(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
شہر میں کسی آدمی کا گم ہونا خبر نہیں تھا۔ خبر یہ تھی کہ کسی آدمی نے راستہ بھولنے سے انکار کر دیا ہو۔
یہاں ہر شخص کے پاس ایک نقشہ تھا۔ پیدائش کے کچھ ہی دن بعد سرکار کی طرف سے ایک چھوٹا سا کاغذ ملتا، جس پر زندگی کا راستہ باریک سیاہ لکیروں سے بنا ہوتا۔ کہاں پڑھنا ہے، کس عمر میں کام کرنا ہے، کس وقت گھر بنانا ہے، کس موڑ پر شادی کرنی ہے، کتنے بچے ہونے چاہئیں، کب ریٹائر ہونا ہے اور آخر میں ایک چھوٹا سا تیر بنا ہوتا جو شہر کے آخری دروازے کی طرف اشارہ کرتا تھا۔
لوگ اسے زندگی کہتے تھے۔
اور چونکہ سب کے نقشے تقریباً ایک جیسے تھے، اس لیے کسی کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ شاید یہ زندگی نہیں، صرف ایک اجتماعی ہدایت نامہ ہے۔
شہر میں راستے بہت تھے، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کوئی بھٹکتا نہیں تھا۔ بچے اسکول جاتے، نوجوان دفتر، بوڑھے پارک، عورتیں بازار اور مرد اپنے اپنے کمروں میں جا کر تھک جاتے۔ ہر شام شہر کی بڑی گھڑی پانچ مرتبہ بجتی اور لوگ اپنی رفتار کچھ تیز کر دیتے، جیسے کسی نے پوری آبادی کو ایک ہی پوشیدہ رسی سے باندھ رکھا ہو۔
وہ آدمی بھی کبھی انہی لوگوں میں تھا۔
اس کا نام کیا تھا، یہ کسی کو یاد نہیں۔ شاید اس لیے کہ نام انسان کو دوسروں سے الگ کرتا ہے، جبکہ شہر کو الگ لوگ پسند نہیں تھے۔
لوگ اسے “سفید جگہ والا آدمی” کہتے تھے۔
اس کی پیشانی پر نقشہ نہیں تھا۔
صرف ایک سفید جگہ تھی۔
کہتے ہیں نقشہ اسے بھی دیا گیا تھا۔ مگر بچپن میں ایک دن اس نے نقشے پر انگلی پھیرتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا، “یہ لکیر یہاں کیوں جاتی ہے؟”
ماں نے کہا، “کیونکہ سب اسی طرف جاتے ہیں۔”
وہ کچھ دیر نقشے کو دیکھتا رہا، پھر پوچھا، “اور اگر میں دوسری طرف جاؤں؟”
ماں نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ “وہاں راستہ نہیں ہے۔”
بچے نے معصومیت سے کہا، “راستہ نہیں ہے یا نقشے میں نہیں ہے؟”
ماں نے فوراً اس کے ہاتھ سے کاغذ لے لیا تھا۔
اس دن پہلی بار اسے ڈانٹ پڑی۔
بعد میں شہر نے اسے بہت کچھ سکھایا۔
یہ سکھایا کہ سوال اگر جواب سے بڑا ہو جائے تو اسے سوال نہیں، خرابی کہتے ہیں۔
یہ سکھایا کہ جو چیز سب کو دکھائی دے، وہی حقیقت ہے۔
یہ سکھایا کہ جو چیز ناپی جا سکے، وہی معتبر ہے۔
یہ سکھایا کہ خوشی کی ایک مقررہ شرح ہے، کامیابی کی ایک مقررہ تعریف ہے، عزت کا ایک پیمانہ ہے، ناکامی کا ایک لباس ہے اور عقل کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ آدمی وہی چاہے جو اسے حاصل ہو سکتا ہو۔
اور سب سے بڑھ کر یہ سکھایا کہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش نہ کرو۔
اسے استعمال کرو۔
وہ بڑا ہوا تو اسے ایک عمارت میں ملازمت مل گئی۔
