سکوتِ صحرا، صدائے سمندر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بچپن کا عالم بڑا عجیب ہوتا ہے۔ انسان ابھی لفظوں سے واقف نہیں ہوتا، مگر بعض تجربات اس کی روح پر ایسے نقش کر دیے جاتے ہیں جیسے کسی مقدس صحیفے پر پہلی آیت اترتی ہے۔ سمندر اور صحرا سے میری پہلی ملاقاتیں بھی کچھ ایسی تھیں۔ میں نے انہیں اس وقت دیکھا جب میں اپنے اندر کے جہان سے بھی واقف نہ تھا۔ اور آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ یہ دونوں مناظر میرے باہر نہیں تھے، یہ میرے اندر اُگتے ہوئے دو خصوصی جہان تھے جن کی زمین پر میری شخصیت کی بنیاد پڑنی تھی۔ اس وقت مجھے سمجھ نہیں تھی کہ کائنات انسان کو بچپن میں ہی وہ نشان دکھا دیتی ہے جن کے ذریعے وہ بعد میں خود کو پہچانتا ہے، مگر آج مجھے معلوم ہے کہ یہ دونوں منظر میرے اندر کی پہلی وحی تھے۔
سمندر نے اپنے شور کے ساتھ مجھے بتایا کہ زندگی ایک مسلسل ارتعاش ہے، ایک نہ ختم ہونے والی روانی۔ اس کی ہر موج میں ایک عجیب سی دعوت ہوتی تھی، یوں لگتا جیسے کوئی مجھے پکار رہا ہو کہ آؤ، اپنے اندر کی گہرائیوں کو دیکھو، وہاں بھی ایسی ہی لہریں ہیں، ایسی ہی چنگاریاں، ایسے ہی طوفان۔ میں اس وقت کم عمر تھا مگر دل کے اندر کچھ ایسا تھا جو ان لہروں کی زبان سمجھتا تھا۔ وہ لہریں جب ٹوٹ کر واپس جاتی تھیں تو ایک خاموش سا زخم چھوڑ جاتی تھیں، اور جب اگلی لہر آتی تھی تو وہ زخم ایک نئی کیفیت میں بدل جاتا تھا۔ میں سمجھ نہیں پاتا تھا کہ یہ پانی کا کھیل ہے یا میری روح کا تحرک، مگر ایک بات یقینی تھی کہ سمندر نے مجھے پہلی مرتبہ “تجسس” کی طرف مائل کیا، وہ تجسس جو آگے چل کر معرفت کے دروازے بناتا ہے۔
دوسری طرف صحرا کا تجربہ سمندر سے بالکل مختلف تھا۔ جہاں سمندر نے شور کے ذریعے مجھے ہلایا، وہاں صحرا نے خاموشی کے ذریعے مجھے تھام لیا۔ میں پہلی بار اس ریتیلے جہان میں داخل ہوا تو یوں لگا جیسے دنیا اچانک رک گئی ہو۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی ہجوم، نہ کوئی منظر جسے آنکھ پکڑ سکے۔ بس ایک لامتناہی خاموشی، ایک ایسی تنہائی جس کے سامنے انسان خود کو بےنقاب محسوس کرتا ہے۔ یہاں لفظ بےمعنی ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ سوچ بھی اپنی ترتیب کھو دیتی ہے۔ صحرا نے مجھے بتایا کہ انسان اپنے لباس، اپنی آواز، اپنی شخصیت کے پردوں میں بہت کچھ چھپا لیتا ہے، مگر جب وہ اس بےنشان وسعت میں کھڑا ہوتا ہے تو سب پردے اتر جاتے ہیں۔ یہاں انسان اپنے “نفسِ حقیقی” کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ اپنے اندر پہلی بار جھانکتا ہے۔
