وہ دروازہ جو کبھی کھلا نہیں

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

شہر کے آخری کنارے پر ایک پرانا مکان تھا، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کا ایک دروازہ ایسا ہے جو کبھی کھلا نہیں۔
لوگ کہتے تھے کہ وہ دروازہ لکڑی کا نہیں، وقت کا بنا ہوا ہے۔ جو اسے کھولنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اپنے ماضی میں داخل ہو جاتا ہے، مگر واپس کبھی پہلے جیسا نہیں آتا۔
میں بچپن سے اس دروازے کو دیکھتا آیا تھا۔
مکان ویران تھا، دیواروں پر کائی جمی تھی، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے تھے، مگر وہ دروازہ ہمیشہ نیا لگتا تھا۔ جیسے ابھی کسی نے اسے پالش کر کے بند کیا ہو۔
محلے کے بزرگ کہتے تھے:
“اس دروازے کے پیچھے وہ چیز ہے جس کی تمہیں سب سے زیادہ خواہش ہے۔”
اور شاید یہی وہ جملہ تھا جس نے مجھے برسوں اس دروازے کا قیدی بنائے رکھا۔
انسان عجیب مخلوق ہے۔ اسے اندھیرے سے اتنا خوف نہیں آتا جتنا اس امکان سے آتا ہے کہ اندھیرے کے پیچھے کوئی روشنی چھپی ہو۔
میں نے زندگی کے کئی سال اس دروازے کے سامنے گزار دیے۔
جوانی آئی، خواب آئے، محبتیں آئیں، لوگ آئے اور چلے گئے، مگر وہ دروازہ وہیں رہا۔
کبھی کبھی میں سوچتا، شاید اس کے پیچھے میری وہ زندگی ہے جو مجھے ملنی چاہیے تھی۔
وہ زندگی جس میں کوئی غلطی نہ ہوتی۔ کوئی جدائی نہ ہوتی۔ کوئی محرومی نہ ہوتی۔
ایک رات، جب شہر پر خاموشی اتری ہوئی تھی اور چاند بھی بادلوں کے پیچھے چھپا تھا، میں نے فیصلہ کیا کہ آج یہ راز کھول کر رہوں گا۔
میں نے دروازے کو چھوا۔
حیرت انگیز طور پر وہ سرد نہیں تھا۔
وہ گرم تھا۔
ایسا محسوس ہوا جیسے کسی زندہ وجود کا ہاتھ پکڑ لیا ہو۔
میں نے آہستہ سے کہا:
“کون ہے وہاں؟”
اندر سے ایک آواز آئی:
“وہی جسے تم ساری عمر تلاش کرتے رہے۔”
میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
“کیا تم میری خوشی ہو؟”
آواز ہنسی۔
“نہیں۔”
“میری کامیابی؟”
“نہیں۔”
“میرا کھویا ہوا وقت؟”
خاموشی چھا گئی۔
پھر آواز آئی:
“میں تمہاری وہ خواہش ہوں جسے تم نے کبھی پورا نہیں ہونے دیا۔”
میں حیران رہ گیا۔
“تو دروازہ کھولو۔”
آواز نے کہا:
“تم خود کھولو۔”
میں نے زور لگایا۔
دروازہ کھل گیا۔
مگر اندر کوئی خزانہ نہیں تھا۔ کوئی محل نہیں تھا۔ کوئی جنت نہیں تھی۔
وہاں ایک کمرہ تھا۔
اور اس کمرے میں ایک آدمی بیٹھا تھا۔
ایک بوڑھا آدمی۔
وہ بالکل میری طرح لگتا تھا۔
میں کانپ گیا۔
“تم کون ہو؟”
اس نے مسکرا کر کہا:
“میں تم ہوں۔”
“یہ کیسے ممکن ہے؟”
وہ بولا:
“یہ وہ زندگی ہے جو تم نے اپنی اصل زندگی چھوڑ کر تلاش کی تھی۔”
میں خاموش ہو گیا۔
کمرے میں ہر طرف تصویریں تھیں۔
ایک تصویر میں میں ایک کامیاب آدمی تھا، مگر اکیلا۔
دوسری میں میرے پاس دولت تھی، مگر نیند نہیں۔
تیسری میں لوگ میری تعریف کر رہے تھے، مگر کوئی میرے دل کی آواز نہیں سن رہا تھا۔
میں نے بوڑھے شخص سے پوچھا:
“پھر تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”
وہ آہستہ سے بولا:
“کیونکہ میں نے بھی یہی غلطی کی تھی۔ میں نے ساری عمر اس دروازے کے دوسری طرف موجود زندگی تلاش کی جو میرے ہاتھ میں پہلے سے موجود تھی۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“تو اصل زندگی کہاں ہے؟”
وہ مسکرایا۔
“جہاں تم اسے چھوڑ آئے ہو۔”
اچانک کمرہ دھندلا ہونے لگا۔
میں نے دروازہ پکڑ لیا۔
“رکو! مجھے ابھی بہت کچھ جاننا ہے۔”
بوڑھے نے کہا:
“انسان ہمیشہ جاننا چاہتا ہے کہ راستہ کہاں جاتا ہے، مگر کبھی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ جس راستے پر کھڑا ہے، وہ کہاں لے جا سکتا ہے۔”
اور دروازہ بند ہو گیا۔
صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں اسی پرانے مکان کے سامنے بیٹھا تھا۔
دروازہ بند تھا۔
ویسا ہی جیسے ہمیشہ تھا۔
مگر آج پہلی بار مجھے وہ دروازہ قید نہیں لگا۔
وہ مجھے ایک سوال لگا۔
میں گھر واپس آیا۔
راستے میں وہ لوگ ملے جنہیں میں نے اپنی نامکمل خواہشوں کی وجہ سے نظر انداز کیا تھا۔
وہ رشتے جنہیں میں نے بڑے خوابوں کے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
وہ لمحے جنہیں میں نے مستقبل کے انتظار میں قربان کر دیا تھا۔
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ زندگی کبھی ادھوری نہیں ہوتی۔
ہم صرف اپنی نظریں اس جگہ لگا دیتے ہیں جہاں کچھ موجود نہیں ہوتا۔
سالوں بعد میں دوبارہ اس مکان کے پاس گیا۔
دروازہ اب بھی بند تھا۔
میں مسکرایا۔
کیونکہ اب مجھے معلوم تھا:
کچھ دروازے کھولنے کے لیے نہیں ہوتے۔
وہ صرف ہمیں یہ دکھانے کے لیے ہوتے ہیں کہ ہم جس چیز کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، وہ شاید ہمارے اپنے اندر پہلے ہی موجود ہے۔
اور انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اسے سب کچھ نہیں ملتا۔
سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ اسے سب کچھ مل جائے، مگر وہ پہچان نہ سکے کہ اس کے پاس کیا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top