سکتۂ شعور اور کانچ کے نوحے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

سائنس کا گمان ہے کہ سانس کا ٹوٹنا موت ہے، مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان تب مرتا ہے جب اس کے اندر بیداری کا چراغ بجھ جائے۔ جسم کا لہو بہہ جائے تو مٹی سُرخ ہوتی ہے، لیکن اگر شعور بہہ جائے تو پوری کائنات بے رنگ ہو جاتی ہے۔ مرنے والے تو خیر خاک کے سپرد ہو کر خاموش ہو جاتے ہیں، مگر اصل حشر تب برپا ہوتا ہے جب لفظ اپنے صحیح وقت پر ادا ہونے سے مکر جائیں۔ تاخیر سے بولا گیا سچ ایک ایسا خنجر ہے جو قاتل نہیں، بلکہ مقتول کے سنگِ لحد کو زخمی کرتا ہے۔ جو باتیں زندگی کی تپش میں کہنی چاہیے تھیں، جب وہ کتبوں کے ٹھنڈے پتھروں پر تراشی جاتی ہیں، تو وہ سچ نہیں بلکہ ضمیر کا ماتم بن جاتی ہیں۔
​ہم بند کواڑوں کو بوجھل دیکھ کر اکثر اپنے ہاتھ روک لیتے ہیں، حالانکہ بند دروازے جمود کی علامت ہیں، اور دستک زندگی کی گواہی۔ دستک دیتے رہنا چاہیے، چاہے اندر سے صرف خاموشی ہی باہر آئے، کیونکہ مسلسل دباؤ ہی چٹانوں میں راستے بناتا ہے۔
​اور آئینے؟ وہ تو وفا کی عجیب ہی معراج ہیں۔ کانچ کی خصلت میں انتقام نہیں ہوتا۔ تم اسے پتھر مار کر ہزار ٹکڑوں میں بکھیر بھی دو، تو اس کا ہر ریزہ، ہر ذرہ بکھرنے کے بعد بھی تمہارا ہی عکس محفوظ رکھتا ہے۔ وہ ٹوٹ کر بھی نفرت نہیں کرتا، بلکہ اپنی شکستگی میں بھی تمہاری سچائی کا نوحہ لکھتا رہتا ہے۔ انسان کو اگر سیکھنا ہے، تو آئینے کے اس بے زبان ظرف سے سیکھے، جو فنا ہو کر بھی حقیقت کا پرچم نہیں گرنے دیتا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top