انسان ہونے کا سب سے بڑا ثبوت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی عظمت اس بات سے نہیں پہچانی جاتی کہ وہ اپنے لیے کیا جمع کرتا ہے بلکہ اس لمحے آشکار ہوتی ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کے دکھ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ گزر جائے یا ٹھہر جائے۔ شاید انسان ہونے کا سب سے پہلا اور سب سے معتبر مفہوم یہی ہے کہ ہم کسی دوسرے کے درد کو اپنے وجود سے بے تعلق نہ سمجھیں۔ بھوک جب سامنے ہو تو شناختیں خاموش ہو جاتی ہیں، آنکھ میں آنسو آئے تو مذہب نہیں پوچھا جاتا اور کسی زخمی وجود کو سہارا دیتے وقت ہاتھ یہ نہیں دیکھتا کہ جسے تھاما جا رہا ہے وہ کون ہے۔ درد کی کوئی قوم نہیں ہوتی اور انسانیت کی کوئی سرحد نہیں۔
اجتماعی زندگی کی بنیاد بھی اسی احساس پر رکھی گئی تھی کہ کوئی انسان تنہا مکمل نہیں۔ ایک بیمار کے لیے کسی صحت مند کا ہاتھ درکار تھا، ایک بھوکے کے لیے کسی آسودہ کا ایثار اور ایک کمزور کے لیے کسی طاقتور کا ظرف۔ تہذیبیں صرف عمارتوں، قوانین اور علوم سے نہیں بنتیں؛ وہ اس خاموش معاہدے سے وجود میں آتی ہیں کہ انسان اپنے وجود کی طاقت کو صرف اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ جس معاشرے میں طاقتور کمزور کے لیے جگہ پیدا کرتا ہے وہاں انسانیت نمو پاتی ہے اور جہاں کمزور کو اس کی کمزوری کے حوالے کر دیا جائے وہاں ترقی کے باوجود تہذیب اندر سے ویران ہونے لگتی ہے۔
مذاہب نے اسی انسانی احساس کو ایک بلند تر معنویت عطا کی۔ انہوں نے خدمت کو محض سماجی ضرورت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے اخلاق، عبادت، ایثار اور جواب دہی سے جوڑ دیا۔ انسان کو یہ شعور دیا کہ کسی مخلوق کے درد کو کم کرنا صرف ایک نیکی نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا کی طرف بڑھنے کا ایک راستہ بھی ہے۔ یوں مذہب نے خدمت کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ اس بنیاد کو تقدس، مقصد اور وسعت عطا کی۔ خدمت کا بیج انسانی فطرت میں پہلے سے موجود تھا؛ مذہب نے اسے شجرِ سایہ دار بنا دیا۔
لیکن خدمت کی روح اس وقت مجروح ہو جاتی ہے جب انسان مدد سے پہلے شناخت پوچھنے لگے۔ اگر کسی بھوکے کو روٹی دینے سے پہلے اس کا مذہب معلوم کرنا ضروری ہو جائے، اگر کسی مصیبت زدہ کے زخم پر مرہم رکھنے سے پہلے اس کی قوم دیکھی جائے اور اگر کسی بے سہارا کے آنسو کو اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ وہ ہماری شناخت کا حصہ نہیں تو پھر ہمارے ہاتھ میں خیرات رہ سکتی ہے مگر دل میں انسانیت نہیں رہتی۔ حقیقی خدمت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں “میں” اور “وہ” کے درمیان کھڑی ہوئی مصنوعی دیوار گرنے لگتی ہے۔
انسانیت کا حسن یہ ہے کہ اس کے بنیادی دکھ مشترک ہیں۔ نومولود کی پہلی چیخ کسی مذہب کی محتاج نہیں، ماں کی آنکھ کا آنسو کسی مسلک کا پابند نہیں، بیماری کا درد کسی پاسپورٹ کو نہیں پہچانتا اور موت کسی شناختی کارڈ سے اجازت نہیں مانگتی۔ پھر زندگی کے ان دکھوں کے درمیان کھڑا انسان کیوں اتنی شناختیں اپنے درمیان لے آئے کہ ایک انسان دوسرے انسان تک پہنچنے سے پہلے تعارف کی کئی دیواریں عبور کرے؟
