(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
عشق زندگی میں آنے والا کوئی معمولی جذبہ نہیں کہ آدمی چند لمحے بےقرار ہو اور پھر معمول کی دنیا میں واپس آ جائے۔ عشق جب حقیقت بن کر دل میں اترتا ہے تو سب سے پہلے انسان کے اندر موجود اس شخص کو تلاش کرتا ہے جسے وہ برسوں سے خود سمجھتا رہا ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے غرور کی تہیں کھولتا ہے، خواہشوں کے شور کو خاموش کرتا ہے اور انا کے اس بت کو توڑ دیتا ہے جس کے گرد انسان نے اپنی پوری شخصیت تعمیر کر رکھی ہوتی ہے۔ عشق کا سب سے بڑا معجزہ یہ نہیں کہ وہ دل کو کسی کے لیے دھڑکنا سکھاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ دل کو اپنے علاوہ کسی اور حقیقت کے لیے زندہ کرنا سکھا دیتا ہے۔
عشق انسان سے اس کی بہت سی چیزیں نہیں چھینتا بلکہ اسے ان چیزوں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے جنہیں وہ اپنا سمجھ کر عمر بھر اٹھائے پھرتا ہے۔ خواہش باقی رہتی ہے مگر اس کی حاکمیت ختم ہو جاتی ہے۔ عزت باقی رہتی ہے مگر اس کی طلب کم ہو جاتی ہے۔ دنیا باقی رہتی ہے مگر دنیا انسان کے اندر سے اتر جاتی ہے۔ آدمی وہی رہتا ہے مگر اس کی نظر بدل جاتی ہے؛ اور جب نظر بدل جائے تو وہی راستے جو پہلے شکایت بن کر سامنے آتے تھے، شکر کا سبب بننے لگتے ہیں۔ عشق حالات کو نہیں بدلتا، پہلے انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں حالات کی پرانی معنویت باقی نہیں رہتی۔
عشق کی ایک عجیب کیمیاگری ہے؛ یہ زخم کو صرف درد نہیں رہنے دیتا، اسے شعور بنا دیتا ہے۔ محرومی کو صرف محرومی نہیں رہنے دیتا، اسے معرفت کا دروازہ بنا دیتا ہے۔ تنہائی کو ویرانی نہیں رہنے دیتا، اسے اپنے باطن سے ملاقات کا موقع بنا دیتا ہے۔ انسان جب تک ہر واقعے کو اپنے خلاف سمجھتا رہتا ہے، وہ زندگی سے لڑتا رہتا ہے؛ مگر عشق اسے یہ راز سکھا دیتا ہے کہ بعض شکستیں انسان کو گراتی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی ایک بڑی حقیقت کے سامنے جھکا دیتی ہیں۔
عشق کا سفر باہر سے اندر کی طرف ہوتا ہے۔ پہلے آدمی لوگوں کو دیکھتا ہے، پھر ان کے رویوں کو سمجھتا ہے، پھر اپنے ردِعمل کو دیکھنے لگتا ہے اور ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس دنیا سے وہ برسوں لڑتا رہا، اس کا ایک بڑا حصہ اس کے اپنے اندر آباد تھا۔ تب اسے دوسروں کو بدلنے سے زیادہ اپنے اندر کے اندھیرے کو روشن کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عشق جذبات سے بلند ہو کر تربیت بن جاتا ہے، اور تربیت سے آگے بڑھ کر عبادت کی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔
عشق کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو نرم کرتا ہے مگر کمزور نہیں، خاموش کرتا ہے مگر بےزبان نہیں، جھکاتا ہے مگر گراتا نہیں۔ وہ دل سے انتقام کی جگہ درگزر، شکایت کی جگہ بصیرت اور خود نمائی کی جگہ اخلاص پیدا کرتا ہے۔ آدمی پھر نیکی اس لیے نہیں کرتا کہ اسے دیکھا جائے بلکہ اس لیے کہ اس کا دل برائی کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ کسی کے دکھ کو اس لیے محسوس نہیں کرتا کہ اسے اچھا انسان سمجھا جائے بلکہ اس لیے کہ دوسرے کا درد اس کے اپنے وجود میں دستک دینے لگتا ہے۔
اور شاید عشق کی سب سے بلند منزل یہی ہے کہ انسان اپنی ذات کا قیدی نہیں رہتا۔ اس کی خوشی صرف اپنی خوشی نہیں رہتی، اس کا سکون صرف اپنے سکون تک محدود نہیں رہتا اور اس کی زندگی صرف اس کے اپنے لیے نہیں رہتی۔ وہ جہاں جاتا ہے وہاں کسی کے لیے آسانی بننے کی کوشش کرتا ہے، کسی کے دل پر بوجھ نہیں۔ اس کے پاس الفاظ کم بھی ہوں تو اس کی موجودگی تسلی بن جاتی ہے۔ وہ چراغ بننے کا دعویٰ نہیں کرتا مگر اس کے قریب بیٹھنے والوں کو اندھیرا کچھ کم محسوس ہونے لگتا ہے۔
عشق کی انتہا یہ نہیں کہ انسان کسی مقام تک پہنچ جائے؛ عشق کی انتہا یہ ہے کہ انسان وہ شخص نہ رہے جو اس سفر کے آغاز میں تھا۔ جس دل میں کبھی اپنی ذات کا شور بہت تھا وہاں سکون اتر آئے، جس زبان پر کبھی شکایت بہت تھی وہاں شکر ٹھہر جائے، جس نگاہ میں کبھی صرف اپنا مفاد تھا وہاں دوسروں کا درد دکھائی دینے لگے اور جس وجود کو کبھی دنیا سے کچھ نہ کچھ لینا تھا وہ ایک دن دنیا کو کچھ دینے کی آرزو میں جینے لگے۔
عشق کی پہچان یہ نہیں کہ آپ نے کیا پایا؛ عشق کی پہچان یہ ہے کہ آپ کے اندر سے کیا مٹ گیا اور اس کی جگہ کیا پیدا ہو گیا۔ کیونکہ سچا عشق انسان کو کسی اور جیسا نہیں بناتا، وہ اسے پہلی بار اس انسان سے ملواتا ہے جو وہ حقیقت میں بننے کے لیے پیدا ہوا تھا۔