عمارت کے اندر ہزاروں میزیں تھیں اور ہر میز کے پیچھے ایک آدمی۔ ہر آدمی کے سامنے ایک اسکرین تھی۔ اسکرین پر اعداد آتے، جاتے، بڑھتے، گھٹتے۔ لوگ ان اعداد کو دیکھ کر خوش ہوتے، غمگین ہوتے، ایک دوسرے سے حسد کرتے، ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور کبھی کبھار پوری زندگی کے فیصلے کر لیتے۔
ایک دن اس نے اپنے برابر بیٹھے شخص سے پوچھا، “یہ اعداد آخر بتاتے کیا ہیں؟”
اس نے حیرت سے کہا، “تمہیں نہیں معلوم؟”
“نہیں۔”
“تو پھر تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
اس نے اسکرین کی طرف دیکھا۔
واقعی اسے نہیں معلوم تھا۔
اس دن اسے پہلی بار احساس ہوا کہ آدمی بعض اوقات کسی چیز میں اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے سمجھتا ہے، بلکہ اس لیے کہ سب اس میں ہوتے ہیں۔
وہ کچھ عرصہ خاموش رہا، پھر ایک دن اس نے اپنی اسکرین بند کر دی۔
صرف چند منٹ کے لیے۔
عمارت میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے۔
“تم نے اسکرین کیوں بند کی؟”
اس نے کہا، “میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے پیچھے کیا ہے۔”
سب خاموش ہو گئے۔
جیسے اس نے کوئی فحش بات کہہ دی ہو۔
اس کے بعد وہ آدمی بدلنے لگا۔ نہیں، حقیقت میں شہر نے اسے بدل دیا تھا۔
اس نے پہلے سوال پوچھنے شروع کیے، پھر جوابوں سے بے اطمینانی محسوس کرنے لگا۔
ایک دن اس نے دیکھا کہ لوگ خوش ہیں۔
اس نے سوچا، خوشی کیا ہے؟
لوگوں نے کہا، “خوشی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ چیز ہو جو تم چاہتے ہو۔”
اس نے پوچھا، “اور اگر تمہیں معلوم ہی نہ ہو کہ تم کیا چاہتے ہو؟”
لوگوں نے اسے دیکھا۔
پھر کسی نے کہا، “تو پھر وہ حاصل کرو جو دوسرے چاہتے ہیں۔”
وہ دیر تک ہنستا رہا۔
اتنا کہ لوگوں نے اسے پاگل سمجھ لیا۔
شہر میں ایک عجیب قانون تھا۔
ہر سوال کی ایک آخری تاریخ ہوتی تھی۔
بچپن کے سوالوں کے لیے دس سال۔
جوانی کے سوالوں کے لیے بیس سال۔
پھر ایک عمر آتی تھی جب سوال پوچھنا معاشرتی بدتمیزی سمجھا جاتا تھا۔
اس عمر کے بعد آدمی کو جواب معلوم ہونا چاہیے تھا۔
وہ آدمی اس قانون سے سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا۔
اسے لگتا تھا سوال دروازے ہیں، اور شہر نے ہر دروازے پر تالے لگا کر ان پر خوبصورت پردے ڈال دیے ہیں۔
لوگ پردے دیکھ کر خوش تھے۔
وہ تالے دیکھتا تھا۔
ایک رات اس نے شہر کے سب سے بڑے چوک میں ایک عجیب منظر دیکھا۔
ہزاروں لوگ قطار میں کھڑے تھے۔ ہر شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ قطار کے آخر میں ایک بہت بڑا آئینہ رکھا تھا۔ جو شخص آئینے کے سامنے پہنچتا، چند لمحے خود کو دیکھتا، پھر ایک دروازے سے اندر چلا جاتا۔
وہ حیران ہوا۔
ایک بوڑھے سے پوچھا، “یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟”
بوڑھے نے کہا، “اپنی زندگی کی تصدیق کرانے۔”
“کس سے؟”
“آئینے سے۔”
“آئینہ کیا بتاتا ہے؟”
بوڑھا مسکرایا، “جو آدمی دیکھنا چاہتا ہے۔”
وہ آدمی آئینے کے قریب گیا۔
اس نے اپنے آپ کو دیکھا۔
اور چونک گیا۔
آئینے میں اس کا چہرہ نہیں تھا۔
ایک سفید جگہ تھی۔
وہ پیچھے ہٹ گیا۔
لوگوں نے شور مچا دیا۔
“دھوکا!”
