رنگِ حنا

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​ڈاکٹر کامران نے بستر کی دائیں جانب بنے سائیڈ ٹیبل پر پچھلے چھ ماہ کی میڈیکل رپورٹس کو ایک بار پھر دیکھا اور عینک اتار کر صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ پورا کمرہ سنسان تھا، صرف باہر صحن میں خزاں کی ہوا سے گرنے والے سوکھے پتوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ بیڈ پر ارم لیٹی تھی، جس کا پچھلے دو سال سے کینسر کے خلاف جاری سفر اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ اس کا چہرہ جو کبھی گلاب کی طرح کھلتا تھا، اب پیلا پڑ چکا تھا اور سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔
​کامران اور ارم کی شادی کو پچیس سال بیت چکے تھے۔ ان پچیس سالوں میں کوئی بڑا طوفان تو نہیں آیا، مگر ہسپتال کی مصروفیات، بچوں کی پڑھائی اور زندگی کی یکسانیت نے ان کے بیچ ایک ایسا غیر محسوس فاصلہ پیدا کر دیا تھا جہاں وہ ایک ہی چھت کے نیچے دو اجنبیوں کی طرح رہنے لگے تھے۔ دونوں کو لگتا تھا کہ محبت تو جوانی کا ایک وقتی جذبہ تھی جو ذمہ داریوں کی دھول میں کہیں گم ہو چکی ہے۔
​ارم نے بڑی مشکل سے اپنی بوجھل آنکھیں کھولیں اور دھیمی، کپکپاتی آواز میں کامران کو پکارا:
​”کامران! کیا آپ تھوڑی دیر کے لیے میرے پاس بیٹھیں گے؟”
​کامران اٹھا اور ارم کے بستر کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس نے ارم کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا جو اب ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا اور جس کی جلد پر نیلے رنگ کی رگیں واضح تھیں۔ ارم نے اس کے لمس کو محسوس کیا تو اس کے خشک ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔
​”کامران، مجھے یاد ہے جب ہماری شادی ہوئی تھی، تو آپ نے میرے ہاتھوں پر لگی مہندی کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ رنگ کبھی پھیکا نہیں پڑے گا۔ پچھلے پچیس سالوں میں، میں نے سوچا کہ شاید وہ رنگ اور آپ کی محبت دونوں ہی وقت کے ساتھ مٹ گئے… لیکن آج جب سفر ختم ہونے کو ہے، تو مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں غلط تھی۔”
​کامران نے ارم کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں انسولین اور کیموتھراپی کے نشانات نہیں تھے، بلکہ وہی پچیس سال پرانی معصومیت تھی جو اس نے پہلی رات دیکھی تھی۔ اچانک کامران کے باطن میں جیسے کوئی بند ٹوٹ گیا۔ اسے یاد آیا کہ وہ دن رات ہسپتال میں مریضوں کی زندگیاں بچانے کی جنگ لڑتا رہا، مگر اس دوڑ میں وہ اس سب سے قیمتی وجود کو وقت دینا ہی بھول گیا جو اس کے گھر کو گھر بناتا تھا۔
​اس نے ارم کے ہاتھ کو ذرا اور مضبوطی سے تھام لیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر ارم کی ہتھیلی پر جا گرے۔
​”ارم! محبت کہیں گم نہیں ہوئی تھی، بس ہم نے اس پر مصروفیت کی اتنی تہیں چڑھا دیں کہ ہمیں خود دکھائی دینا بند ہو گئی۔ میں زندگی بھر دوسروں کا علاج کرتا رہا، مگر یہ نہ دیکھ سکا کہ میرا اپنا سب سے بڑا اثاثہ مجھ سے رخصت ہو رہا ہے۔ مجھے معاف کر دو…”
​ارم نے اپنا دوسرا ہاتھ آہستہ سے اٹھا کر کامران کے آنسو پونچھے اور بولی:
​”معافی کیسی، کامران؟ ازدواجی زندگی کا امتحان یہی تو ہے کہ جب دنیا کے سب رنگ ڈھل جائیں، تب بھی ایک دوسرے کا لمس برقرار رہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جانے سے پہلے، میں نے آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی پرانا رنگ دیکھ لیا ہے۔”
​رات کے آخری پہر، جب کمرے کی کھڑکی سے صبح کا پہلا مدہم نور اندر داخل ہوا، تو ارم کے ہاتھ کی گرفت کامران کے ہاتھ پر آہستہ سے ڈھیلی ہو گئی۔ اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا اور روح اس مٹی کے قفص سے آزاد ہو گئی۔
​کامران نے ارم کے بے جان چہرے کو دیکھا، جو موت کے بعد بھی پرسکون تھا۔ اس نے ارم کے اسی ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے لگایا اور رشتۂ ازدواج کی اس گہری اور ابدی حقیقت پر اپنا آخری جملہ کہا:
​”نکاح کے کاغذ پر بنے دستخط اور رسومات کے دعوے تو صرف دنیا کو دکھانے کے بندھن ہیں؛ اصل ازدواج تو وہ خاموش عہد ہے جہاں دو وجود عمر بھر کے اتار چڑھاؤ اور بیماری کی تپش سے گزر کر بھی ایک دوسرے کے باطن میں زندہ رہتے ہیں۔ یہاں جسم تو وقت کی دھول میں اٹ جاتے ہیں، مگر روحوں کا رشتہ موت کی سرحد کے اس پار بھی لازوال رہتا ہے۔”
​اگلی صبح، جب گھر میں رشتہ داروں کا ہجوم تھا اور لوگ تعزیت کر رہے تھے، کامران ارم کے سرہانے خاموش بیٹھا تھا۔۔۔اس کا ہاتھ اب بھی ارم کے ہاتھ میں تھا، جیسے وہ اس رخصت ہوتے ہوئے وجود کو یہ یقین دلا رہا ہو کہ ان کا سفر یہاں ختم نہیں، بلکہ ایک نئی دنیا میں شروع ہوا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top