وعدہ تو کیا ہوتا؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

وعدہ تو کیا ہوتا؟ شاید ایک ایسی امانت جسے انسان زبان کے حوالے کرتا ہے مگر جس کی ذمہ داری وقت اٹھاتا ہے۔ انسان جب کسی سے وعدہ کرتا ہے تو دراصل صرف زبان سے کوئی بات نہیں کہتا، وہ اپنے آج کو اپنے کل کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ وہ ایک ایسی ڈور بناتا ہے جس کا ایک سرا اس کے موجودہ ارادے میں ہوتا ہے اور دوسرا اس آنے والے وقت میں جہاں ابھی کچھ وقوع پذیر نہیں ہوا۔ اسی لیے وعدہ محض الفاظ کا اظہار نہیں، نیت کی سمت کا اعلان ہے؛ ایک ایسا اقرار جس میں انسان اپنے آنے والے عمل کی ذمہ داری اپنے موجودہ لفظ کے سپرد کر دیتا ہے۔
شاید وعدہ انسان کی زبان پر آنے والی ان چند چیزوں میں سے ہے جن کا تعلق حال سے کم اور مستقبل سے زیادہ ہوتا ہے۔ باقی گفتگو اسی لمحے میں زندہ رہتی ہے مگر وعدہ وقت سے آگے سفر کرتا ہے۔ آج کہا جاتا ہے اور کل اسے سچ ہونا ہوتا ہے۔ اسی لیے وعدہ دراصل وقت کے ساتھ کیا ہوا ایک خاموش معاہدہ ہے۔ انسان کسی دوسرے سے کہتا ہے کہ آج میں جو کہہ رہا ہوں، آنے والا میرا وقت بھی اس بات کی گواہی دے گا۔ یوں ایک سچا وعدہ انسان کے آج کے ارادے کو اس کے کل کے کردار سے ملا دیتا ہے۔
وعدے کی خوبصورتی شاید اس میں نہیں کہ وہ کتنا بڑا ہے بلکہ اس میں ہے کہ اسے کہنے والے کے دل میں اس کی کتنی جگہ ہے۔ کبھی ایک چھوٹا سا وعدہ کسی کے لیے پوری دنیا بن جاتا ہے۔ کسی تھکے ہوئے انسان سے کہا ہوا “میں تمہارے ساتھ ہوں” بھی وعدہ ہو سکتا ہے۔ کسی خوف زدہ دل کو دیا ہوا “فکر نہ کرو” بھی وعدہ ہو سکتا ہے۔ کسی بچے سے کہا ہوا “میں ضرور آؤں گا” بھی وعدہ ہے۔ کسی بیمار کے سرہانے بیٹھ کر کہا ہوا “تم اکیلے نہیں ہو” بھی وعدہ ہے۔ بعض وعدوں کی کوئی تحریر نہیں ہوتی، کوئی گواہ نہیں ہوتا، کوئی مہر نہیں ہوتی مگر وہ دل میں اس طرح ثبت ہو جاتے ہیں جیسے انسان نے انہیں اپنے وجود پر لکھ دیا ہو۔
وعدہ دراصل دوسرے انسان کو اپنے مستقبل میں ایک جگہ دینا ہے۔ یہ کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی تم میری ترجیحات، میری ذمہ داری اور میری یاد کے دائرے میں موجود رہو گے۔ اسی لیے وعدہ کرتے وقت انسان صرف ایک بات کا اقرار نہیں کرتا، وہ اپنے اختیار کا ایک حصہ کسی دوسرے کے اعتماد کے حوالے کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وعدے کی اصل قیمت الفاظ میں نہیں، اس اعتماد میں ہوتی ہے جو ان الفاظ پر قائم ہوتا ہے۔
اور وعدہ صرف دو انسانوں کے درمیان نہیں ہوتا۔ انسان اپنے آپ سے بھی وعدے کرتا ہے، اپنے رب سے بھی، اپنے خوابوں سے بھی اور کبھی کسی ایسے مقصد سے بھی جسے دنیا ابھی دیکھ نہیں رہی ہوتی۔ ایک طالب علم کا رات دیر تک جاگنا، ایک ماں کا اپنی اولاد کے لیے خود کو بھلا دینا، ایک مسافر کا برسوں بعد بھی اپنی منزل کی طرف چلتے رہنا، ایک صاحبِ عزم انسان کا بار بار گر کر دوبارہ اٹھنا؛ یہ سب کسی نہ کسی اندرونی وعدے کی علامتیں ہیں۔ انسان بہت کچھ اس لیے نہیں کرتا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہوتا ہے بلکہ اس لیے کرتا ہے کہ اس نے کبھی خاموشی میں اپنے آپ سے کچھ کہہ دیا ہوتا ہے۔
شاید وعدے کی سب سے پاکیزہ صورت وہ ہے جس میں صلے کی توقع نہیں ہوتی۔ جہاں انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اسے بدلے میں کیا ملے گا بلکہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اسے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا اور اب اسے اپنے قول کا حق ادا کرنا ہے۔ ایسے وعدے انسان کی شخصیت کو بلند کرتے ہیں کیونکہ وہاں زبان کردار کی پابند ہو جاتی ہے۔ پھر انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے نہیں بلکہ اس فاصلے سے ہونے لگتی ہے جو اس کے لفظ اور عمل کے درمیان نہیں ہوتا۔
تو وعدہ تو کیا ہوتا؟ ایک لفظ؟ ایک جملہ؟ ایک اقرار؟ نہیں۔ وعدہ دراصل اپنے مستقبل کی طرف سے آج دیا ہوا کردار کا حلف ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی زبان سے اپنے آنے والے وجود کی گواہی دیتا ہے۔ اسی لیے وعدہ بولنے سے پہلے دل سے پوچھنا چاہیے کہ کیا میرا آنے والا کل بھی میرے آج کے لفظ کا اتنا ہی وفادار ہوگا؟
کیونکہ دنیا میں بہت سے لفظ بولے جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں مگر کچھ وعدے ایسے ہوتے ہیں جو پورے ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے؛ وہ انسان کے کردار کا حصہ بن جاتے ہیں۔
وعدہ شاید وہ واحد لفظ ہے جسے انسان آج کہتا ہے مگر اس کی سچائی آنے والا وقت لکھتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top