“آئینہ خراب ہے!”
“اس آدمی کو یہاں سے نکالو!”
مگر وہ آدمی آئینے کو دیکھتا رہا۔
پھر پہلی بار اسے ایک خوفناک امکان محسوس ہوا۔
شاید اس کا چہرہ کبھی تھا ہی نہیں۔
شاید وہ برسوں دوسروں کے بتائے ہوئے چہروں میں اپنا چہرہ تلاش کرتا رہا تھا۔
کبھی کامیاب آدمی کا۔
کبھی دانشور کا۔
کبھی نیک آدمی کا۔
کبھی محبوب کا۔
کبھی باپ کا۔
کبھی بیٹے کا۔
کبھی ایک اچھے شہری کا۔
اور ہر بار اپنا چہرہ تھوڑا سا کسی اور کے چہرے میں رکھ کر مطمئن ہو جاتا تھا۔
لیکن آئینہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔
وہاں واقعی کچھ نہیں تھا۔
صرف سفید جگہ۔
اس رات وہ شہر سے باہر نکل گیا۔
شہر کے آخری دروازے پر ایک سپاہی کھڑا تھا۔
سپاہی نے پوچھا، “نقشہ؟”
اس نے کہا، “نہیں ہے۔”
“منزل؟”
“نہیں معلوم۔”
“واپس کہاں آؤ گے؟”
“یہ بھی نہیں معلوم۔”
سپاہی نے تلوار نکالی۔
“تو تم جا کہاں رہے ہو؟”
وہ آدمی کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر بہت آہستہ بولا، “مجھے نہیں معلوم۔ مگر پہلی بار یہ جواب میرا اپنا ہے۔”
سپاہی نے تلوار نیچے کر دی۔
شاید اسے بھی پہلی بار اپنے نقشے پر شک ہوا تھا۔
شہر کے باہر کوئی سڑک نہیں تھی۔ نہ بجلی کے کھمبے، نہ دکانیں، نہ اشتہار، نہ گھڑیاں۔ صرف ایک وسیع میدان تھا۔
وہ کئی دن چلتا رہا۔
ایک دن اسے ایک درخت ملا۔
وہ درخت عجیب تھا۔
اس کی شاخیں اوپر جانے کے بجائے زمین کی طرف بڑھ رہی تھیں اور جڑیں آسمان میں پھیلی ہوئی تھیں۔
وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر ایک آواز آئی، “تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟”
وہ پلٹا۔
ایک بچی کھڑی تھی۔
“درخت۔”
“نہیں۔”
“پھر؟”
“تمہیں وہی نظر آتا ہے جو تمہیں سکھایا گیا ہے۔”
وہ چونک گیا۔
بچی نے درخت کی طرف دیکھا۔
“مجھے تو آسمان زمین میں اگتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔”
وہ آدمی درخت کو دوبارہ دیکھنے لگا۔
اچانک اسے محسوس ہوا کہ دنیا میں شاید کچھ بھی الٹا نہیں ہوتا۔
ہماری عادتیں چیزوں کو سیدھا اور الٹا بناتی ہیں۔
بچی نے پوچھا، “تم شہر سے آئے ہو؟”
“ہاں۔”
“تم وہاں کیا کرتے تھے؟”
“سوچتا تھا۔”
“یہ تو کوئی کام نہیں۔”
وہ مسکرایا، “شہر میں بھی یہی کہتے تھے۔”
“تو پھر یہاں کیوں آئے؟”
وہ خاموش رہا۔
بچی نے دوبارہ پوچھا، “کیا تمہیں کوئی چیز ڈھونڈنی ہے؟”
اس نے پہلی بار اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔
“ہاں۔”
“کیا؟”
“وہ آدمی جو میں ہونے والا تھا۔”
بچی نے سر جھکا کر کچھ سوچا۔
پھر بولی، “وہ تو مر چکا ہوگا۔”
وہ آدمی جیسے اندر سے ٹوٹ گیا۔
“کیسے؟”
