہوگی:
ابھی انسان باقی ہے۔
اور جب تک یہ جملہ لکھنے والا ایک قلم، اسے پڑھ کر محسوس کرنے والا ایک دل، اور اس کے مطابق جینے والا ایک انسان دنیا میں موجود ہے—
تب تک آدمیت کی شکست مکمل نہیں ہوئی۔
تب تک حرفِ کُن کی تلاش بھی جاری ہے،
اور انسان ہونے کا سفر بھی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top