جب کتاب بند ہوتی ہے، ادب شروع ہوتا ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ادب کا مقصد جواب تقسیم کرنا نہیں، سوال پیدا کرنا ہے۔ جو تحریر پہلی قرأت میں اپنے تمام راز کھول دے، وہ شاید معلومات تو دے سکتی ہے، مگر قاری کے باطن میں دیرپا قیام نہیں کر سکتی۔ عظیم ادب ہمیشہ اپنے اندر ایک ایسا خاموش سوال محفوظ رکھتا ہے جو کتاب بند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
کچھ سوال لفظوں میں نہیں اترتے، وہ انسان کے مزاج میں اتر جاتے ہیں۔ وہ سوچ کی ساخت بدل دیتے ہیں، نگاہ کا زاویہ تبدیل کر دیتے ہیں، اور پھر زندگی کا ہر نیا تجربہ اسی سوال کی ایک نئی تعبیر بن جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب تحریر کاغذ سے نکل کر قاری کی روح میں منتقل ہو جاتی ہے۔
ہر عہد نے جوابوں کے انبار لگائے، مگر انسان کی پیاس کم نہ ہوئی۔ اس لیے کہ جواب ذہن کو مطمئن کرتے ہیں، جبکہ سوال روح کو بیدار کرتے ہیں۔ بیدار روح کبھی ٹھہرتی نہیں؛ وہ ہر حقیقت کے پیچھے ایک اور حقیقت، ہر روشنی کے پیچھے ایک اور افق، اور ہر اختتام کے بعد ایک نئی ابتدا تلاش کرتی ہے۔
عظیم ادیب وہ نہیں جو قاری کو اپنے یقین کا اسیر بنا لے، بلکہ وہ ہے جو اسے اپنے ہی باطن کا مسافر بنا دے۔ اس کی تحریر قاری کو اپنی آواز سنانے کے بجائے، اس کے اندر سوئی ہوئی آواز جگاتی ہے۔ وہ راستہ نہیں تھماتا، صرف اتنی روشنی عطا کرتا ہے کہ مسافر اپنا راستہ خود دریافت کر لے۔
زندگی کی سب سے بڑی تبدیلی اکثر کسی جواب سے نہیں آتی، بلکہ ایک ایسے سوال سے آتی ہے جو دل میں جا کر ٹھہر جائے۔ ایک سوال انسان کو اپنی کامیابی کا مطلب دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک سوال محبت کی تعریف بدل دیتا ہے۔ ایک سوال عبادت کو رسم سے تعلق میں، اور تعلق کو عادت سے ذمہ داری میں بدل دیتا ہے۔ سوال چھوٹا ہوتا ہے، مگر اس کے ارتعاش سے پوری شخصیت کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ زندہ ادب وقت کے ساتھ پرانا نہیں ہوتا۔ ہر نئی عمر اسے نئے معنی دیتی ہے۔ جوانی میں جو جملہ محض خوبصورت لگتا تھا، بڑھاپے میں وہی زندگی کا حاصل محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالات بدلتے ہیں، تجربات بڑھتے ہیں، اور وہی ایک سوال ہر بار نئے چہرے کے ساتھ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، گویا تحریر نہیں بدلی، پڑھنے والا بدل گیا ہے۔
ادب کا معجزہ یہ نہیں کہ وہ الفاظ کو خوبصورت بنا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے ہی وجود سے پہلی بار متعارف کروا دے۔ جب کوئی سطر قاری کو یہ احساس دلا دے کہ وہ اپنے بارے میں اب تک بہت کم جانتا تھا، تو سمجھ لیجیے کہ ادب نے اپنا فرض ادا کر دیا۔
تحریر کی سب سے بڑی کامیابی داد وصول کرنا نہیں، بلکہ کسی دل میں ایک ایسی خاموش بے چینی پیدا کرنا ہے جو اسے بہتر انسان بننے پر آمادہ کر دے۔ وہ بے چینی جو تکلیف نہیں، تخلیق بن جائے؛ اضطراب نہیں، جستجو بن جائے؛ اور جستجو آخرکار انسان کو خود اس کے باطن کے دروازے تک لے جائے۔
شاید اسی لیے عظیم کتابیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ ان کے آخری صفحے پر صرف الفاظ ختم ہوتے ہیں، مکالمہ نہیں۔ اصل کتاب تو اس لمحے شروع ہوتی ہے جب قاری خاموشی سے اسے بند کرتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسا سوال جنم لے چکا ہے جس کا جواب کسی اور کے پاس نہیں، اسے اپنی پوری زندگی سے لکھنا ہوگا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top