بے نام قبریں

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بستی کے کنارے ایک ایسا گھر تھا جس کے دروازے پر کبھی کنڈی نہیں لگی۔ شاید اس لیے کہ وہاں سے چوری ہونے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا تھا، اور آنے والوں کو روکنے والا بھی کوئی نہ تھا۔
دیواریں کچی تھیں، مگر ان پر وقت نے اتنی دراڑیں ڈال دی تھیں کہ لگتا تھا گھر اینٹوں سے نہیں، آہوں سے کھڑا ہے۔ چھت پر رکھے بوسیدہ بانس ہر تیز ہوا کے ساتھ ایسے کراہتے جیسے برسوں سے اپنی باریِ مرگ کے منتظر ہوں۔
اس گھر میں تین سانسیں رہتی تھیں۔
ایک وہ، جو زندہ رہنے کے لیے ہر روز تھوڑا تھوڑا مرتی تھی۔
ایک وہ، جو مر چکی تھی مگر سانس لینا نہیں بھولی تھی۔
اور ایک وہ، جو دوسروں کی زندگی کھا کر زندہ تھی۔
صغریٰ ہر صبح صحن میں جھاڑو دیتی، مگر اسے معلوم تھا کہ مٹی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ کیونکہ گرد زمین سے نہیں، انسانوں کے کردار سے اٹھتی تھی۔
وہ جب پانی بھرنے جاتی تو کنویں کا پانی بھی اس کے چہرے سے نظریں چرا لیتا۔ شاید پانی بھی جانتا تھا کہ بعض پیاسیں حلق سے نہیں، تقدیر سے لگتی ہیں۔
گھر کے اندر اس کا باپ چارپائی پر پڑا رہتا۔ نشہ اس کے خون میں اس طرح شامل ہو چکا تھا جیسے درخت کی جڑ میں دیمک۔ وہ کبھی بیٹی کو نام سے نہیں پکارتا تھا۔ ہمیشہ کسی گالی سے اس کی پہچان شروع ہوتی اور لعنت پر ختم۔
اس کی ماں عجیب عورت تھی۔
وہ ہر نماز کے بعد دعا بھی مانگتی تھی اور شام ڈھلے اپنی بیٹی کی قسمت کا سودا بھی کرتی تھی۔
اسے شاید گناہ سے ڈر نہیں لگتا تھا۔
صرف غربت سے لگتا تھا۔
بستی میں ایک نوجوان تھا۔
کریم۔
وہ لکڑیاں کاٹ کر بیچتا تھا۔
اس کے ہاتھ کھردرے تھے، مگر آنکھیں نرم۔
وہ جب صغریٰ کو دیکھتا تو نظریں جھکا لیتا۔
اس زمانے میں نظریں جھکا لینا بھی محبت کی سب سے بڑی قسم تھی۔
ایک دن صغریٰ نے آئینے میں خود کو دیکھا۔
پہلی بار نہیں…
مگر پہلی بار اسے اپنا چہرہ نظر نہیں آیا۔
اسے اپنی ماں کی تھکی ہوئی آنکھیں دکھائی دیں۔
اپنے باپ کا لالچی منہ دکھائی دیا۔
اور اپنی قسمت کی گردن پر رکھا ہوا معاشرے کا گھٹنا۔
اسی لمحے اس نے آئینہ زمین پر دے مارا۔
شیشہ ٹوٹ گیا۔
مگر اسے حیرت ہوئی…
ہر ٹکڑے میں وہی چہرہ زندہ تھا۔
تب اسے سمجھ آیا…
آئینے توڑنے سے تقدیریں نہیں ٹوٹتیں۔
رات بہت خاموش تھی۔
ایسی خاموشی جس میں کتے بھی بھونکنے سے ڈرتے ہیں۔
صغریٰ نے ایک پرانا کپڑا اٹھایا، اس میں دو جوڑے کپڑے باندھے، اور دروازے تک پہنچی۔
پھر رک گئی۔
وہ بھاگ سکتی تھی۔
لیکن اچانک اسے خیال آیا…
اگر میں بھی چلی گئی تو اس گھر کی دیواریں کس کے لیے گریں گی؟
اس نے پہلی بار بھاگنے کے بجائے لڑنے کا فیصلہ کیا۔
اگلی صبح بستی جاگنے سے پہلے ایک خبر جاگ گئی۔
صغریٰ نے پنچایت کے بیچ کھڑے ہو کر اپنی ماں، اپنے باپ، اور ان تمام عزت دار بھیڑیوں کے نام لے لیے تھے جو رات کے اندھیرے میں شرافت کا کفن اتار دیتے تھے۔
لوگ خاموش تھے۔
کیونکہ سچ ہمیشہ شور نہیں مچاتا…
صرف بولنے والوں کی زبانیں ساکت کر دیتا ہے۔
اس دن کسی نے صغریٰ کو بہادر نہیں کہا۔
بلکہ بدکردار کہا۔
کیونکہ ہمارے معاشروں میں سچ بولنے والی عورت کا کردار پہلے قتل کیا جاتا ہے، پھر اس کی ذات۔
چند دن بعد وہ بستی چھوڑ گئی۔
کریم اس کے ساتھ نہیں گیا۔
وہ جانتا تھا…
بعض سفر محبت کے ساتھ نہیں، خودداری کے ساتھ طے ہوتے ہیں ۔
برسوں بعد جب اس گھر کی دیواریں گر گئیں تو لوگوں نے کہا…
“یہ ایک پرانا مکان تھا۔”
کسی نے یہ نہیں کہا…
یہ ایک قبر تھی، جس میں زندہ لوگ دفن تھے۔
اختتام
“کچھ گھروں کی دیواریں مٹی سے نہیں بنتیں، خاموشیوں سے بنتی ہیں؛ اور جب وہ گرتی ہیں تو صرف مکان نہیں گرتا، پورا معاشرہ اپنے چہرے سمیت ملبے میں دب جاتا ہے۔”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top