“جو آدمی ہونے والا ہو، وہ کبھی ہوتا نہیں۔ وہ ہمیشہ ہونے والا ہی رہتا ہے۔”
وہ بہت دیر تک خاموش رہا۔
پھر ہنس پڑا۔
اس بار اس کی ہنسی میں پاگل پن نہیں تھا۔
اس میں آزادی تھی۔
دن گزرتے گئے۔
اس نے ایک غار میں رہنا شروع کر دیا۔
وہاں کوئی آئینہ نہیں تھا۔
اس نے پہلی بار اپنے چہرے کو دیکھے بغیر کئی مہینے گزارے۔
اور عجیب بات یہ ہوئی کہ اسے اپنے چہرے کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔
اس نے پتھر پر لکیریں کھینچنا شروع کیں۔
پہلے سیدھی۔
پھر ٹیڑھی۔
پھر ایسی جو کہیں نہیں جاتی تھیں۔
اس نے پہلی بار ایک ایسا نقشہ بنایا جس میں کوئی منزل نہیں تھی۔
اس نے اسے دیوار پر لگا دیا۔
اور اسے دیکھ کر خوش ہوا۔
کیونکہ اس نقشے میں پہلی بار ایک ایسی جگہ تھی جس کا نام اس نے خود رکھا تھا۔
“ممکن”
مگر شہر اسے بھولا نہیں تھا۔
شہر میں اس کے بارے میں افواہیں پھیلنے لگیں۔
کسی نے کہا وہ ناکام ہو گیا۔
کسی نے کہا پاگل ہو گیا۔
کسی نے کہا اس نے دنیا ترک کر دی۔
کسی نے کہا وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔
اور کچھ دانا لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک خطرناک آدمی ہے۔
کیونکہ شہر کو چور سے اتنا خوف نہیں آتا جتنا اس آدمی سے آتا ہے جو یہ پوچھ دے، “جس چیز کو تم زندگی کہتے ہو، کیا تم نے کبھی اسے خود منتخب بھی کیا تھا؟”
سال گزرتے گئے۔
ایک دن شہر کے سارے نقشے بدل گئے۔
ایک نئی نسل آئی۔
نئے راستے بنے۔
پرانی عمارتیں گریں۔
نئے قوانین آئے۔
نئے خواب فروخت ہونے لگے۔
لیکن نقشے باقی رہے۔
صرف ان کی لکیریں بدلتی رہیں۔
لوگوں نے اسے ترقی کہا۔
ایک صبح شہر کے ایک چھوٹے بچے نے اپنے والد سے پوچھا، “ابا! نقشے کے باہر کیا ہے؟”
والد نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
“ایسے سوال نہیں کرتے۔”
بچے نے پوچھا، “کیوں؟”
والد نے کہا، “کیونکہ نقشے کے باہر کچھ نہیں ہوتا۔”
اسی لمحے شہر کے ایک بہت پرانے مکان کی دیوار پر ایک باریک سی دراڑ پڑی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
اور اچانک پوری دیوار میں ایک سفید لکیر نمودار ہو گئی۔
لوگ دوڑے۔
معمار بلائے گئے۔
انجینئر آئے۔
ماہرین نے کہا، “یہ ساختی خرابی ہے۔”
کسی نے کہا، “اسے فوراً بند کرو۔”
کسی نے کہا، “شہر کی سلامتی خطرے میں ہے۔”
مگر بچے اس سفید لکیر کے پاس کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔
ان میں سے ایک نے اپنی انگلی اس دراڑ میں ڈال دی اور چیخ اٹھا، “ابا!”
“کیا ہوا؟”
بچے نے حیرت سے کہا، “یہ دراڑ نہیں ہے۔”
“پھر کیا ہے؟”
بچے نے آنکھیں پھیلا دیں۔
“یہاں تو باہر آسمان ہے!”
