(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
محبت میں سب سے گہرا خوف محبوب کو کھو دینے کا نہیں ہوتا، بلکہ اس لمحے کا ہوتا ہے جب محبوب ہماری زندگی سے نکل جائے اور ہمیں اپنی ہی زندگی اجنبی لگنے لگے۔ محبت کسی وجود کو اپنے دل کے اتنا قریب لے آتی ہے کہ اس کی موجودگی ہماری خوشیوں کا حوالہ اور اس کی دوری ہماری بے قراری کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر ایک مسکراہٹ پر دن روشن ہوتا ہے اور ایک خاموشی پوری رات پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ محبت چاہتی ہے کہ جسے چاہا ہے وہ ہمیشہ پاس رہے، اس کے ہاتھ کی حرارت قائم رہے، اس کی آواز سنائی دیتی رہے اور تعلق کی ڈور کسی اچانک موسم میں ٹوٹ نہ جائے۔ اسی لیے محبت کے دامن میں خوشی کے ساتھ ایک انجانا سا خوف بھی پلتا رہتا ہے؛ جتنا گہرا تعلق، اتنا ہی گہرا کھونے کا اندیشہ۔
محبت محبوب کو پانا چاہتی ہے، عشق محبوب میں اپنا آپ کھو دینا چاہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محبت کی نفسیات ختم ہونے لگتی ہے اور عشق کی معرفت شروع ہوتی ہے۔ محبت میں انسان کہتا ہے “وہ میرا ہے” اور عشق میں اس کی زبان سے صرف “میں اس کا ہوں” نکلتا ہے۔ محبت قربت کی خواہش رکھتی ہے، عشق قربت کو بھی وسیلہ سمجھ کر رضا کی منزل تلاش کرتا ہے۔ محبت اپنے حصے کا اطمینان چاہتی ہے، عشق محبوب کے اطمینان میں اپنا اطمینان دریافت کر لیتا ہے۔
عشق میں کھونے کا خوف اس لیے باقی نہیں رہتا کہ عاشق اپنے آپ کو پہلے ہی محبوب کے سپرد کر چکا ہوتا ہے۔ جس نے اپنی ہستی کا دعویٰ چھوڑ دیا اسے اپنی ہستی کے مٹنے کا خوف کیسا؟ وہاں “میں” آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگتا ہے اور “تو” ہی حقیقت بن کر رہ جاتا ہے۔ عاشق کے لیے وصال صرف پاس آ جانے کا نام نہیں اور فراق صرف دور ہو جانے کا نام نہیں؛ اصل وصال یہ ہے کہ دل میں محبوب کے سوا کسی اور کی مرکزیت باقی نہ رہے اور اصل فراق یہ ہے کہ انسان محبوب کے قریب ہو کر بھی اپنے نفس سے جدا نہ ہو سکے۔
محبت میں ہم محبوب کو اپنی خوشی کا حصہ بناتے ہیں، عشق میں اپنی خوشی کو محبوب کی رضا کے تابع کر دیتے ہیں۔ محبت کہتی ہے کہ مجھے وہ مل جائے جو میں چاہتا ہوں، عشق کہتا ہے کہ جو وہ چاہے وہی میرے لیے کافی ہے۔ یہی ایک فرق انسان کے پورے باطن کو بدل دیتا ہے۔ وہاں خواہش عبادت بن سکتی ہے، انتظار تربیت بن سکتا ہے اور محرومی بھی قربت کا ایک نیا راستہ کھول سکتی ہے۔ عاشق ہر عطا میں محبوب کا فضل اور ہر آزمائش میں اس کی حکمت تلاش کرتا ہے۔
اسی لیے عشق میں شکوہ بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ جسے محبوب کی رضا عزیز ہو جائے وہ اپنے حصے کی خوشی اور غم کا حساب کہاں رکھتا ہے؟ وہاں سوال کم ہوتے جاتے ہیں اور تسلیم بڑھتی جاتی ہے۔ انسان یہ نہیں پوچھتا کہ “میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟” بلکہ اپنے دل سے یہ پوچھتا ہے کہ “اس حال میں بھی میں اپنے محبوب کی رضا کیسے پا سکتا ہوں؟” یہی سوال انسان کو شکایت سے شکر، بے قراری سے سکون اور خواہش سے رضا کی طرف لے جاتا ہے۔
عشق فنا کی بات کرتا ہے مگر یہ فنا نیستی نہیں؛ یہ اپنی خود ساختہ انا سے نجات ہے۔ جب انسان اپنی ذات کے گرد کھینچی ہوئی دیواریں گرا دیتا ہے تو اسے پہلی مرتبہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا محدود ہو کر زندہ تھا۔ اپنی خواہش، اپنی انا، اپنی ضد اور اپنے حقِ ملکیت کے دعوے سے گزر جانا دراصل ایک ایسی وسعت میں داخل ہونا ہے جہاں محبت صرف ایک جذبہ نہیں رہتی بلکہ وجود کا طرزِ حیات بن جاتی ہے۔
محبت محبوب کو بچانا چاہتی ہے، عشق محبوب کی رضا میں خود کو بچا لیتا ہے۔ محبت کہتی ہے کہ یہ تعلق نہ ٹوٹے، عشق کہتا ہے کہ اگر تعلق کی بقا کے لیے مجھے اپنے نفس کو توڑنا پڑے تو یہ سودا مہنگا نہیں۔ محبت کبھی کبھی محبوب کو اپنی دنیا میں محفوظ کرنا چاہتی ہے، عشق محبوب کو اپنی دنیا کا مالک مان کر خود اس دنیا کا ایک ذرّہ بننے پر راضی ہو جاتا ہے۔
اور پھر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں عاشق کو نہ وصال کی طلب اپنی طرف کھینچتی ہے نہ فراق کا خوف پیچھے ہٹاتا ہے۔ وہاں محبت کسی واقعے کا نام نہیں رہتی، ایک کیفیت بن جاتی ہے؛ ایسی کیفیت جس میں محبوب سامنے ہو تو شکر اور پردے میں ہو تو انتظار، عطا ملے تو سجدہ اور آزمائش آئے تو بھی سجدہ۔ کیونکہ عشق نے محبوب کو پانے سے آگے بڑھ کر محبوب کی رضا میں پائے جانے کا راز سیکھ لیا ہوتا ہے۔
محبت کہتی ہے: مجھے تمہیں کھونے کا ڈر ہے۔ عشق کہتا ہے: میں خود کہاں باقی ہوں کہ تمہیں کھو سکوں۔ محبت محبوب کو اپنے دل میں جگہ دیتی ہے، عشق اپنے دل کی پوری سلطنت محبوب کے نام کر دیتا ہے۔ اور شاید عشق کی آخری منزل یہی ہے کہ انسان فنا ہونے سے نہ ڈرے، کیونکہ جس ہستی میں وہ فنا ہوتا ہے اگر وہ محبوبِ حقیقی ہو تو وہاں مٹنا اختتام نہیں رہتا؛ وہیں سے وہ بقا کا وہ راز پاتا ہے جسے دنیا بھر کی زندگی مل کر بھی بیان نہیں کر سکتی۔
