(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اللہ نے انسان کو گوشت اور ہڈیوں سے نہیں، موسموں سے بنایا ہے۔
باہر کا موسم تو کیلنڈر بدلنے سے بدل جاتا ہے، مگر اندر کا موسم کسی تاریخ کا پابند نہیں ہوتا۔ کسی کے اندر برسوں سے خزاں پڑی ہوتی ہے، حالانکہ اس کے صحن میں بہار کھلی ہوتی ہے۔ کوئی شدید گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا کی طرح مسکراتا ہے، اور کوئی برفیلے دنوں میں بھی اپنے اندر جلتا رہتا ہے۔
اسی خیال میں گم تھا کہ ایک بوڑھا مالی میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھوں پر مٹی تھی، مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی۔
میں نے پوچھا، “بابا! یہ درخت ہر سال اپنے پتے کیوں گرا دیتا ہے؟ کیا اسے اپنے سبز لباس سے محبت نہیں ہوتی؟”
وہ مسکرایا۔
کہنے لگا، “بیٹا! جو درخت پرانے پتوں کو چھوڑنے سے ڈرتا ہے، وہ نئی بہار کا حق دار نہیں بنتا۔”
میں دیر تک خاموش رہا۔
پھر دل نے ایک اور سوال کیا۔
“اگر انسان بھی اپنے دکھ اسی طرح گرا سکتا تو؟”
اس بار بوڑھے نے میری طرف دیکھا۔ اس کی نگاہ میں صدیوں کا سکون تھا۔
کہنے لگا، “دکھ پتے نہیں ہوتے، بیٹا… وہ تو جڑوں میں اتر جاتے ہیں۔”
یہ جملہ میرے اندر کہیں بہت دور جا کر گرا۔
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ انسان دکھوں کو اپنے کندھوں پر نہیں اٹھاتا، وہ انہیں اپنی شناخت میں شامل کر لیتا ہے۔ پھر وہ مسکراتا بھی ہے تو اس کی مسکراہٹ میں ایک ادھوری دعا چھپی ہوتی ہے، اور خاموش ہوتا ہے تو اس کی خاموشی میں کئی نام سانس لیتے ہیں۔
اس رات ہوا بہت آہستہ چل رہی تھی۔
میں نے کھڑکی کھولی تو سامنے چاند تھا، مگر مجھے یوں لگا جیسے چاند آسمان پر نہیں، ہر اس انسان کی آنکھ میں رہتا ہے جس نے کسی کو کھو کر بھی اس کے لیے بددعا نہیں کی۔
تب مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔
ایک وہ جو زندگی گزارتے ہیں۔
اور دوسرے وہ، جنہیں زندگی گزارتی ہے۔
پہلے لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، دوسرے وقت کو اپنے اندر جگہ دے دیتے ہیں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ شفا بھول جانے سے ملتی ہے، حالانکہ بعض زخم بھولنے کے لیے نہیں، انسان کو بدلنے کے لیے آتے ہیں۔ اگر ہر درد مٹ جائے تو شاید رحم بھی مٹ جائے، اگر ہر جدائی ختم ہو جائے تو دعا کی ضرورت بھی باقی نہ رہے۔
تب میں نے جانا کہ رب کبھی کبھی انسان سے اس کی خوشیاں نہیں لیتا، بلکہ اس کے دل کو اتنا وسیع کر دیتا ہے کہ وہ اپنے درد کے ساتھ دوسروں کا درد بھی اٹھا سکے۔
شاید اسی لیے سب سے نرم دل وہ نہیں ہوتا جس نے کبھی رویا نہ ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جس نے بہت رو کر بھی کسی اور کے آنسو پونچھنے کی خواہش نہ چھوڑی ہو۔
اور تب میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اترا۔
مجھے لگا زندگی کا مقصد ہر زخم بھر دینا نہیں، بلکہ ہر زخم کو روشنی میں بدل دینا ہے۔
کیونکہ پھول ہمیشہ بہار کی گود میں نہیں کھلتے…
کچھ پھول انسان کے ٹوٹنے کے بعد اس کی روح میں بھی کھلتے ہیں۔