لوگوں نے پہلی بار شہر کی دیوار کو غور سے دیکھا۔
پھر انہیں معلوم ہوا کہ دیواریں ہر طرف تھیں۔
مگر ان میں جگہ جگہ باریک سفید دراڑیں پڑ چکی تھیں۔
کسی کے گھر کی چھت پر۔
کسی دفتر کی کھڑکی کے پاس۔
کسی اسکول کے فرش میں۔
کسی عدالت کے دروازے پر۔
کسی عبادت گاہ کے گنبد میں۔
کسی قبر کے کتبے پر۔
اور ہر دراڑ کے پار وہی چیز تھی۔
آسمان۔
شہر کے دانا لوگ خوفزدہ ہو گئے۔
انہوں نے اعلان کیا، “یہ انتشار ہے!”
مگر ایک بوڑھا شخص، جو ساری عمر نقشے بنانے کا کام کرتا رہا تھا، خاموشی سے ایک دیوار کے پاس گیا۔
اس نے اپنی جیب سے قلم نکالا۔
دراڑ کے نیچے ایک لفظ لکھ دیا۔
“راستہ”
لوگ اس پر چیخنے لگے۔
“تم بھی؟”
بوڑھا ہنسا۔
“میں ساری عمر راستے بناتا رہا۔ آج پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ راستے وہ نہیں ہوتے جو ہم کھینچتے ہیں۔”
“پھر؟”
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“راستے وہ ہوتے ہیں جہاں دیوار ختم ہو جائے۔”
بہت برس بعد ایک بچہ شہر سے باہر نکلا۔
اس کے ہاتھ میں کوئی نقشہ نہیں تھا۔
لوگ اسے روکنے کے لیے دوڑے۔
“تم کہاں جا رہے ہو؟”
بچے نے کہا، “پتا نہیں۔”
“تمہیں ڈر نہیں لگتا؟”
“لگتا ہے۔”
“پھر بھی؟”
“ہاں۔”
“اگر راستہ نہ ملا تو؟”
بچے نے مسکرا کر کہا، “تو میں راستہ بناؤں گا۔”
“اگر راستہ غلط نکلا؟”
بچے نے کہا، “تو مجھے معلوم ہو جائے گا کہ وہ غلط تھا۔”
“اور اگر کوئی منزل نہ ملی؟”
بچہ کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر بولا، “شاید منزل ملنا ضروری نہیں۔ شاید چلتے ہوئے آدمی کو یہ معلوم ہونا کافی ہے کہ وہ کسی اور کے نقشے پر نہیں چل رہا۔”
وہ آگے بڑھ گیا۔
دروازے کے پاس کھڑے لوگوں نے اسے جاتے دیکھا۔
پھر ان میں سے ایک نے اپنی جیب ٹٹولی۔
نقشہ نکالا۔
کچھ دیر اسے دیکھا۔
پھر پہلی بار اس نے اس نقشے کو تہہ نہیں کیا۔
اس نے اسے پھاڑ دیا۔
دوسرے آدمی نے بھی۔
پھر تیسرے نے۔
پھر چوتھے نے۔
شہر کے اوپر کاغذ کے ہزاروں ٹکڑے اڑنے لگے۔
لوگ گھبرا گئے۔
انہیں لگا شہر برباد ہو رہا ہے۔
مگر ایک بوڑھی عورت نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، “نہیں۔ یہ شہر برباد نہیں ہو رہا۔ یہ پہلی بار دکھائی دے رہا ہے۔”
اور شاید اسی لمحے، شہر سے بہت دور، ایک غار کے اندر، سفید دیوار پر بنے اس عجیب نقشے میں ایک نئی لکیر نمودار ہوئی۔
وہ کسی منزل تک نہیں جاتی تھی۔
وہ صرف ایک سفید جگہ کے گرد گھومتی تھی۔
اس سفید جگہ کے بیچ ایک چھوٹا سا نقطہ تھا۔
اور اس نقطے کے نیچے کسی نے لکھا تھا:
“یہاں آدمی ابھی ختم نہیں ہوا۔”
