عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

یہ سفر ہے خواہش سے سجدے اور سجدے سے یقین تک کا۔
عشق کو عموماً جس دائرے میں قید کر دیا گیا ہے وہ بہت محدود ہے۔ ہمارے معاشرے میں عشقِ مجازی کا تصور سنتے ہی ذہن فوراً ایک لڑکے اور لڑکی کے تعلق کی طرف چلا جاتا ہے۔ پسند، قربت، شادی کے خواب اور پھر ان خوابوں کو محبت اور عشق کا نام دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عشق کی ایک صورت تو ہو سکتی ہے مگر اس کی پوری حقیقت نہیں۔ عشق دراصل کسی انسان سے وابستگی کا نہیں بلکہ کسی خواہش کو دل میں جگہ دینے اور پھر اس کی تکمیل کے لیے خود کو وقف کر دینے کا نام ہے۔
عشقِ مجازی وہاں سے جنم لیتا ہے جہاں دل میں کوئی خواہش خاموشی سے پلنے لگتی ہے۔ یہ خواہش کسی شخص سے متعلق ہو سکتی ہے، کسی مقصد سے، کسی خواب سے یا کسی ذمہ داری سے۔ ماں باپ کا اپنی اولاد کے لیے بہتر مستقبل کا خواب، کسی مظلوم کے لیے کھڑے ہونے کا عزم، یا کسی ناممکن کو ممکن بنانے کی ضد یہ سب عشق کی صورتیں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے عشق کو صرف رومانوی تعلق تک محدود کر دیا ہے۔
جب خواہش سوچ سے نکل کر ارادہ بن جائے تو یہی عشقِ مجازی کی پہلی پہچان ہے۔ اس مقام پر انسان آسانی اور مشکل کا حساب چھوڑ دیتا ہے۔ اب صرف یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ یہ کام ہونا ہے۔ یہی لگن، یہی جستجو، یہی ضد عشق کا اصل جوہر ہے۔ یہاں انسان تھکتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے مگر پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عام خواہش اور عشق کے درمیان لکیر کھنچ جاتی ہے۔
پھر آزمائشوں کا آغاز ہوتا ہے۔ حالات رکاوٹ بنتے ہیں، وسائل ختم ہوتے ہیں، سوال اٹھتے ہیں، حوصلے توڑے جاتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بہت سے لوگ ہار مان لیتے ہیں اور اپنی خواہش کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ مگر جو یہاں بھی ڈٹا رہے، جو ہر قیمت پر اپنے ارادے کے ساتھ کھڑا رہے، وہی عاشق کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔
اسی مسلسل جدوجہد میں ایک دن درد جنم لیتا ہے۔ یہ عام دکھ نہیں ہوتا۔ یہ وہ درد ہوتا ہے جو انسان کو شکوے کے بجائے سجدے تک لے جاتا ہے۔ یہ درد زبان سے فریاد نہیں بنتا بلکہ آنسو بن کر زمین پر گرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عشقِ مجازی اپنی انتہا کو پہنچتا ہے اور اپنی پہلی موت مرتا ہے۔ یہاں انسان اپنی خواہش اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی حد پوری کر لی، اب تو سنبھال لے۔
یہی سجدہ اصل انقلاب ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں عشقِ مجازی، عشقِ حقیقی کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ جب دعا قبول ہوتی ہے تو سب کچھ ایک دم نہیں بدلتا مگر دل کا یقین بدل جاتا ہے۔ انسان جان لیتا ہے کہ کوئی ہے جو سنتا ہے، جو دیکھتا ہے، جو جواب دیتا ہے۔ یہاں محبت کا مرکز بدل جاتا ہے۔ اب دل خواہش سے نہیں بلکہ اس ذات سے بندھ جاتا ہے جس نے خواہش کو معنی دیے۔
یہاں سے عشقِ حقیقی کا آغاز ہوتا ہے۔ عشقِ حقیقی کی پہلی پہچان سپردگی ہے۔ جو ملے وہ بھی قبول، جو چھن جائے وہ بھی قبول۔ شکوہ دم توڑ دیتا ہے اور شکر سانس لینے لگتا ہے۔ انسان سمجھ لیتا ہے کہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب ہے۔ اب خدا محض عقیدہ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے جس کی موجودگی زندگی کے ہر لمحے میں محسوس ہونے لگتی ہے۔
عشقِ حقیقی انسان کو توڑتا نہیں بلکہ بناتا ہے۔ وہ دل سے خوف نکال دیتا ہے کیونکہ جس نے رب کو پا لیا ہو وہ کسی کھونے سے نہیں ڈرتا۔ خواہشیں باقی رہتی ہیں مگر غلام بن جاتی ہیں۔ دنیا سامنے ہوتی ہے مگر دل پر حکمران نہیں رہتی۔ انسان کام بھی کرتا ہے، خواب بھی دیکھتا ہے، کوشش بھی کرتا ہے مگر دل کسی شے سے بندھا نہیں رہتا سوائے اس ذات کے جس نے دل کو پیدا کیا۔
یہ عشق دل کو نرم بھی کرتا ہے اور مضبوط بھی۔ نرم اس لیے کہ تکبر باقی نہیں رہتا اور مضبوط اس لیے کہ یقین کی جڑیں گہری ہو جاتی ہیں۔ اب انسان لوگوں کے رویّوں سے نہیں ٹوٹتا کیونکہ اس کی پہچان لوگوں سے جڑی نہیں رہتی۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل قیمت خدا کے ہاں ہے اور وہی کافی ہے۔
یہی عشق پھر اظہار مانگتا ہے۔ لفظ خاموش نہیں رہتے، دل اپنے یقین کو بیان کرنا چاہتا ہے۔ یہاں شاعری جنم لیتی ہے، یہاں کلام عبادت بن جاتا ہے۔ یہ کوئی ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ کا فضل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اپنے احساسات کا ترجمان بنا لیتا ہے۔ شاعر وہ ہوتا ہے جو اپنے دکھ، اپنے یقین اور دوسروں کی کہانیوں کو لفظ دے دیتا ہے۔
یوں عشقِ مجازی جو ایک خواہش سے شروع ہوا تھا، ایک درد سے گزرا، ایک سجدے میں ڈھلا، آخرکار عشقِ حقیقی کی صورت مکمل ہو جاتا ہے۔ تب سمجھ آتا ہے کہ عشقِ مجازی منزل نہیں تھا بلکہ راستہ تھا۔ اور عشقِ حقیقی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان خود سے آزاد اور خدا سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ یہی وابستگی عشق کی معراج ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top