(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
شام کے سائے گہرے ہوتے ہی حویلی کے بڑے دالان میں رنگ برنگی فانوس روشن ہو گئے تھے۔ چودھری ذوالقرنین کی بیٹی کی شادی کی یہ آخری اور سب سے بڑی تقریب تھی۔ شہر کے نامور سیاستدان، بیوروکریٹس اور تاجر اپنے ریشمی لباسوں کی چمک دمک اور چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجائے مبارکبادیں دے رہے تھے۔ دالان کے وسط میں لگی لمبی میزوں پر ابلتے ہوئے قورمے، زعفرانی بریانی اور مٹھائیوں کے تھال سجے تھے، جن کی خوشبو سے پوری فضا مہک رہی تھی۔
اسی دالان سے ذرا دور، حویلی کے عقبی لوہے کے بھاری دروازے کے باہر، سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی ایک پتلی گلی تھی۔ وہاں حویلی کا پرانا خاکروب، قادر بخش، اپنے بارہ سال کے بیٹے ساجد کے ساتھ بیٹھا تھا۔ قادر بخش کی پشت پچھلے تیس سال سے اس حویلی کا کچرا اٹھاتے اٹھاتے جھک چکی تھی، اور آج اس کی بیٹی بھی گھر میں بن بیاہی، بخار سے نڈھال پڑی تھی۔
ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا چلا تو دالان سے قورمے کی اشتہا انگیز خوشبو اڑتی ہوئی گلی تک آئی۔ ساجد نے اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری اور باپ کا دامن کھینچ کر بولا:
”بابا! اندر تو بڑا کھانا لگا ہے۔ کیا چودھری صاحب آج ہمیں بھی ایک پلیٹ دیں گے؟”
قادر بخش نے اپنی دھندلی آنکھوں سے بیٹے کو دیکھا، جس کے چہرے پر معصوم امید ناچ رہی تھی، اور دھیمی آواز میں کہا:
”پتر، امیروں کی خوشی کے کچھ قاعدے ہوتے ہیں۔ ان کے پتیلوں میں غریبوں کا حصہ نہیں، صرف برتن دھونے کا پانی ہوتا ہے۔ چپ کر کے بیٹھو، جب سب کھا چکیں گے تو صاحب ہمیں بلائیں گے۔”
تقریب اپنے عروج پر پہنچی۔ معزز مہمانوں نے اپنی بھوک سے زیادہ پلیٹوں میں کھانا بھرا، دو چار نوالے لیے، اور پھر آدھی سے زیادہ پلیٹیں وہیں میزوں پر چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ قہقہوں اور مبارکبادوں کے شور میں کسی کو دکھائی نہ دیا کہ ان چمکتی ہوئی پلیٹوں میں کتنا رزق سسک رہا تھا۔
نصف شب کے بعد جب آخری گاڑی بھی چلی گئی، تو منیجر نے باہر آ کر قادر بخش کو آواز دی: “اوئے قادرو! اندر آؤ اور صفائی کرو۔”
قادر بخش اور ساجد اندر داخل ہوئے۔ دالان کا منظر دیکھ کر ساجد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میزوں پر چکن کے ادھ کھائے ٹکڑے، گرا ہوا سالن اور آدھے چھوڑے ہوئے دیسی گھی کے حلوے بکھرے پڑے تھے۔ ساجد لپک کر ایک میز کی طرف بڑھنے لگا کہ منیجر کی کڑکتی آواز نے اسے روک دیا:
”ہاتھ مت لگانا! یہ سب جھوٹا کھانا سیدھا کچرے کے بڑے ڈرم میں جائے گا۔ چودھری صاحب کا حکم ہے کہ حویلی کا کوئی ملازم جھوٹا کھانا گھر نہیں لے جائے گا، اس سے ہماری ناک کٹتی ہے۔ چلو، جلدی کرو اور یہ سب باہر پھینکو!”
قادر بخش کا وجود جیسے اندر سے ٹوٹ گیا۔ اس نے خاموشی سے کچرے کا بڑا ڈرم اٹھایا اور بچا ہوا تمام لذیذ کھانا، جو اس کے بیمار بچوں کے لیے کئی دنوں کی عید بن سکتا تھا، اس کالے ڈرم میں انڈیلنا شروع کر دیا۔ ساجد نے دیکھا کہ اس کے باپ کے لرزتے ہاتھوں سے کچرے میں گرنے والا رزق چودھری صاحب کی سخاوت کے منہ پر ایک خاموش طمانچہ تھا۔
صفائی ختم کر کے جب باپ بیٹا حویلی سے باہر نکلے، تو منیجر نے قادر بخش کے ہاتھ پر چند سو کے کٹے پھٹے نوٹ رکھ دیے۔
وہ واپس اپنی اندھیری گلی میں آئے۔ ساجد بھوک اور دکھ سے نڈھال ہو کر ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، جبکہ قادر بخش نے گلی کے نکڑ پر بنے کچرے کے اسی بڑے ڈرم کو دیکھا جہاں حویلی کا سارا کھانا پھینکا گیا تھا۔
اندھیرے میں دو آوارہ کتے اس ڈرم پر جھپٹ رہے تھے اور گوشت کی بوٹیوں کے لیے ایک دوسرے کو کاٹ رہے تھے۔ قادر بخش کو لگا کہ وہ کتے نہیں، بلکہ معاشرے کے وہ دو طبقے ہیں جو صدیوں سے ایک دوسرے کا ماس نوچ رہے ہیں۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں چاند بادلوں کے پیچھے چھپ رہا تھا، اور اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس معاشرتی بیحسی پر آخری فیصلہ کن جملہ کہا:
”سیاستدانوں کے مینی فیسٹو ہوں یا امیروں کے اخلاقی بھاشن، پتر! اس معاشرے میں سب کے چہرے کاغذ کے ہیں؛ جو بھوک کی تپش تو دور نہیں کر سکتے، مگر کچرے کے ڈرم کو ڈھانپنے کے کام ضرور آتے ہیں۔”
اگلے دن، چودھری صاحب نے شہر کے اخبارات میں اپنی بیٹی کی شادی پر لاکھوں روپے غریبوں کے فنڈ میں عطیہ کرنے کی تصویر چھپوائی۔ وہ تصویر اسی کاغذ پر تھی، جس کا ایک ٹکڑا اس رات قادر بخش کے کچرے کے ڈرم کے پاس مٹی میں رل رہا تھا۔
