خلا کا قیدی

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​کائنات کی آخری سرحد پر بنے اس مائع ہائیڈروجن کے اسٹیشن پر، وہ پچھلے بیس سالوں سے اکیلا رہ رہا تھا۔۔صرف ستاروں کی خاموشی اور کمپیوٹر کی مشینی گھنٹیاں اس کی ساتھی تھیں۔ اس کا کام زمین سے بھیجے جانے والے ان سگنلز کو ریکارڈ کرنا تھا جو انسان کائنات کے دوسرے حصوں میں آباد مخلوق کو ڈھونڈنے کے لیے بھیجتا تھا۔
​بیس سالوں میں ایک بھی جواب نہیں آیا تھا، مگر وہ روزانہ امید کی ایک نئی فریکوئنسی پر کان لگا کر بیٹھ جاتا۔
​آج اس کے قیام کا آخری دن تھا۔ کل زمین سے آنے والا جہاز اسے واپس لے جانے والا تھا۔ وہ اس تنہائی سے نجات پانے پر خوش تھا، مگر اس کے وجود کے اندر ایک عجیب سا فلسفیانہ سوال رینگ رہا تھا۔ وہ اسٹیشن کی شیشے کی بڑی کھڑکی کے سامنے آ کھڑا ہوا، جہاں سے بلیک ہول کا دہانہ ایک لامتناہی تاریک بھنور کی طرح نظر آ رہا تھا۔
​”انسان خلا کی وسعتوں میں کسی اور کو اس لیے نہیں ڈھونڈ رہا کہ وہ اکیلا ہے، بلکہ وہ اس لیے ڈھونڈ رہا ہے تاکہ کوئی دوسرا اسے یہ بتا سکے کہ وہ خود کیا ہے اور کیوں ہے۔”
​اس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے آخری بار کمپیوٹر کا بٹن دبایا۔ اس بار اس نے زمین کے بھیجے ہوئے سگنلز کے بجائے خود اپنی آواز ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔
​”میرا نام آدم ہے،” اس نے مائیکروفون میں کہا۔ “میں کائنات کے اس ویران گوشے سے بول رہا ہوں جہاں روشنی بھی مڑ جاتی ہے۔ اگر وہاں کوئی ہے… کوئی بھی… تو بس اتنا بتا دے کہ کیا ہمارا ہونا کوئی معنی رکھتا ہے؟ یا ہم کائنات کے اس وسیع کینوس پر محض اتفاق سے گرے ہوئے سیاہی کے چند قطرے ہیں؟”
​اس نے سگنل کائنات کی لامتناہی وسعتوں میں روانہ کر دیا اور گہری سانس لے کر کرسی پر بیٹھ گیا۔
​ابھی چند ہی منٹ گزرے تھے کہ اچانک اسٹیشن کا الارم بج اٹھا۔ کمپیوٹر کی سکرین پر لہریں بے ترتیب انداز میں ناچنے لگیں۔ سگنل واپس آ رہا تھا!
​اس کا دل سینے سے باہر آنے لگا۔ بیس سال کی خاموشی ٹوٹ چکی تھی۔ کائنات کے کسی نامعلوم گوشے نے، کسی نادیدہ ہستی نے اس کے سوال کا جواب بھیج دیا تھا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے ہیڈ فون کانوں سے لگایا اور آڈیو پلے کا بٹن دبایا۔
​ہیڈ فون میں کوئی خلائی مخلوق نہیں تھی، نہ ہی کوئی اجنبی زبان تھی۔
​وہاں خود اسی کی آواز گونج رہی تھی: “میرا نام آدم ہے… کیا ہمارا ہونا کوئی معنی رکھتا ہے؟”
​وہ ششدر رہ گیا۔ اس نے سگنل کا روٹ چیک کیا۔ کائنات کی بے پناہ وسعت، جڑی ہوئی کہکشائیں اور بلیک ہول کا وہ خم دار راستہ—سگنل کسی اور دنیا سے نہیں ٹکرایا تھا، بلکہ کائنات کے جغرافیے کی گولائی سے گھوم کر، خلا کی لامتناہی دیواروں سے ٹکرا کر، خود اسی کی طرف واپس لوٹ آیا تھا۔
​اس نے ہیڈ فون اتارا اور کھڑکی کے باہر پھیلی ابدی سنسان خلا کو دیکھا، جہاں اربوں ستارے چل رہے تھے مگر وہاں کوئی سننے والا نہیں تھا۔ اسے دور زمین کا نیلا نقطہ نظر آیا، جہاں اربوں انسان روزانہ ایک دوسرے سے یہی سوال پوچھتے تھے۔
​اس نے مسکرا کر مائیکروفون ہاتھ میں لیا اور کائنات کے اس ابدی فلسفے پر آخری جملہ کہا:
​”کائنات ایک بہت بڑا گنبد ہے، جہاں انسان صدیوں سے صرف اپنی ہی آواز کی گونج سن رہا ہے اور اسے خدا کا جواب سمجھ کر مطمئن ہو جاتا ہے۔”
​اگلی صبح جب زمین کا جہاز وہاں پہنچا، تو اسٹیشن بالکل خالی تھا۔ وہاں صرف کمپیوٹر کی سکرین پر ایک لہر دائرے کی شکل میں مسلسل گھوم رہی تھی، جیسے کوئی سگنل خود اپنے ہی تعاقب میں ہمیشہ کے لیے سفر پر نکل گیا ہو۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top