کاغذی محل

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​شام کے ٹھیک سات بجے، انٹرنیشنل کیپیٹل ہاؤس کی چودھویں منزل پر بنے شیشے کے شاندار کیبن میں، دانیال اپنی گھومنے والی کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ سامنے لگی تین بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر نیویارک، لندن اور ٹوکیو کی مارکیٹوں کے گراف لال اور سبز لکیروں کی صورت میں لہرا رہے تھے۔ دانیال ایک “ہیج فنڈ مینیجر” تھے، ایک ایسے مالیاتی جادوگر جو دوسروں کے سرمائے کو ہوا میں اچھال کر اس سے منافع نچوڑتے تھے۔
​آج ان کے کیبن میں ملک کے ایک بہت بڑے ٹیکسٹائل مل کے مالک، سیٹھ افتخار بیٹھے تھے، جن کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔ مہنگائی، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور کاروباری مندی نے ان کے بڑے بڑے یونٹس کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
​سیٹھ افتخار نے ایک فائل دانیال کے سامنے سرکائی اور لرزتی آواز میں کہا:
​”دانیال صاحب! اگر اگلے تین ماہ میں مجھے بیس فیصد منافع نہ ملا، تو میری ملیں بند ہو جائیں گی اور بیس ہزار مزدور سڑک پر آ جائیں گے۔ میں نے اپنی زندگی کی آخری پونجی اس فنڈ میں لگا دی ہے۔ کوئی راستہ نکالیں۔”
​دانیال نے اپنے چہرے پر ایک سرد، پیشہ ورانہ مسکراہٹ سجائی۔ انہوں نے اپنے چمکتے ہوئے کمپیوٹر پر چند پیچیدہ مالیاتی فارمولے اور الگورتھم چلائے، اور پھر عینک اتار کر بولے:
​”سیٹھ صاحب! آپ اب بھی پرانی دنیا کے تاجر ہیں، جو نفع اور نقصان کو مزدوروں کے چولہے اور دھاگے کے بنڈلوں سے ناپتے ہیں۔ جدید فنانس کا ایک ہی اصول ہے: پیسہ کبھی پسینے سے نہیں، بلکہ رسک مینجمنٹ اور شارٹ سیلنگ سے بنتا ہے۔ آپ بے فکر ہو جائیں، آپ کا پیسہ اس جگہ لگ رہا ہے جہاں مارکیٹ نیچے بھی گرے، تو ہمیں نفع ہوتا ہے۔”
​سیٹھ افتخار نے سکون کی سانس لی اور چلے گئے۔ دانیال نے کمپیوٹر پر ایک بڑا آرڈر پنچ کیا۔ انہوں نے لاکھوں ڈالرز کے ایسے مالیاتی معاہدے (Derivatives) خریدے جو دراصل محض کاغذ کے ٹکڑے تھے، جن کا زمین پر موجود کسی حقیقی شے، کسی مٹی یا کسی کارخانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف نمبروں کا ایک کھیل تھا جو ایک اسکرین سے دوسری اسکرین پر منتقل ہو رہا تھا۔
​تین ماہ گزر گئے۔ دانیال کا جادو چل گیا۔ انہوں نے سیٹھ افتخار کو ان کا مطلوبہ بیس فیصد منافع کما کر دے دیا، اور خود اپنے لیے بھی لاکھوں ڈالرز کا بونس اینٹھ لیا۔
​اسی رات، دانیال اپنی نئی چمکتی ہوئی لگژری گاڑی میں بیٹھ کر شہر کے مضافات سے گزر رہے تھے۔ اچانک ایک سڑک کے کنارے، اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے ان کی گاڑی سگنل پر رک گئی۔ دانیال نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا۔ وہ سیٹھ افتخار کی وہی ٹیکسٹائل مل تھی، جس کے گیٹ پر ایک بڑا تالا لٹک رہا تھا اور باہر سینکڑوں مزدور اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لیے کالی سڑک پر بیٹھے احتجاج کر رہے تھے۔
​ایک بوڑھے مزدور نے، جس کی آنکھیں بھوک سے اندر کو دھنس چکی تھیں، اپنے ہاتھ میں کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اٹھا رکھا تھا اور چلا رہا تھا:
​”صاحبوں! مل مالک نے کاغذی نفع کمانے کے لیے مل کے سارے اثاثے فنڈز میں لگا دیے اور ہمارے تین ماہ کے چولہے ٹھنڈے کر دیے۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں فیکٹری بند ہونے سے مالک امیر ہو جاتا ہے اور مزدور بھوکا مر جاتا ہے؟”
​سگنل سبز ہو گیا اور دانیال کی گاڑی شڑپ سے آگے نکل گئی۔ مگر اس بوڑھے کے الفاظ دانیال کے کانوں میں پگھلے ہوئے لوہے کی طرح ٹپک رہے تھے۔
​وہ اپنے عالی شان پینٹ ہاؤس میں پہنچے۔ انہوں نے شیشے کی دیوار سے نیچے پھیلے ہوئے شہر کو دیکھا، جہاں ہر طرف بینکوں اور مالیاتی اداروں کے چمکتے ہوئے ہورڈنگز لگے تھے۔ دانیال نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس چیک کو دیکھا جس پر لاکھوں کا فگر لکھا تھا، مگر انہیں محسوس ہوا کہ اس کاغذ سے پسینے اور بھوک کی بو آ رہی ہے۔
​انہیں سمجھ آیا کہ جدید مالیاتی نظام دراصل ایک بہت بڑا “کاغذی محل” ہے، جو نیچے موجود لاکھوں انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ اسکرین پر ناچنے والے ہندسے کسی کی خوشحالی نہیں، بلکہ کسی کی محرومی کا سودا کر کے بنتے ہیں۔
​انہوں نے وہ قیمتی چیک میز پر پٹخ دیا اور اس عالمی مالیاتی جبر پر اپنا آخری نچوڑ پیش کیا:
​”اس جدید فنانس کی دستاویزات ہوں یا اسٹاک مارکیٹ کے جادوئی انڈیکس، یہ سب ایک سراب ہیں، سیٹھ! جہاں سرمائے کا کھیل حقیقی محنت کو نگل جاتا ہے۔ یہاں نفع کسی پیداوار سے نہیں، بلکہ دوسرے کی جیب خالی کرنے سے کشید کیا جاتا ہے؛ اور جس دن یہ کاغذی محل گرے گا، اس دن اسکرین پر صرف صفر بچے گا، مگر زمین پر لاکھوں زندگیاں ملبے میں رل چکی ہوں گی۔”
​اگلی صبح، انٹرنیشنل کیپیٹل ہاؤس کے باہر اخبار کا ایک ٹکڑا ہوا میں اڑ رہا تھا، جس پر اسٹاک مارکیٹ کے بلندیوں کو چھونے کی سرخی لکھی تھی، اور اسی کاغذ کے نیچے ایک تالا لگی مل کے باہر ایک مزدور کا بچہ مٹی میں اپنے حصے کا رزق ڈھونڈ رہا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top