(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی تاریخ دراصل خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں ڈھالنے کی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ ہر دور میں علم کو اس جدوجہد کا سب سے مضبوط سہارا سمجھا گیا۔ ڈگری اسی یقین کی علامت ہے کہ انسان نے سوچنا سیکھ لیا ہے، سوال اٹھانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور اب وہ زندگی کے وسیع میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔ مگر جب یہی ڈگری انسان کو میدان میں تنہا چھوڑ دے، تو یہ علامتِ امید نہیں رہتی بلکہ علامتِ سوال بن جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں تعلیم کو تقدس تو ملا، مگر مقصد نہیں ملا۔ ہم نے اسے سماجی وقار، خاندانی فخر اور ذاتی تسکین سے جوڑ دیا، مگر زندگی کے عملی تقاضوں سے کاٹ دیا۔ طالب علم برسوں کتابوں میں جھکا رہتا ہے، امتحانات پاس کرتا ہے، اعزازات سمیٹتا ہے، مگر جب وہ نظام کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو دروازہ پہچان مانگتا ہے، مہارت مانگتا ہے، بقا کی صلاحیت مانگتا ہے۔ وہاں محض نمبر، تمغے اور اسناد خاموش ہو جاتے ہیں۔
اصل سانحہ بیروزگاری نہیں، بلکہ وہ ذہنی شکست ہے جو تعلیم یافتہ انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہے۔ جب ایک پڑھا لکھا نوجوان خود کو غیر ضروری محسوس کرنے لگتا ہے، تو اس کی محرومی صرف ذاتی نہیں رہتی، اجتماعی زخم بن جاتی ہے۔ ایسا فرد نہ صرف اپنے خوابوں سے بدظن ہوتا ہے بلکہ اس نظام پر بھی سوال اٹھاتا ہے جس نے اسے یہ خواب دکھائے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مایوسی جنم لیتی ہے، اور مایوسی آہستہ آہستہ سماجی بے حسی میں بدل جاتی ہے۔
علم اگر زندگی کو سہل نہ بنائے تو وہ محض معلومات کا انبار ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ نہیں کہ انسان دوسروں سے بہتر ثابت ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے لیے مفید بن سکے۔ وہ علم جو ہاتھ کو روزگار نہ دے، کردار کو مضبوط نہ کرے اور انسان کو اپنے پیروں پر کھڑا نہ کرے، وہ علم نہیں بلکہ ایک ادھورا وعدہ ہے۔ ہم نے نسلوں کو وعدوں کے سہارے بڑا کیا، مگر وعدے نبھانے کا نظام تعمیر نہیں کیا۔
تعلیمی ادارے اس وقت اپنی روح کھو دیتے ہیں جب وہ معاشرے سے کٹ جاتے ہیں۔ جب درسگاہ اور بازار ایک دوسرے کی زبان سمجھنا چھوڑ دیں، تب ڈگری اور ہنر کے درمیان خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔ نوجوان کتابوں سے نکل کر جس دنیا میں قدم رکھتا ہے، وہ دنیا اس کے سیکھے ہوئے علم کو پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے۔ یوں تعلیم یافتہ ہونا بھی ایک اضافی بوجھ بن جاتا ہے، کیونکہ توقعات بڑھ جاتی ہیں مگر راستے سکڑ جاتے ہیں۔
قومیں اس وقت ترقی نہیں کرتیں جب وہ صرف ڈگری یافتہ افراد پیدا کریں، بلکہ اس وقت کرتی ہیں جب وہ باصلاحیت، خود کفیل اور باوقار انسان تراشتی ہیں۔ تعلیم اگر انسان کو محض نوکری کا امیدوار بنائے، تو وہ نظام کی رحم و کرم پر رہتا ہے۔ مگر اگر تعلیم اسے تخلیق کرنے والا بنا دے، تو وہ خود نظام تشکیل دیتا ہے۔ فرق صرف زاویۂ فکر کا ہے، مگر یہی فرق قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ ہم نوجوان کو کیا سکھا رہے ہیں: مقابلہ یا بقا؟ امتحان جیتنے کی حکمت عملی یا زندگی سنبھالنے کی صلاحیت؟ اگر تعلیم انسان کو صرف قطار میں کھڑا ہونا سکھائے، تو وہ قطار ختم ہوتے ہی بے سمت ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اسے چلنا، گرنا، سنبھلنا اور دوبارہ کھڑا ہونا سکھائے، تو کوئی نظام اسے بے کار نہیں کر سکتا۔
اب وقت ہے کہ ہم تعلیم کو نئی تعریف دیں۔ ایسی تعریف جو صرف نصاب تک محدود نہ ہو بلکہ زندگی تک پھیلی ہو۔ ہنر، اخلاق، خود اعتمادی اور عملی بصیرت کو تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ نوجوان کو یہ یقین دیا جائے کہ اس کی قدر صرف کسی ادارے کے تقرر نامے سے مشروط نہیں، بلکہ اس کی صلاحیت، محنت اور تخلیقی قوت سے وابستہ ہے۔
ڈگری اگر انسان کو خودی نہ دے، تو وہ محض ایک کاغذ ہے۔ اور وہ معاشرہ جو اپنے نوجوانوں کو کاغذی وقار دے کر عملی محرومی میں دھکیل دے، دراصل اپنے مستقبل سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ڈگریاں بانٹنا چاہتے ہیں یا زندگیاں سنوارنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اصل سوال اب یہ نہیں کہ ہم نے کتنا پڑھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس علم کے ساتھ جینے کے قابل بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔
ہمیں تعلیم کو محض ذہنی آسودگی کا ذریعہ نہیں بلکہ عملی خودداری کی بنیاد بنانا ہو گا۔ علم کو ہاتھ سے، سوچ کو عمل سے اور خواب کو ہنر سے جوڑنا ہو گا۔ کیونکہ وہ معاشرہ جو اپنے نوجوان کو صرف پڑھنا سکھاتا ہے، مگر جینے کا ہنر نہیں دیتا، وہ دراصل اسے ایک باوقار مستقبل کے بجائے ایک خاموش جدوجہد کے حوالے کر دیتا ہے۔
ڈگری اگر راستہ نہ دکھائے تو وہ منزل نہیں، محض ایک موڑ ہوتی ہے۔ اور قوموں کی بقا اس بات میں ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو موڑ پر نہیں، منزل پر کھڑا دیکھیں۔
