(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
مجھے ہمیشہ یہ گمان رہا کہ انسان کی اصل عمر وہ نہیں جو کیلنڈر پر لکھی ہوتی ہے۔
انسان کی اصل عمر تو وہ ہوتی ہے جو وہ اپنے اندر گزار دیتا ہے۔
باہر سے دیکھو تو ایک شخص ہوتا ہے؛ ایک نام، ایک چہرہ، چند رشتے، چند ذمہ داریاں۔ مگر اندر کہیں ایک اور شخص خاموشی سے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ وہ جو کبھی پیدا نہیں ہوا، مگر کبھی مرا بھی نہیں۔ وہ جو ہماری ہنسی کے پیچھے کھڑا رہتا ہے اور ہماری خاموشیوں کا مطلب ہم سے پہلے جان لیتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی ہمیشہ ایک سیدھی لکیر کی طرح گزاری تھی۔
صبح ہوتی، میں بیدار ہوتا، لوگوں سے ملتا، اپنے حصے کے فرائض پورے کرتا، شام کو واپس آتا اور پھر اگلے دن کے لیے خود کو تیار کر لیتا۔
لوگ کہتے تھے میں مطمئن انسان ہوں۔
مجھے بھی یہی لگتا تھا۔
مگر انسان بعض اوقات اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ خود سے بولتا ہے۔
ایک رات مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر کوئی ایسا کمرہ بھی ہے جس کا دروازہ میں نے خود برسوں سے بند کر رکھا ہے۔
وہ رات عجیب تھی۔
نہ کوئی طوفان تھا، نہ کوئی غیر معمولی واقعہ۔ بس نیند اور بیداری کے درمیان ایک لمحہ ایسا آیا جہاں مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے ہی اندر اتر رہا ہوں۔
وہاں ایک راستہ تھا۔
ایک ایسا راستہ جس پر میرے قدموں کے نشان پہلے سے موجود تھے۔
میں چلتا گیا۔
آخر میں ایک شخص میرے سامنے کھڑا تھا۔
وہ میرا ہی چہرہ لیے ہوئے تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ سکون تھا جو میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
میں دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر اس نے مسکرا کر کہا:
“تم نے اپنی زندگی دوسروں کو سمجھانے میں گزار دی، کبھی مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔”
میں چونک گیا۔
“تم کون ہو؟”
اس نے جواب دیا:
“وہ جسے تم نے ہر بار خاموش کر دیا جب تمہیں اپنی خواہش کے بجائے دنیا کی توقع پوری کرنی تھی۔”
میں ہڑبڑا کر جاگ گیا۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ خواب ختم ہو گیا تھا، سوال نہیں۔
اس دن کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے اندر کوئی اور بھی زندہ ہے۔
وہ جو میری کامیابیوں پر خاموش رہتا ہے مگر میری شکستوں میں میرے پاس آ بیٹھتا ہے۔
وہ جو مجھے یاد دلاتا ہے کہ انسان صرف وہ نہیں ہوتا جو دنیا کے سامنے ثابت کر دیتا ہے؛ انسان وہ بھی ہوتا ہے جو تنہائی میں خود سے چھپاتا رہتا ہے۔
پھر ایک دن وہ میری زندگی میں آئی۔
نہیں، وہ کوئی غیر معمولی حسن رکھنے والی عورت نہیں تھی، نہ اس کی آمد کے ساتھ کوئی معجزہ ہوا۔
وہ بس ایک عام سی ملاقات تھی۔
مگر کچھ ملاقاتیں عام لباس پہن کر آتی ہیں اور اندر سے پوری زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہیں۔
اس نے پہلی ہی گفتگو میں مجھ سے وہ سوال پوچھا جس سے میں برسوں بھاگتا رہا تھا:
“آپ خوش ہیں؟”
میں مسکرا دیا۔
کیونکہ دنیا کے ہر سوال کا جواب دینا آسان ہے، سوائے اس کے جو انسان کے اندر اتر جائے۔
میں نے کہا:
“ہاں۔”
اور پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ یہ لفظ میرے منہ سے نہیں، میری عادت سے نکلا ہے۔
وہ مجھے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی:
“کبھی کبھی انسان اپنی زندگی نہیں گزارتا، صرف اسے نبھاتا رہتا ہے۔”
اس ایک جملے نے میرے اندر برسوں سے بند ایک دروازہ کھول دیا۔
اور مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ شاید میرے اندر صرف ایک زندگی نہیں تھی۔
ایک وہ تھی جو میں دنیا کے لیے جی رہا تھا۔
اور ایک وہ، جو برسوں سے میرا انتظار کر رہی تھی۔
