آخری پردہ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

قیامت سے پہلے کی ایک رات تھی۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا میدان ہے۔ ہر شخص اپنے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی تحفہ اٹھائے ایک عظیم الشان دربار کی طرف جا رہا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں عبادت تھی، کسی کے ہاتھ میں علم، کسی کے ہاتھ میں شہرت، کسی کے ہاتھ میں سخاوت۔
میں بھی خالی ہاتھ نہیں تھا۔
میرے کندھے پر میرا نفس بیٹھا تھا۔
وہ بالکل میری ہی شکل کا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ راستے بھر وہ میرے کان میں سرگوشیاں کرتا رہا۔
“دیکھنا، اپنی نمازوں کا ذکر ضرور کرنا۔”
“لوگوں کی مدد بھی یاد دلانا۔”
“وہ راتیں بھی گنوانا جن میں تم روئے تھے۔”
میں خاموش رہا۔
جوں جوں دربار قریب آتا گیا، وہ میری نیکیوں کی فہرست لمبی کرتا گیا۔ اسے یقین تھا کہ آج ہم ضرور سرخرو ہوں گے۔
آخر میری باری آگئی۔
میں نے جھک کر عرض کیا:
“پروردگار! میرے پاس دینے کو یہی ہے۔”
اور میں نے اپنے کندھے سے نفس اتار کر اس کی بارگاہ میں رکھ دیا۔
ابھی ہاتھ پیچھے بھی نہ ہٹایا تھا کہ ایک آواز آئی:
“ہمیں یہ نہیں چاہیے۔”
میں لرز گیا۔
“کیوں، مولا؟”
جواب آیا:
“یہ ہر نیکی کے بعد تمہارے کان میں اپنی تعریف پڑھتا رہا۔ ہر سجدے میں لوگوں کی نگاہیں ڈھونڈتا رہا۔ ہر آنسو میں اپنا عکس تلاش کرتا رہا۔ یہ میرے لیے نہیں، اپنے لیے جیتا رہا۔”
میں نے پہلی بار اپنے نفس کو غور سے دیکھا۔
اس کے چہرے پر عبادت کا نور نہیں، تعریف کی گرد جمی ہوئی تھی۔
اس کے کپڑوں پر گناہوں کے دھبے کم تھے، مگر ریا، تکبر اور خود پسندی کی باریک دھول اتنی زیادہ تھی کہ اصل رنگ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔
میں نے کانپتے ہوئے کہا:
“تو اب کیا کروں؟”
ندا آئی:
“اسے مار کر نہیں، بدل کر لاؤ۔ میں مردہ نفس نہیں مانگتا، مطمئن نفس مانگتا ہوں۔”
اسی لمحے میری آنکھ کھل گئی۔
فجر کی اذان ہو رہی تھی۔
میں نے وضو کیا، مگر اس دن پہلی مرتبہ چہرہ دھونے سے پہلے دل دھونے کی کوشش کی۔
تب سمجھ آیا…
اللہ کے دروازے تک پہنچنا مشکل نہیں؛ مشکل یہ ہے کہ وہاں اپنے ساتھ وہی انسان لے کر جاؤ، جسے اللہ دیکھنا چاہتا ہے، نہ کہ وہ جسے دنیا دیکھتی رہی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top