تیسرا کپ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

میرا نام کرامت بخش ہے، مگر اس گھر میں سب مجھے چاچا کرامت کہتے تھے۔
میں نے اپنی عمر کے پچاس سے زیادہ برس اس ایک گھر میں دیکھے ہیں۔ میں نے انسانوں کو بدلتے، موسموں کو پلٹتے اور رشتوں کو ٹوٹ کر پھر ٹوٹتے دیکھا ہے۔ مگر میں نے اگر کسی چیز کو سب سے زیادہ بدلتے دیکھا ہے تو وہ چائے کے کپ تھے… اور ایک آدمی کی خاموشی۔
شروع میں وہ صرف ایک کپ چائے پیتے تھے۔
اکیلے آدمی تھے۔ کتابیں تھیں، کھڑکی تھی، اور ایک ایسی خاموشی جو بظاہر سکون لگتی تھی مگر اندر سے خالی تھی۔
پھر ایک دن دو کپ بننے لگے۔
میں نے کچھ نہیں پوچھا۔ بوڑھے ملازم سوال نہیں کرتے، صرف تبدیلیاں یاد رکھتے ہیں۔
مگر میں نے دیکھا… دوسرے کپ کے ساتھ ان کی آنکھوں میں زندگی آ گئی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے تو یوں لگتا جیسے کوئی ابھی راستے سے گزر کر اس میز تک آنے والا ہے۔
میں سمجھ گیا تھا… کوئی محبت دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
پھر ایک دن وہ محبت ملی۔
مگر مل کر نہ مل سکی۔
کیونکہ وہ محبت اس میز تک پہنچنے سے پہلے ہی ناگہانی موت کا شکار ہو گئی۔
نہ چائے پی گئی۔
نہ کرسی پر بیٹھی۔
نہ دوسرا کپ چھوا گیا۔
بس ایک خالی امکان رہ گیا… جو ہمیشہ کے لیے بھر نہیں سکا۔
اس دن کے بعد صاحب ٹوٹ گئے۔
چائے پینا چھوڑ دیا۔
مگر خاموشی نے چائے کی جگہ لے لی۔
پھر ایک دن صاحب نے مجھے آواز دی۔
“چاچا… چائے بناؤ۔”
میں خوش ہو گیا۔ مجھے لگا شاید دل نے پھر جینے کا ارادہ کر لیا ہے۔
لیکن جب میں ٹرے لے کر آیا تو صاحب آہستہ سے بولے:
“تین کپ رکھ دو۔”
میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے تین کپ سجا دیے۔
بوڑھے ملازم بعض باتیں پوچھتے نہیں، وقت کے ساتھ سمجھ لیتے ہیں۔
اور میں سمجھ گیا تھا۔
ایک کپ صاحب کے لیے تھا…
ایک اس محبت کے لیے جو ہجر زدہ ہو کر بھی اسی میز کی دوسری طرف بیٹھی رہتی تھی…
اور تیسرا اس کی یاد کے لیے تھا، جو مرنے کے باوجود اس گھر سے کہیں نہیں گئی تھی۔
پھر برسوں تین کپ بنتے رہے۔
صاحب ایک سے دو، اور دو سے تین کپوں کے عادی ہو گئے۔
پہلے وہ چائے پیتے تھے، پھر انتظار پینے لگے، پھر یادیں۔
میں اکثر رات کو برتن سمیٹتے ہوئے سوچتا کہ انسان بھی کیسی مخلوق ہے؛ جس شخص نے دوسرے کپ سے ایک گھونٹ بھی نہ پیا ہو، وہ برسوں اس کے لیے چائے بناتا رہتا ہے۔
وقت گزرتا رہا۔
میرے بال سفید ہو گئے۔
صاحب کی کنپٹیوں پر بھی برف اتر آئی۔
مگر تین کپ اپنی جگہ قائم رہے۔
پھر ایک صبح کچھ عجیب ہوا۔
صاحب کی آواز میں برسوں بعد زندگی سنائی دی۔
انہوں نے کمرے سے پکارا:
“چاچا… آج صرف ایک کپ چائے بنانا۔”
میرے ہاتھ میں پکڑا چائے دان کانپ گیا۔
مجھے یوں لگا جیسے کسی نے اس گھر کی ایک دیوار گرا دی ہو۔
میں دوڑ کر ان کے پاس گیا۔
ان کے چہرے پر عجب سکون تھا۔
میں نے کچھ نہیں پوچھا۔
اس روز صرف ایک کپ چائے بنی۔
اور بہت عرصے بعد میں نے دیکھا کہ صاحب نے پورا کپ ختم کیا۔
رات کو میں دیر تک جاگتا رہا۔
مجھے پہلی بار لگا کہ شاید کچھ رخصت ہو گیا ہے…
یا شاید کچھ واپس آ رہا ہے۔
مگر اصل حیرت تو اگلے دن میرا انتظار کر رہی تھی۔
صبح ہی صبح صاحب نے آواز دی:
“چاچا!”
