(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی روح کا سب سے بلند سفر اپنی ذات کو بڑا ثابت کرنے کا نہیں، بلکہ اپنی حقیقت کو پہچان لینے کا سفر ہے۔ جب تک انسان اپنے وجود کو مرکز سمجھتا رہتا ہے، وہ خواہشوں، توقعات اور اپنی اہمیت کے احساس کے حصار میں رہتا ہے؛ لیکن جس لمحے اسے اپنی اصل نسبت کا ادراک ہو جاتا ہے، وہاں سے عبودیت کا راستہ کھلتا ہے۔
عبودیت صرف بندہ ہونے کا اقرار نہیں، بلکہ بندگی کے شعور میں جینے کا نام ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنی ہستی کو بوجھ نہیں سمجھتا، بلکہ ایک امانت سمجھتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر غرور نہیں کرتا، اپنی کمزوریوں پر مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا وجود اپنی ذات سے نہیں، ایک اعلیٰ حکمت سے وابستہ ہے۔
انسان کی سب سے بڑی قید اس کا اپنا “میں” ہے۔ یہی “میں” کبھی اسے دوسروں سے بلند دکھاتی ہے، کبھی اپنی خواہشوں کا غلام بنا دیتی ہے، کبھی اسے تعریف کا بھوکا اور کبھی اختیار کا طلبگار بنا دیتی ہے۔ عبودیت اسی “میں” کے بت کو خاموش کرنے کا نام ہے۔ جب نفس کا شور کم ہوتا ہے تو بندگی کی حقیقت روشن ہونے لگتی ہے۔
عبد وہ نہیں جو صرف اپنی زبان سے اپنی نسبت بیان کرے؛ عبد وہ ہے جس کی پوری زندگی اس نسبت کی گواہی بن جائے۔ اس کے فیصلوں میں عاجزی ہو، اس کے اختیار میں امانت ہو، اس کے رویوں میں رحم ہو، اور اس کے دل میں اپنے رب کی رضا سب سے بلند ہو۔
عبودیت انسان کو مٹاتی نہیں، اسے پاکیزہ بناتی ہے۔ جیسے سونا آگ سے گزر کر اپنی میل کچیل سے پاک ہوتا ہے، ویسے ہی بندگی کے سفر میں انسان اپنے اندر چھپی ہوئی خود پسندی، حسد، حرص اور بے جا خواہشوں سے نجات پانے لگتا ہے۔ یہ فنا نیستی نہیں، بلکہ غیر ضروری چیزوں سے آزادی ہے۔
اس مقام پر انسان دوسروں کی نگاہ میں بڑا بننے کی خواہش سے آزاد ہونے لگتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل قدر شہرت میں نہیں، نسبت میں ہے؛ اصل بلندی اختیار میں نہیں، اطاعت میں ہے؛ اور اصل آزادی ہر خواہش پوری ہونے میں نہیں، بلکہ خواہشوں کے غلام نہ رہنے میں ہے۔
عبودیت کا راستہ انسان کو ایک عجیب وسعت عطا کرتا ہے۔ جو شخص اپنے رب کے سامنے جھکنا سیکھ لیتا ہے، اس کے دل میں مخلوق کے لیے جگہ پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ انتقام کے بجائے درگزر کو، سختی کے بجائے نرمی کو، اور خود نمائی کے بجائے اخلاص کو اختیار کرنے لگتا ہے۔
اہلِ معرفت کے نزدیک بندگی کا حسن یہ نہیں کہ انسان اپنی نیکیوں کا شمار کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو بھی اپنے رب کا فضل سمجھے۔ کیونکہ جس دل میں عطا کا شعور پیدا ہو جائے، وہاں دعوے کم اور شکر زیادہ ہو جاتا ہے۔
عبودیت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ بندہ اپنی زندگی کے ہر حال کو ایک تربیت سمجھنے لگتا ہے۔ آسانی آئے تو شکر کرتا ہے، آزمائش آئے تو صبر کی تلاش کرتا ہے، محرومی آئے تو حکمت تلاش کرتا ہے۔ وہ حالات کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ ہر حالت میں اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کرنے لگتا ہے۔
یہ مقام انسان کو لوگوں سے دور نہیں کرتا، بلکہ اسے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند بنا دیتا ہے۔ کیونکہ جس دل نے اپنے رب کے سامنے عاجزی سیکھی ہو، وہ مخلوق کے سامنے تکبر نہیں کر سکتا۔ جس نے اپنی کمزوری پہچانی ہو، وہ دوسروں کی کمزوریوں پر ہنس نہیں سکتا۔
عبودیت کی انتہا یہ ہے کہ بندہ اپنی ذات کے دعوے کم کر دیتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کے مشاہدے بڑھا دیتا ہے۔ وہ اپنے عمل پر اترانے کے بجائے اپنے رب کے کرم پر بھروسا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ راستہ اس کے زور سے نہیں، رب کی توفیق سے طے ہوتا ہے۔
پھر زندگی کا ہر لمحہ ایک امانت محسوس ہونے لگتا ہے۔ گفتگو بھی ذمہ داری بن جاتی ہے، خاموشی بھی، تعلق بھی، تنہائی بھی۔ انسان یہ جان لیتا ہے کہ بندگی مسجد کی حدود تک محدود نہیں؛ یہ تو پورے وجود کا ایک انداز ہے۔
عبودیت میں انسان اپنے آپ کو کھوتا نہیں، بلکہ اپنی اصل پہچان پاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ سب سے بڑی عزت کسی کے سامنے سر بلند رکھنے میں نہیں، بلکہ اس ذات کے سامنے سر جھکانے میں ہے جس نے اسے وجود عطا کیا۔
اور جب یہ کیفیت دل میں اترتی ہے تو بندہ اپنے رب کا محتاج ہونے پر شرمندہ نہیں ہوتا، بلکہ اسی محتاجی کو اپنی سب سے بڑی دولت سمجھنے لگتا ہے۔
یہی عینِ عبودیت ہے؛ جہاں انسان اپنی ذات کے بوجھ سے آزاد ہو کر بندگی کی روشنی میں داخل ہوتا ہے، جہاں “میں” کی دیواریں گرتی ہیں اور “عبد” کی حقیقت ظاہر ہونے لگتی ہے۔
یہاں بندہ کچھ بننے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اپنے اصل مقام کو پہچان لیتا ہے۔
اور یہی پہچان اسے اس سفر کی آخری منزل کی طرف لے جاتی ہے؛ جہاں نسبت، معرفت میں بدلتی ہے اور معرفت، حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
