(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
جب تو گھر سے نکلی تو تیرے ہاتھ خالی تھے اور دل بھرا ہوا۔
لوگوں نے کہا، “خالی ہاتھ محبوب کے در پر جانا بے ادبی ہے۔”
تو راستے ہی میں تحفہ ڈھونڈنے لگی۔
پہلا شخص ملا۔ اس نے تیرے کندھے پر ایک پتھر رکھ دیا۔
کہنے لگا: “یہ تیری عزت ہے، اسے کبھی زمین پر نہ رکھنا۔”
تو نے سر جھکا کر اٹھا لیا۔
کچھ دور گئی تو دوسرا ملا۔
اس نے ایک اور پتھر رکھ دیا۔
“یہ لوگوں کی رائے ہے۔ اگر یہ گر گئی تو لوگ تجھے ہلکا سمجھیں گے۔”
پھر ایک اور آیا۔
“یہ تیرے ماضی کا بوجھ ہے۔ اسے سنبھال کر رکھ، یہی تیری پہچان ہے۔”
پھر کسی نے ناکامیاں رکھ دیں۔
کسی نے کامیابیاں۔
کسی نے تعریفیں۔
کسی نے طعنے۔
کسی نے خوف۔
کسی نے امید۔
ہر ملنے والا اپنے حصے کا ایک پتھر تیرے کندھے پر رکھتا گیا، اور تو یہ سمجھتی رہی کہ شاید محبوب انہی تحفوں سے خوش ہوگا۔
سال بیت گئے۔
اب تیری کمر خم ہو چکی تھی۔
قدم چلتے نہیں، گھسٹتے تھے۔
سانس ایسے چلتی جیسے کسی ٹوٹے ہوئے ساز میں آخری ہوا باقی رہ گئی ہو۔
ایک شام، جب سورج اپنی سرخی سمیٹ رہا تھا، تو نے ایک درویش کو دیکھا۔
وہ خالی ہاتھ تھا۔
اتنا خالی کہ اس کے کپڑوں میں جیب بھی نہ تھی۔
وہ ہنس رہا تھا۔
تو نے حیران ہو کر پوچھا:
“بابا! تمہارے پاس کچھ بھی نہیں، پھر بھی اتنے مطمئن کیسے ہو؟”
اس نے تیرے کندھوں پر نظر ڈالی۔
پھر مسکرا کر بولا:
“بیٹی… تم محبوب سے ملنے جا رہی ہو یا دنیا کا گودام اٹھائے پھر رہی ہو؟”
تو نے پہلی بار اپنے بوجھ کو دیکھا۔
وہ پتھر اب پتھر نہیں رہے تھے۔
وہ تیرے وجود کا حصہ بن چکے تھے۔
تو نے پوچھا:
“اگر یہ سب پھینک دوں تو میرے پاس بچے گا کیا؟”
درویش نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“وہی… جسے لے کر تو پیدا ہوئی تھی۔”
یہ سن کر تیرے ہاتھ کانپنے لگے۔
پہلا پتھر اتارا۔
ایسا لگا جیسے برسوں بعد سانس اندر تک پہنچی ہو۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
ہر پتھر کے گرنے کے ساتھ کوئی زنجیر ٹوٹتی گئی۔
آخر میں صرف ایک چھوٹا سا کنکر رہ گیا۔
تو نے پوچھا:
“یہ کون سا ہے؟”
درویش کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
بولا:
“یہ ‘میں’ ہے۔
جب تک یہ باقی ہے، سفر باقی ہے۔”
تو نے لرزتے ہاتھوں سے اسے بھی زمین پر رکھ دیا۔
اسی لمحے عجیب بات ہوئی۔
راستہ، جو برسوں سے ختم نہیں ہوتا تھا، اچانک سمٹ گیا۔
فاصلے پانی پر لکھی ہوئی لکیر کی طرح مٹ گئے۔
اور سامنے در کھل گیا۔
اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔
کوئی استقبال نہ ہوا۔
کوئی سوال نہ پوچھا گیا۔
بس ایک ایسی خاموشی تھی جس میں پوری کائنات بول رہی تھی۔
تب تیرے دل میں پہلی بار یہ راز اترا کہ…
محبوب تک پہنچنے میں عمر نہیں لگتی، صرف “اپنا آپ” رکھنے کی ضد عمر بھر کا فاصلہ بن جاتی ہے۔
اور تو نے جان لیا کہ اس کی بارگاہ میں سب سے قیمتی تحفہ کوئی چیز نہیں، بلکہ وہ دل ہے جو اپنے علاوہ ہر بوجھ اتار چکا ہو۔
