(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وعدہ شاید لفظ نہیں، ایک عارضی پناہ ہے۔ انسان جب کسی کے لہجے پر یقین کرتا ہے تو اپنے دل کا ایک حصہ اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ صرف ایک جملہ نہیں سن رہا بلکہ اپنے آنے والے دنوں کے لیے ایک امید تعمیر کر رہا ہے۔ اسی لیے وعدہ ٹوٹتا ہے تو صرف ایک بات نہیں ٹوٹتی، انسان کے اندر مستقبل کا ایک امکان ٹوٹ جاتا ہے۔ کل جو شخص اپنے لفظوں میں پناہ دیتا تھا، وہی جب اپنے کہے ہوئے سے مکر جائے تو آدمی کچھ دیر تک یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اسے دھوکا ملا ہے یا وہ اپنے ہی یقین سے محروم ہوا ہے۔
کچھ لوگ وعدے نبھانے کے لیے نہیں کرتے، وہ صرف اس لمحے کو خوبصورت بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا لفظوں کو لفظ نہیں سمجھ رہا، وہ انہیں آنے والے وقت کی ضمانت سمجھ رہا ہے۔ مگر بولنے والے کے لیے وہ صرف ایک جملہ ہوتا ہے اور سننے والے کے لیے پوری زندگی کا نقشہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک معمولی سا وعدہ کسی کی نیند، کسی کی امید اور کبھی کبھی کسی کے پورے مستقبل کا حصہ بن جاتا ہے۔ وعدہ ٹوٹنے کا دکھ اس لیے نہیں ہوتا کہ کوئی بات پوری نہ ہوئی؛ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ جس شخص کو اپنے لفظوں کا امین سمجھا تھا، وہ اپنے ہی لفظوں کا وفادار نہ نکلا۔
عجیب بات ہے کہ انسان جھوٹ سن کر کبھی کبھی معاف کر دیتا ہے مگر ٹوٹے ہوئے وعدے کو دیر تک نہیں بھولتا۔ شاید اس لیے کہ جھوٹ حقیقت کو چھپاتا ہے اور وعدہ مستقبل کو روشن دکھاتا ہے۔ جھوٹ کھل جائے تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے مگر وعدہ ٹوٹے تو انسان کچھ عرصہ اس مستقبل کو ڈھونڈتا رہتا ہے جو کبھی تھا ہی نہیں۔ وہ انہی راستوں پر واپس جاتا ہے جہاں کبھی کسی نے کہا تھا “میں ہوں”، انہی لفظوں کو یاد کرتا ہے جنہیں وقت نے بےمعنی کر دیا اور پھر ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ ہماری زندگی سے نہیں جاتے، وہ ہمارے یقین سے نکل جاتے ہیں؛ اور یقین سے نکل جانے والے لوگ یاد تو رہتے ہیں مگر اعتبار نہیں رہتا۔
وعدے بھی عجیب مسافر ہیں۔ کچھ وقت کے ساتھ منزل پا لیتے ہیں اور کچھ صرف راستے میں خوبصورت لگتے ہیں۔ کچھ لفظ زندگی بن جاتے ہیں اور کچھ زندگی بھر کا سوال۔ بعض وعدے انسان کو انتظار سکھاتے ہیں، بعض انتظار کو عذاب بنا دیتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ اذیت ناک وہ وعدے ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنے کا وقت گزر جاتا ہے مگر ان کا اثر نہیں گزرتا۔ آدمی جانتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہونا مگر دل کبھی کبھی پھر بھی دروازے کی طرف دیکھ لیتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ وہ نہیں آئے گا اور یاد کہتی ہے شاید آج آ جائے۔ یہی “شاید” انسان کے اندر سب سے طویل انتظار پیدا کرتا ہے۔
پھر ایک دن انسان وعدوں سے نہیں بلکہ وعدہ کرنے والوں سے خوف کھانے لگتا ہے۔ اسے خوبصورت باتیں سن کر خوشی نہیں ہوتی بلکہ ایک انجانی تشویش گھیر لیتی ہے کہ کہیں یہ الفاظ بھی وقت کے پہلے موڑ پر دم نہ توڑ دیں۔ وہ یقین کرنے سے پہلے بہت کچھ سوچتا ہے، کسی کے “میں ہمیشہ ساتھ ہوں” کو سن کر خاموش رہتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہو چکا ہوتا ہے کہ ہمیشہ کہنے میں ایک لمحہ لگتا ہے مگر ہمیشہ نبھانے میں پوری زندگی۔ تب اسے سمجھ آتی ہے کہ وعدہ زبان کی خوبصورتی نہیں، کردار کی آزمائش ہے۔
اسی لیے شاید وعدہ وہ نہیں جو کسی نے تم سے کہا تھا۔ وعدہ وہ ہے جو وقت گزرنے کے بعد بھی اس کے کردار میں زندہ رہے۔ باقی سب آوازیں ہیں؛ کچھ دیر دل میں گونجتی ہیں اور پھر خاموش ہو جاتی ہیں۔
اور شاید سب سے بڑا دکھ وعدہ ٹوٹنے کا بھی نہیں ہوتا۔ سب سے بڑا دکھ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے جس لفظ کو اپنی زندگی کا سہارا سمجھا تھا، وقت نے اسے صرف ایک آواز ثابت کر دیا۔
تب انسان کسی سے یہ نہیں پوچھتا کہ وعدہ کیوں ٹوٹا؛ وہ خاموشی سے اپنے دل سے پوچھتا ہے کہ جس لفظ پر میں نے اپنا یقین رکھ دیا تھا، کیا وہ کبھی یقین کے قابل تھا بھی؟
وعدہ ٹوٹے تو صرف ایک بات ختم نہیں ہوتی؛ اس کے ساتھ وہ یقین بھی ٹوٹ جاتا ہے جس کے سہارے انسان نے اپنا ایک پورا مستقبل کسی کے نام کر دیا تھا، اور کبھی کبھی اسی ایک شکست کے ساتھ کسی پر یقین کرنے کی پوری عمر ختم ہو جاتی ہے۔