“جی صاحب!”
“آج سے پھر دو کپ چائے بنایا کرو… الائچی ڈال کر… خوشبودار۔”
میرے ہاتھ بے اختیار آسمان کی طرف اٹھ گئے۔
میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
مجھے یوں لگا جیسے برسوں سے بند کسی کمرے کی کھڑکی کھل گئی ہو۔
میں کچھ کچھ سمجھ بھی رہا تھا اور کچھ کچھ نہیں۔
لیکن اتنا ضرور جان گیا تھا کہ کوئی بہار پھر سے راستہ ڈھونڈ رہی ہے۔
چند دن تک صاحب غیر معمولی خوش رہے۔
کبھی بے سبب مسکرا دیتے۔
کبھی آئینے میں خود کو دیر تک دیکھتے۔
کبھی چائے میں الائچی زیادہ ڈالنے کا کہتے۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس خوشی کے نیچے ایک اضطراب بھی رہتا تھا۔
جیسے کسی نے ان کے دل میں چراغ تو جلا دیا ہو، مگر ہوا کا رخ بھی اسی طرف کر دیا ہو۔
پھر ایک شام…
سورج ڈوب رہا تھا۔
چائے کی بھاپ کھڑکی کی طرف اٹھ رہی تھی۔
صاحب نے دوسرے کپ کو دیر تک دیکھا۔
پھر اچانک بولے:
“چاچا…”
“جی صاحب!”
انہوں نے کھڑکی سے نظریں ہٹائے بغیر کہا:
“وہ سرِ راہ ملی تھی…”
میں خاموش رہا۔
ان کی آواز اور دھیمی ہو گئی۔
“دل نے گواہی دی… یہ میری محبت کی روح ہے۔”
میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں برسوں پہلے والی روشنی دیکھی…
وہی روشنی…
جو دوسرے کپ کے جنم کے وقت دیکھی تھی۔
پھر یکایک ان کی پلکیں جھک گئیں۔
“مگر وہ کسی اور کی امان میں… بے اماں سی کھڑی تھی۔”
کمرے میں ایک دم خاموشی اتر آئی۔
اتنی گہری خاموشی کہ چائے کی بھاپ کی آواز بھی سنائی دینے لگی۔
کافی دیر بعد انہوں نے کہا:
“یوں لگتا تھا، چاچا… جیسے وہ ہاتھ بڑھانا چاہتی ہو… لیکن تقدیر نے اس کے ہاتھوں میں زنجیریں ڈال رکھی ہوں۔”
اس نے تڑپ کر میرا نام “۔۔۔۔” پکارا ۔۔۔ایک بار صرف ایک بار اور پھر چپ ہو گئی۔۔۔
پھر وہ خاموش ہو گئے۔
اور مجھے جانے کیوں محسوس ہوا…
کہ اس گھر میں تیسرا کپ ابھی مرا نہیں تھا۔
وہ صرف اپنے نئے معنی کا انتظار کر رہا تھا۔
پھر ایک دن…
شام معمول سے زیادہ خاموش تھی۔
شدید سردی تھی بارش ہو رہی تھی، مگر کھڑکی کے شیشوں پر اداسی جمی ہوئی تھی۔
صاحب دیر تک سامنے والی خالی کرسی کو دیکھتے رہے۔
چائے کے دونوں کپ تقریباً ٹھنڈے ہو چکے تھے۔
پھر انہوں نے آہستہ سے پکارا:
“چاچا…”
“جی صاحب!”
انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر کہا:
“آج سے پھر تین کپ بنانا شروع کر دو۔”
میرے ہاتھ سے ٹرے لگ بھگ چھوٹ گئی۔
میں کچھ لمحے انہیں دیکھتا رہا۔
برسوں پہلے کا سارا منظر ایک دم آنکھوں کے سامنے گھوم گیا؛ وہ ناگہانی موت، دو کپوں کا ہجر، پھر تین کپوں کی یاد، پھر ایک کپ، پھر دو کپ…
اور اب پھر تین کپ!
میں نے بمشکل پوچھا:
“صاحب… پھر یاد؟”
انہوں نے پہلی بار میری طرف دیکھا۔
ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، لیکن ان میں ایک ایسی تھکن تھی جو شاید دو زندگیاں جی لینے کے بعد اترتی ہے۔
وہ ہلکا سا مسکرائے۔
ایک بہت چھوٹی، بہت شکستہ سی مسکراہٹ۔
پھر بولے:
“نہیں، چاچا…”
اور خاموش ہو گئے۔
میں منتظر کھڑا رہا۔
کافی دیر بعد انہوں نے سامنے والی کرسی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“اب تیسرا کپ چپ کے لیے ہو گا…”
میں کچھ سمجھا، کچھ نہ سمجھا۔
انہوں نے جیسے خود سے بات کرتے ہوئے کہا:
“وہ چپ… جو ہم دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئی ہے… ہمیشہ کے لیے۔”
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ کمرہ واقعی خالی نہیں تھا۔
وہاں دو نہیں، تین تھے۔
ایک صاحب…
ایک وہ… جو کہیں اور کسی اور کی امان میں تھی…
اور ایک چپ…
جو دونوں کے درمیان یوں بیٹھی تھی جیسے کسی نے اس کے لیے ہمیشہ سے ایک کرسی مخصوص کر رکھی ہو۔
صاحب پھر بولے:
“پہلے تیسرا کپ ایک یاد کے لیے تھا، چاچا۔”
انہوں نے دوسرے کپ کو دیکھا۔
“یادیں مردوں کی ہوتی ہیں…”
پھر کھڑکی سے باہر تاریکی میں کہیں دور دیکھنے لگے۔
“لیکن چپ… زندہ لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔”
میں کچھ نہ کہہ سکا۔
انہوں نے گہری سانس لی۔
“وہ زندہ ہے، چاچا… میں بھی زندہ ہوں… مگر ہمارے درمیان اب ایک ایسی چپ آ بیٹھی ہے جسے نہ وہ ہٹا سکتی ہے، نہ میں۔”
پھر نہ جانے کیوں انہوں نے تیسرے کپ پر ہاتھ رکھ دیا۔
جیسے کسی کے سر پر دستِ شفقت رکھ رہے ہوں۔
اور آہستہ سے بولے:
“ہم تینوں اب اکٹھے رہیں گے، چاچا… میں، وہ… اور ایک پاگل سی چپ۔”
اس رات میں نے پھر تین کپ چائے بنائی۔
ایک کپ صاحب کے سامنے رکھا۔
دوسرا ہمیشہ کی طرح دوسری کرسی کے سامنے۔
اور تیسرا…
میں نے نہ جانے کیوں بہت آہستگی سے رکھا۔
جیسے واقعی وہاں کوئی بیٹھا ہو۔
پھر میں نے پہلی بار دیکھا…
صاحب نے پہلے کپ سے ایک گھونٹ لیا، دوسرے کپ کو دیر تک دیکھا، اور تیسرے کپ کے سامنے سر جھکا دیا۔
اور مجھے یوں محسوس ہوا کہ بعض محبتیں وصال نہ ملنے پر ختم نہیں ہوتیں…
وہ صرف خاموش ہو جاتی ہیں…
اور پھر ساری عمر ایک اضافی کپ چائے پیتی رہتی ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top