(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
میں نے صدائیں دیں، آنکھوں میں انتظار کے دیے جلائے، دستک دی تو دروازہ جیسے پتھروں کا بن گیا، بے حس، بے حرکت۔
وہیں کھڑا رہا، ایک امید کے سہارے کہ شاید کوئی جنبش ہو، کوئی آہٹ سنائی دے، مگر مرشد کی بے نیازی کا یہ عالم کہ نگاہ ڈالنا بھی گوارا نہ کیا۔
بات کرنے کا موقع بھی دیا تو ایسے جیسے احسان کر رہا ہو، الفاظ سنے مگر دل تک اترنے نہ دیے۔ میں نے گریہ کیا، زاری کی، اپنی ہستی کو اس کی دہلیز پر نچھاور کر دیا، مگر اس کی تسلیم کی دنیا میں میری فنا کا کوئی مول نہ تھا۔
یہ کیسا عشق ہے؟
یہ کیسی آزمائش ہے؟
جہاں مرید کا ہر سانس مرشد کے وجود میں تحلیل ہونے کو بے تاب ہے، مگر مرشد کی دنیا میں اس فنا کی کوئی جگہ نہیں؟
یہ وہ لمحہ ہے جہاں عاشق کا عشق خود اس پر سوال اٹھاتا ہے، کیا محبت محض سپردگی کا نام ہے؟ کیا فنا ہونے کی خواہش ہی سچائی ہے؟ یا پھر یہی بے نیازی دراصل حقیقت کی کنجی ہے، جہاں فنا کا تصور بھی امتحان کے سوا کچھ نہیں؟
مرشد کی خاموشی، اس کی بے نیازی، شاید وہ درس ہے جو زبان کے بغیر دیا جاتا ہے۔ ایک آزمائش جس میں مرید کو اپنی طلب اور حقیقت کے درمیان فرق سمجھنا ہوتا ہے۔ شاید یہاں فنا کا مفہوم بدل جاتا ہے، اور ایک نیا در وا ہوتا ہے ،وہ در جو باہر سے نہیں، اندر سے کھلتا ہے۔
