(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
جمال وہ پہلا راز ہے جو کائنات نے انسان کے کان میں پھونکا تھا، اور یہی وہ آخری راز ہے جو انسان کبھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ انسان جب اپنی ہتھیلیوں پر مٹی رکھتا ہے تو اس کے اندر ایک لطیف گمان جاگ اٹھتا ہے کہ شاید وہ اس بے شکل ہستی کو ایک ایسی صورت دے سکے جو اس کے ارادے کی توسیع ہو۔ مگر کائنات کی تہوں میں لکھا ہوا قانون اس سے کہیں زیادہ سخت، کہیں زیادہ لطیف اور کہیں زیادہ بے نیازی سے بھرا ہوا ہے: جو چیز آزاد ہو، اسے کوئی شکل مکمل طور پر اپنا نہیں سکتی۔ انسان تخلیق تو کر سکتا ہے، مگر تخلیق کے سفر کی سمت کا تعین نہیں کر سکتا۔ وہ آگ تو روشن کر سکتا ہے، مگر اس کی لو کی وفاداری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
وجود کے اسرار میں ایک بات بہت نمایاں ہو کر ابھرتی ہے کہ حسن کبھی کسی خالق کا مقروض نہیں رہتا۔ وہ ہر ہاتھ سے پھسل کر اپنی سمت خود چنتا ہے۔ خواہ کوئی اسے تراشے، ڈھالے، یا سانسوں کی حرارت سے بیدار کرے، اس کی اصل فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا مالک خود ہو۔ انسان جب تخلیق کے غرور میں ڈوب کر یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ جو میں نے بنایا ہے وہ میرا ہے، تب آسمان کے ساتھ اس کا پہلا جھگڑا شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ آسمان اس کی انگلیوں پر ہنستا ہے اور کہتا ہے: معنی کا مالک میں ہوں، تو نہیں۔
انسان نے ابتداء سے آج تک ایک ہی خطا دہرائی ہے۔۔خاک سے روشنی پیدا کرنے کی خواہش کو خدا بننے کی تمہید سمجھ لیا۔ مگر روشنی کبھی کسی ایک کی ملکیت نہیں رہی۔ وہ ایک آوارہ سچائی ہے، کسی کی گرفت میں نہ آنے والی، اپنے دائرے میں مکمل۔ انسان چاہے کتنی بار بھی مٹی کو سانس دے، وہ اس سانس کی سمت پر اختیار نہیں پا سکتا۔ تخلیق کا لمحہ اگر انسان کی جیت ہے تو تخلیق کی آزادی اس کی شکست؛ اور یہی شکست اس کی اصل فتح بھی ہے، کیونکہ اسی لمحے وہ پہلی بار اپنی حد پہچانتا ہے۔
اصل حسن وہ ہے جو کسی ظرف میں سما نہ سکے۔ جو ظرف میں سما جائے وہ شے ہے، حسن نہیں۔ جو قابو میں آ جائے وہ صنعت ہے، جمال نہیں۔ انسان اپنی تمنا کی شدت میں حسن کو پکڑنے کی کوشش ضرور کرتا ہے، مگر حسن پکڑتے ہی اپنی ماہیت کھو دیتا ہے۔ جیسے ہوا کو بند کیا جائے تو وہ ہوا نہیں رہتی، یا جیسے پانی کو مضبوط مٹھی میں قید کیا جائے تو وہ بہنے کی بجائے ختم ہو جاتا ہے۔ حسن کا جوہر اس کی جگہ بدلنے کی قوت میں ہے۔ اس کی بے وفائی نہیں، اس کی آزادی اسے حسن بناتی ہے۔
تخلیق کا پہلا امتحان طاقت نہیں، ذمہ داری ہے۔ سچا خالق وہ نہیں جو شکل دے، بلکہ وہ ہے جو شکل کی آزادی کا احترام بھی کرے۔ ہر تخلیق اپنے وجود کے ساتھ ایک تقدیر لاتی ہے، اور خالق پر لازم ہے کہ وہ اس تقدیر کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فن عبادت بن جاتا ہے، اور انسان اپنے غرور سے نکل کر ایک خاموش عاجزی میں داخل ہوتا ہے۔ اس عاجزی کے بغیر ہر شکل محض جبر بن جاتی ہے، اور ہر حسن محض ایک قید۔
پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب خالق کی تخلیق اس سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ وہ ہاتھ جنہوں نے اسے بنا کر زندگی دی تھی، اب اس کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پاتے۔ اسی لمحے خالق کے دل میں ایک دھیمی سی اذان گونجتی ہے: تو بناتا ہے مگر چلاتا نہیں؛ تو وجود دیتا ہے مگر ہدایت نہیں دیتا؛ تو آغاز ہے مگر انجام نہیں۔ یہی وہ بیداری ہے جو انسان کو اس کے غرور سے آزاد کرتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ تخلیق اس کی ملکیت نہیں، اس کی آزمائش ہے۔
جمال اور انسان کے درمیان ایک ازلی مکالمہ جاری رہتا ہے۔ انسان ہاتھ بڑھاتا ہے، جمال پیچھے ہٹ جاتا ہے؛ انسان تھکتا ہے، جمال نئے جہان کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ مگر اس مکالمے میں شکست بھی ہے اور قربت بھی؛ فاصلہ بھی ہے اور مہکار بھی۔ انسان اگر اپنی حد میں رہ کر جمال کو آزاد دیکھ سکے، تو اسی لمحے وہ خود بھی آزاد ہو جاتا ہے۔ کیونکہ آزادی کا پہلا اصول یہی ہے کہ جو آزاد ہے، اسے آزاد رہنے دیا جائے۔
آخر میں ساری کائناتی حکمت ایک جملے میں سمٹ آتی ہے:
حسن وہ ہے جو کسی کی ملکیت نہ بنے، اور انسان وہ ہے جو اپنی حد پہچان لے۔
تخلیق میں طاقت ہے، مگر اخلاق اس سے بلند ہے۔
جمال میں روشنی ہے، مگر آزادی اس سے زیادہ مقدّس ہے۔
اور انسان میں خواہش ہے، مگر اس کی حقیقت اس کے اعترافِ محدودیت میں ہے۔
جمال آزاد رہتا ہے۔۔۔۔اور انسان اپنی سچائی میں مکمل ہو جاتا ہے۔