اخلاق کی بلند ترین منزل شاید وہی ہے جہاں نیکی کسی صلے کی محتاج نہیں رہتی۔ جب ہاتھ اس امید کے بغیر اٹھتا ہے کہ بدلے میں کچھ ملے گا، جب کسی کی مدد اس لیے کی جاتی ہے کہ سامنے ایک انسان ہے اور اس کا دکھ کم ہونا چاہیے، تب عمل اپنی ظاہری صورت سے بلند ہو کر کردار بن جاتا ہے۔ دنیا کے بڑے دعوے اکثر زبان سے نکلتے ہیں مگر انسان کی اصل گواہی اس کے ہاتھ دیتے ہیں؛ وہ ہاتھ جو کسی گرتے ہوئے کو اٹھاتے ہیں، کسی بھوکے کو کھانا دیتے ہیں، کسی تنہا کے پاس بیٹھتے ہیں اور کسی ناواقف کے دکھ کو بھی اپنا سمجھ لیتے ہیں۔
خدمتِ خلق دراصل اپنے وجود کی وسعت کا نام ہے۔ جو انسان صرف اپنے گھر تک محسوس کرتا ہے اس کی دنیا چھوٹی ہے، جو اپنے محلے تک محسوس کرتا ہے اس کی دنیا کچھ وسیع ہے، جو اپنی قوم اور معاشرے تک پہنچتا ہے وہ اس سے آگے بڑھتا ہے، مگر جس کا دل انسان کے دکھ پر دھڑکنے لگے خواہ وہ انسان دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتا ہو، اس کا باطن سرحدوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے دوسرا انسان اجنبی نہیں رہتا؛ وہ انسانی خاندان کا ایک ایسا فرد بن جاتا ہے جس کے درد کو نظر انداز کرنا اپنے ہی دل کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔
اور شاید خدمت کی سب سے بلند صورت یہ نہیں کہ ہم کسی کی زندگی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے مشکل ترین لمحے میں اسے یہ احساس دے دیں کہ وہ اکیلا نہیں۔ کبھی ایک روٹی زندگی بچا لیتی ہے، کبھی ایک دوا، کبھی ایک چھت اور کبھی صرف ایک ایسا ہاتھ جو خاموشی سے کندھے پر رکھ دیا جائے۔ بعض اوقات انسان کو مسئلے سے پہلے انسان کی ضرورت ہوتی ہے؛ کوئی ایسا شخص جو اس کے ٹوٹنے کے وقت اسے ٹوٹا ہوا سمجھ کر چھوڑ نہ دے۔
اسی لیے خدمتِ خلق کو کسی مذہبی شناخت کی حد میں مقید کرنا اس کے آفاقی حسن کو محدود کرنا ہے۔ مذہب اسے روحانی بلندی دے سکتا ہے، نیت کو اخلاص عطا کر سکتا ہے اور خدمت کو عبادت کا رنگ دے سکتا ہے، مگر انسانیت کے دروازے پر پہنچ کر سب سے پہلا تعارف یہی رہ جاتا ہے کہ سامنے ایک انسان کھڑا ہے۔ وہاں ہاتھ بڑھانے کے لیے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔
آخرکار انسان اپنے عقیدے کا سب سے خوب صورت تعارف اپنے الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویّے سے کراتا ہے۔ اگر اس کے وجود سے کسی بے سہارا کو سہارا، کسی بھوکے کو رزق، کسی غم زدہ کو حوصلہ اور کسی اجنبی کو اپنائیت مل جائے تو اس نے انسانیت کی وہ زبان بول دی جسے ترجمے کی ضرورت نہیں۔ شاید قیامت کے کسی میزان پر ہماری شناختوں کے نام نہیں بلکہ ہمارے ہاتھوں کے آثار زیادہ گہری گواہی دیں گے کہ ہم زمین پر صرف زندہ تھے یا واقعی انسان بھی تھے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top