(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
شہر کی سب سے چمکتی ہوئی شاہراہ پر، جہاں بڑی بڑی گاڑیوں کے شیشے سورج کی شعاعوں کو چوم کر گزرتے تھے، سڑک کے ایک کنارے فٹ پاتھ تھا اور دوسرے کنارے ایک نئی، عالی شان کمرشل بلڈنگ بن رہی تھی۔ اس عمارت کے فرش پر دنیا کا مہنگا ترین اطالوی سنگِ مرمر بچھایا جا رہا تھا، اور فٹ پاتھ پر تپتی ہوئی تارکول پر رحیمن اپنے تین سال کے بچے کو گود میں لیے تالیاں بجا کر بہلا رہی تھی۔
بچے کی بھوک اب تالیوں کی آواز سے بہلنے والی نہیں تھی۔ رحیمن نے بلڈنگ کے چوکیدار کی منت کی کہ وہ اسے اندر جانے دے تاکہ وہ ٹھیکیدار سے اپنی تین دن کی مزدوری مانگ سکے۔
چوکیدار نے نفرت سے اسے دیکھا اور دھتکار دیا:
”باہر رہو! تمہارے پاؤں کی مٹی اندر لگی تو صاحب ناراض ہو جائیں گے۔ یہ قیمتی پتھر چمکنے کے لیے ہے، تمہاری غلاظت جھیلنے کے لیے نہیں۔”
رحیمن خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس چمکتے پتھر کو یہاں تک لانے اور اسے تراشنے میں اس کے اپنے میاں کے ہاتھوں کی لکیریں گھس چکی تھیں، جو پچھلے مہینے اسی بلڈنگ کی چوتھی منزل سے گر کر اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔
وہ فٹ پاتھ کے کنارے بیٹھ گئی۔ بھوک سے نڈھال بچہ اب رونے کی سکت بھی کھو چکا تھا اور اس کی آنکھیں پتھرانے لگی تھے۔ رحیمن نے اوپر دیکھا، جہاں بادلوں کا ایک سیاہ ٹکڑا سورج کو نگل رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے کائنات کا منصف آج خود تپتے ہوئے آسمان کی وسعتوں میں کہیں گم ہو گیا ہے اور زمین پر صرف لوہے، سیمنٹ اور بے حس پتھروں کی خدائی قائم ہو چکی ہے، جہاں سانسوں کی قیمت اینٹوں سے بھی کم ہے۔
شام گہری ہونے لگی۔ عمارت کا افتتاح تھا، رنگ برنگی لائٹیں روشن ہوئیں، اور شہر کے معززین کی گاڑیاں آ کر رکنے لگیں۔ ٹھیکیدار ریشمی لباس پہنے، چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے مہمانوں کا استقبال کر رہا تھا، جب کہ فٹ پاتھ پر اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔
رحیمن نے آخری بار اپنے بچے کو ہلایا، مگر اس کا جسم اب بالکل ٹھنڈا اور ساکت ہو چکا تھا۔ اس کی روح اس چمکتی دنیا کی بھوک سے آزاد ہو چکی تھی۔
رحیمن نے نہ تو واویلا کیا، نہ چیخی۔ اس نے مردہ بچے کو چادر میں لپیٹا، اٹھ کھڑی ہوئی اور سڑک پار کر کے سیدھی اس چمکتی ہوئی عمارت کے داخلی دروازے پر پہنچ گئی۔ چوکیدار نے اسے روکنا چاہا, مگر اس کی آنکھوں میں وہ وحشت تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا۔
اس نے چمکتے ہوئے، دودھیا سنگِ مرمر کے عین وسط میں اپنے مرجھائے ہوئے بچے کو رکھ دیا۔ سفید فرش پر بھوک سے نیلے پڑے بچے کا وجود ایک داغ کی طرح چمکنے لگا۔
ٹھیکیدار غصے سے آگے بڑھا: “یہ کیا بدتمیزی ہے؟ اٹھاؤ اس گند کو یہاں سے! ہماری افتتاحی تقریب خراب کر دی!”
رحیمن نے مڑ کر ٹھیکیدار کی آنکھوں میں دیکھا، اس کے چہرے پر ایک ایسی ہولناک اور پرسکون مسکراہٹ تھی جس نے وہاں موجود تمام امیروں کے خون کو جما دیا۔ اس نے اپنے خشک ہونٹوں کو حرکت دی:
”صاحب! پتھر کتنا ہی قیمتی ہو، اسے چمکنے کے لیے کسی نہ کسی کے خون کے گارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے میاں نے اپنی جان دے کر اس عمارت کو کھڑا کیا، اور میرے بچے نے اپنے حصے کی مٹی اس فرش کو دے دی۔ اب یہ پتھر کبھی میلا نہیں ہوگا۔”
وہ مڑی اور اندھیری سڑک کی طرف چل دی۔ پیچھے، سنگِ مرمر کے اس شاہکار پر پڑا ہوا وہ ننھا وجود اب ایک ایسا تازیانہ بن چکا تھا، جس کی چمک کے سامنے وہاں موجود ہر بڑے انسان کی اوقات دھندلا گئی تھی۔
اور اس قیمتی اطالوی سنگِ مرمر پر، بچے کے بند ہوتے ہوئے ہونٹوں سے ٹپکا ہوا رال کا آخری قطرہ، اس یخ بستہ پتھر کے نصیب میں ایک لافانی بددعا بن کر جم گیا، جو نظر نہ آتے ہوئے بھی اب اس عالی شان عمارت کی بنیادوں کو دیمک کی طرح کھا رہا تھا۔