صحرا کے ٹیلے اپنے اندر پوری ایک حکمت رکھتے ہیں۔ صبح ان کی جسامت کچھ اور ہوتی ہے، شام تک وہ نئی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور کئی بار رات انہیں دوبارہ بدل دیتی ہے۔ یہ تبدیلیاں مجھے بتاتی تھیں کہ دنیا کی کوئی شکل مستقل نہیں رہتی۔ ہر چیز وقت کے ساتھ ٹوٹتی ہے، بکھرتی ہے، اور پھر ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ میں نے جانا کہ پائیداری نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود نہیں، مگر سوال ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ انسان سوالوں سے بھاگ کر بھی کہیں نہیں جا سکتا، کیونکہ سوال اس کے اندر رہتے ہیں، اسی کے خون کا حصہ بن جاتے ہیں۔ صحرا نے مجھے یہ سکھایا کہ سوال سے خوف کھانے والا انسان کبھی اپنی اصل تک نہیں پہنچتا۔
جب میں دونوں تجربات کو ساتھ رکھ کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ دونوں کائنات کے دو مکالمے تھے۔ سمندر نے مجھے دکھایا کہ زندگی مسلسل چلتی ہے، رُکتی نہیں، بہتی ہے، ٹوٹتی ہے، دوبارہ بنتی ہے۔ یہ حرکت ہی انسان کو اندر سے زندہ رکھتی ہے۔ سمندر نے مجھے احساس دیا کہ انسان کے اندر ایک ایسی لہر بھی ہے جو کبھی تھکتی نہیں، کبھی رکتی نہیں، کبھی فنا کے خوف سے دبتی نہیں۔ یہ لہر حقیقت کی طرف دھکیلتی ہے، اور اس کے ہر ٹوٹنے میں ایک نئی بیداری موجود ہوتی ہے۔
صحرا نے اس تجربے کا دوسرا رخ کھولا۔ اس نے بتایا کہ حرکت اپنی جگہ ضروری ہے، مگر سکوت بھی ایک مقام رکھتا ہے۔ جسے ہم خاموشی سمجھتے ہیں وہ دراصل ایک انکشاف ہے۔ صحرا کی خاموشی نے مجھے بتایا کہ روح صرف جوش اور جذبے سے نہیں بنتی، وہ خلوت سے بھی بنتی ہے۔ انسان جب اس خلا میں داخل ہوتا ہے جہاں کوئی آواز نہیں ہوتی، وہاں اسے اپنی اندرونی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز کبھی سوال ہوتی ہے، کبھی خوف، کبھی محبت، اور کبھی ایک ایسی روشنی جو دل میں چپ چاپ اترتی چلی جاتی ہے۔
وقت کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر یہی دو جہان آباد ہیں۔ ایک سمندر ہے جو مجھے بےقرار رکھتا ہے، مجھے بیدار کرتا ہے، میرے اندر ایک ایسی حرکت رکھتا ہے جو مجھے سوچ سے آگے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اور دوسرا صحرا ہے جو مجھے خاموش رکھتا ہے، مگر اسی خاموشی میں مجھے گہرائی دیتا ہے۔ میں جب اپنی خاموشیوں میں ڈوبتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میرے اندر کا صحرا مجھے حقیقت کے قریب لاتا ہے۔ اور جب میرے اندر کا سمندر جاگتا ہے تو وہی مجھے سوالوں کی نئی سمت دیتا ہے۔
شاید انسان انہی دو تجربات سے بنتا ہے۔ جو صرف خاموش ہو جائے وہ زندگی سے کٹ جاتا ہے، اور جو صرف بےقرار ہو وہ حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ اصل زندگی وہ ہے جہاں انسان اپنے اندر کے سمندر کی حرکت بھی محسوس کرے اور اپنے صحرا کی خاموشی بھی۔ انسان جب ان دونوں کی زبان سمجھ لیتا ہے، تب اس کے اندر ایک نئی دنیا کھلتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب باطن روشن ہونے لگتا ہے، جیسے تاریکی میں دور کہیں سے کوئی ہلکی سی روشنی ابھر رہی ہو۔ شاید یہی روشنی معرفت کا پہلا قدم ہے، وہ قدم جو انسان کو خود تک لے جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top