(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
رات کے دو بج رہے تھے جب سرفراز کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ پورے گھر میں قبرستان جیسا سناٹا تھا، صرف ہال میں لگے کلاک کے ٹک ٹک کرنے کی آواز اس کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ اس نے ماتھے پر آیا ہوا ٹھنڈا پسینہ پونچھا اور بستر سے اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گیا تاکہ پانی پی سکے۔
وہ پچھلے چھ ماہ سے ایک عجیب و غریب نفسیاتی کیفیت کا شکار تھا جسے ڈاکٹروں نے “شیزوفرینیا” اور شدید “مایوسی” کا نام دیا تھا، مگر سرفراز جانتا تھا کہ اس کا مرض کسی دوائی کا محتاج نہیں تھا۔ اسے مسلسل یہ احساس رہتا تھا کہ اس کے وجود کے اندر ایک دوسرا انسان بھی رہتا ہے۔۔۔ایک ایسا انسان جو اس کے ہر فیصلے پر ہنستا ہے اور اس کی کمزوریوں کا مذاق اڑاتا ہے۔
پانی پی کر جیسے ہی وہ واپس ہال سے گزرا، اس کی نظر دیوار پر لگے بڑے قدِ آدم آئینے پر پڑی۔ وہ وہیں رک گیا۔
پیلی نائٹ بلب کی مدہم روشنی میں آئینے کے اندر اس کا اپنا ہی عکس کھڑا تھا؛ جھکی ہوئی آنکھیں، بکھرے ہوئے بال اور چہرے پر شکست کے گہرے اثرات۔ مگر اگلے ہی پل، اس کے پورے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
آئینے کے اندر موجود عکس نے، سرفراز کے ہلنے سے پہلے ہی، اپنے ہونٹوں پر ایک زہریلی اور فاتحانہ مسکراہٹ سجائی اور اپنے ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔
سرفراز کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ آئینے کے سامنے تھا، مگر اس کا عکس اس کے قابو میں نہیں تھا۔
آئینے کے اندر سے اسی کی آواز ابھری، جو انتہائی سرد اور طنز آمیز تھی:
”کب تک بھاگو گے سرفراز؟ دن بھر دنیا کے سامنے نارمل ہونے کا یہ جھوٹا ڈرامہ رچاتے ہو، لوگوں سے جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ ملتے ہو، مگر رات کو جب یہ اکیلا پن تمہیں ننگا کرتا ہے، تو تم میرے سامنے آ کر گھٹنوں کے بل گر جاتے ہو۔”
سرفراز نے خوف سے کانپتے ہوئے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے اور چلایا: “تم کوئی نہیں ہو! تم صرف میرا وہم ہو، میری بیماری ہو! ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تم میرا ایک نفسیاتی مغالطہ ہو!”
آئینے کا عکس زور سے ہنسا، ایک ایسی ہنسی جس سے ہال کی دیواریں گونجنے لگیں:
”ڈاکٹر؟ وہ ڈاکٹر جو خود اپنے باطن کے اندھیروں سے ڈرتا ہے؟ سرفراز، میں تمہارا وہم نہیں، میں تمہاری وہ ‘حقیقت’ ہوں جسے تم نے عمر بھر سوسائٹی کے خوف سے، اخلاقیات کے لبادوں میں چھپا کر باطن کے تہہ خانے میں قید کر رکھا تھا۔ تمہاری وہ حسرتیں جو تم پوری نہ کر سکے، تمہارا وہ غصہ جو تم پی گئے، اور وہ نفرت جو تم ظاہر نہ کر سکے۔۔۔ان سب نے مل کر مجھے جنم دیا ہے۔ میں تمہارا ذہنی فرار ہوں۔”
سرفراز نے دیکھا کہ آئینے کے اندر کا عکس اب مزید گہرا اور جاندار ہوتا جا رہا تھا، جبکہ اس کا اپنا حقیقی جسم آہستہ آہستہ دھندلا رہا تھا، جیسے اس کے وجود کی ساری توانائی وہ آئینہ کھینچ رہا ہو۔
اسے سمجھ آیا کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن کوئی بیرونی قوت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اپنے باطن کا وہ اندھیرا ہوتا ہے جسے وہ قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر کے تضادات سے لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے، تو اس کا اپنا عکس ہی اسے نگل لیتا ہے۔
اس نے میز پر پڑا ہوا بھاری کرسٹل کا عطر دان اٹھایا اور پوری طاقت سے آئینے پر دے مارا۔ ایک زوردار دھماکے کے ساتھ آئینہ ہزاروں ٹکڑوں میں ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔
ہال میں دوبارہ ابدی خاموشی چھا گئی۔ سرفراز نے ہانپتے ہوئے نیچے دیکھا، جہاں آئینے کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پڑے تھے۔ مگر اس کی چیخ نکل گئی۔۔۔زمین پر گرے ہوئے ہر ایک الگ ٹکڑے میں اس کا وہ مسکراتا ہوا عکس اب بھی موجود تھا، اور اب وہ ایک نہیں، بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں اس کی طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
اس نے نڈھال ہو کر اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور انسانی ذہن کی اس ہولناک گہرائی پر اپنا آخری فلسفیانہ جملہ کہا:
”انسان دنیا کے سب سے بڑے قید خانے سے تو فرار ہو سکتا ہے، لیکن اپنے ہی ذہن کی بھول بھلیوں سے آزادی ناممکن ہے؛ یہاں باطن کی جنگ میں فتح بھی اپنی ہوتی ہے اور شکست بھی اپنی، اور جب عقل کا شیشہ ٹوٹتا ہے، تو انسان کسی ایک صدمے میں نہیں، بلکہ اپنے ہی وجود کے ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔”
اگلی صبح، جب گھر والے کمرے میں داخل ہوئے، تو وہاں کوئی سرفراز نہیں تھا؛ وہاں صرف فرش پر ٹوٹے ہوئے آئینے کا ملبہ تھا اور اس ملبے کے بیچوں بیچ ایک انسان کا سایہ مٹی میں گم ہو چکا تھا، جیسے وہ خود اپنے ہی عکس کے اندر ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا ہو۔
