(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کا ایک عجیب المیہ ہے کہ انسان جن لوگوں کی محبت کو سب سے زیادہ یقینی سمجھتا ہے، اکثر انہی کی قدر کرنے میں سب سے زیادہ دیر کر دیتا ہے۔
باپ بھی انہی رشتوں میں سے ایک ہے۔
وہ محبت کا شور نہیں کرتا۔ وہ اپنی محبت کو لفظوں میں کم اور ذمہ داریوں میں زیادہ لکھتا ہے۔ اولاد کے بچپن میں اس کے ہاتھ سہارا بنتے ہیں، جوانی میں اس کی فکر سایہ بن کر ساتھ چلتی ہے، اور اولاد کے بڑے ہو جانے کے بعد بھی اس کی دعائیں خاموشی سے ان کے راستوں پر بچھتی رہتی ہیں۔
باپ اولاد کو اپنے سائے میں ہمیشہ کے لیے نہیں رکھتا؛ وہ تو اس دن کے لیے جیتا ہے جب بچے اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں۔
مگر خودمختاری اور بے نیازی میں بہت معمولی سا فرق ہے۔
اولاد کا بڑا ہو جانا فطری ہے، مگر والدین کے لیے دل کا چھوٹا ہو جانا فطری نہیں ہونا چاہیے۔
وقت گزرتا ہے۔ بچے اپنے فیصلے خود کرنے لگتے ہیں۔ اپنی دنیا بناتے ہیں، اپنی ترجیحات طے کرتے ہیں، اپنی مصروفیات میں الجھ جاتے ہیں۔ کبھی انہیں والدین کی باتیں پرانے زمانے کی محسوس ہوتی ہیں، کبھی نصیحت مداخلت لگتی ہے، کبھی اختلاف انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اور پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ جس آواز کو ہم غیر ضروری سمجھتے تھے، وہ خاموش ہو گئی ہے۔
جس ہاتھ کو ہم ہمیشہ مضبوط سمجھتے تھے، اس میں کپکپاہٹ آ گئی ہے۔
جس قدم نے ہمیں چلنا سکھایا تھا، اب اسے خود چلنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہے۔
تب احساس ہوتا ہے کہ والدین بوڑھے اچانک نہیں ہوئے؛ ہم اپنی مصروف زندگی میں ان کی عمر کو دیکھنا بھول گئے تھے۔
باپ کی محبت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ اکثر اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتا۔
وہ اولاد سے مانگتا کم ہے، دیتا زیادہ ہے۔
اسے دولت سے زیادہ ملاقات چاہیے ہوتی ہے، لمبی گفتگو سے زیادہ ایک فون، بڑے تحفے سے زیادہ چند لمحوں کی قربت، اور رسمی احترام سے زیادہ ایک ایسا لمس جس میں اسے یقین ہو کہ اس کی اولاد اب بھی اسے اپنے دل میں وہی مقام دیتی ہے۔
اس لیے اختلاف ہو تو بات کر لیجیے۔
غلط فہمی ہو تو دور کر لیجیے۔
دل دکھا ہو تو معذرت کر لیجیے۔
انا کو اتنا بڑا نہ ہونے دیجیے کہ والدین کی عمر اس کے سامنے چھوٹی پڑ جائے۔
کبھی والدین کی بات غلط بھی ہو سکتی ہے۔ وہ بھی انسان ہیں۔ ان کے فیصلوں میں کمزوریاں ہو سکتی ہیں، ان کے لہجے میں سختی آ سکتی ہے، ان کی سوچ ہر زمانے سے ہم آہنگ نہ بھی ہو۔ مگر ان کی نیت، ان کی قربانیاں اور ان کی بے لوث محبت کو ایک غلط جملے کے ترازو میں مت تولیے۔
اور اگر کبھی انہوں نے آپ کو تکلیف دی ہو تو معاف کرنا سیکھیں۔
کیونکہ عمر کے آخری حصے میں والدین کو اپنی اولاد سے دلیل نہیں، قربت چاہیے ہوتی ہے۔
اگر باپ زندہ ہے تو اسے صرف “ابا” کہہ کر نہ پکاریں، کبھی اس کے پاس بیٹھیں بھی۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیں۔
اس کی آنکھوں میں دیکھیں۔
اسے گلے لگائیں۔
اور کبھی بغیر کسی خاص وجہ کے صرف اتنا کہہ دیں:
“آپ ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔”
یقین کیجیے، بعض والدین پوری زندگی اس ایک جملے کے منتظر رہتے ہیں، مگر اپنی اولاد سے مانگتے نہیں۔
دنیا میں بہت سی چیزیں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔
پیسہ، مکان، کاروبار، عہدہ، شہرت، حتیٰ کہ بچھڑے ہوئے راستے بھی کبھی کبھی دوبارہ مل جاتے ہیں۔
مگر والدین کا گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔
اسی لیے محبت کو جنازے تک مؤخر نہ کریں۔
قبر پر پھول رکھنے سے بہتر ہے کہ زندگی میں ایک بار ہاتھ پکڑ لیا جائے۔
تعزیتی الفاظ سے بہتر ہے کہ زندہ والدین کو چند محبت بھرے الفاظ کہہ دیے جائیں۔
اور آنسوؤں سے بہتر ہے کہ وقت رہتے ہوئے گلے لگا لیا جائے۔
کیونکہ باپ صرف گھر کا کفیل نہیں ہوتا؛ وہ ایک نسل کے پیچھے کھڑی ہوئی وہ خاموش قوت ہوتا ہے جو اپنی بہت سی خواہشیں اولاد کے مستقبل کے نام کر دیتا ہے۔
اولاد جب کامیاب ہوتی ہے تو دنیا اسے دیکھتی ہے؛
مگر اس کامیابی کے پیچھے ایک باپ کی وہ زندگی اکثر کسی کو دکھائی نہیں دیتی جس میں اس نے اپنی خواہشوں کو بارہا “پھر کبھی” کہہ کر ٹال دیا ہوتا ہے۔
اس لیے والدین کی موجودگی کو معمول نہ سمجھیں۔
گھر میں ان کی آواز سنائی دے رہی ہو تو اسے نعمت سمجھیں۔
ان کے قدم چل رہے ہوں تو ان کے ساتھ چلیں۔
ان کے ہاتھ سلامت ہوں تو انہیں تھامیں۔
اور اگر وہ آپ کے سامنے بیٹھے ہوں تو موبائل سے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھیں۔
شاید وہ کچھ نہ کہیں۔
شاید صرف مسکرا دیں۔
مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے ایک پوری زندگی کھڑی ہوگی۔
والدین کو ان کی زندگی میں محبت دینا ہی اصل محبت ہے؛ موت کے بعد یاد کرنا محبت کا بدل نہیں، اس کا اعتراف ہے۔
اس لیے دیر نہ کریں۔
جس باپ نے کبھی آپ کو اپنے سینے سے لگا کر دنیا سے محفوظ رکھا تھا، آج اگر اسے آپ کی آغوش کی ضرورت ہے تو اسے انتظار نہ کروائیں۔
والدین کے لیے وقت نکالنا وقت کا ضیاع نہیں؛ یہ اپنی ہی جڑوں کو پانی دینا ہے۔
اور جو اپنی جڑوں کو وقت پر پانی دے دے، اسے ایک دن اپنی چھاؤں کے لیے کسی اور کے دروازے پر دستک نہیں دینی پڑتی۔
