(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کہتے ہیں، کائنات کی ابتدا میں جب انسان کو مٹی سے تراشا گیا تو خالق نے اس کے سینے میں ایک عجیب سا راز رکھ دیا۔ اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ وہ راز کیا ہے۔ بس اتنا تھا کہ جب بھی وہ کسی منظر کو دیکھتا، منظر دو حصوں میں بٹ جاتا۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک پرندہ آسمان سے گرا۔ وہ مر چکا تھا۔ اس کی پہلی نگاہ نے کہا، “دیکھو، زندگی کتنی بے رحم ہے۔” دوسری نگاہ نے کہا، “دیکھو، زندگی کتنی مختصر ہے۔” وہ دونوں باتوں کے درمیان کھڑا رہا۔ اسی دن اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ شاید حقیقت ایک نہیں ہوتی؛ حقیقت تک پہنچنے والی نگاہیں مختلف ہوتی ہیں۔
وہ بڑا ہوا۔ ایک روز اسے روٹی ملی۔ اس نے پہلی آنکھ سے دیکھا، “یہ صرف روٹی ہے۔” دوسری آنکھ نے کہا، “نہیں، یہ کسی ان دیکھے ہاتھ کا جواب ہے جو تمہاری بھوک سے پہلے تمہارے لیے رزق لکھ چکا تھا۔” وہ مسکرایا۔ پھر اسے ایک دن محبت ملی۔ پہلی آنکھ نے کہا، “یہ میرا حق ہے۔” دوسری نے کہا، “یہ عطیہ ہے۔” وہ محبت کو مٹھی میں بند کرنے لگا۔ محبت مر گئی۔ تب اسے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ عطا کو ملکیت سمجھنے والی آنکھ، نعمت کو بھی زنجیر بنا دیتی ہے۔
سال گزرتے گئے۔ اس نے دنیا کے بڑے شہر دیکھے، محل دیکھے، قبرستان دیکھے، جنگیں دیکھیں، عبادت گاہیں دیکھیں، بھوکے بچے دیکھے، تاج پہنے ہوئے غمگین بادشاہ دیکھے۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ ہر منظر کے ساتھ اس کے اندر دو آوازیں پیدا ہوتیں۔ جب کسی فقیر کو دیکھتا تو ایک آواز کہتی، “یہ محروم ہے”، دوسری کہتی، “یہ تمہارے دل کا امتحان ہے۔” جب کسی گناہ گار کو دیکھتا تو ایک آواز کہتی، “یہ تباہ ہو چکا”، دوسری کہتی، “شاید ابھی اس کی واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔” جب کسی نیک آدمی کو دیکھتا تو ایک آواز کہتی، “یہ مجھ سے بہتر ہے”، دوسری کہتی، “اس کی نیکی دیکھ کر اپنے اندر روشنی پیدا کر، حسد نہیں۔” وہ حیران تھا کہ ایک ہی دنیا میں دو الگ دنیائیں آباد ہیں۔
ایک دن وہ ایک ایسے شہر میں پہنچا جہاں لوگ ہر وقت شکایت کرتے تھے۔ وہاں کے بازاروں میں خوشبوئیں تھیں مگر لوگ بدبو کی بات کرتے تھے۔ باغ تھے مگر لوگ کانٹوں کا شمار کرتے تھے۔ آسمان نیلا تھا مگر لوگ دھوپ سے ناراض تھے۔ بارش ہوتی تو کہتے، “کیچڑ بہت ہے۔” دھوپ نکلتی تو کہتے، “گرمی بہت ہے۔” فصل ہوتی تو کہتے، “قیمت کم ہے۔” قیمت بڑھتی تو کہتے، “خریدار نہیں۔” بچے پیدا ہوتے تو خرچ گنواتے، بچے بڑے ہوتے تو نافرمانی گنواتے، بوڑھے ہوتے تو ماضی گنواتے۔ وہ حیران ہو کر شہر کے سب سے بوڑھے شخص کے پاس گیا اور پوچھا، “اس شہر میں خوشی کہاں رہتی ہے؟” بوڑھا ہنسا اور بولا، “یہاں خوشی کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی۔” اس نے پوچھا، “کیوں؟” بوڑھے نے اپنی دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے اور کہا، “کیونکہ یہاں لوگوں نے دیکھنے سے پہلے فیصلہ کرنا سیکھ لیا ہے۔”
وہ رات بھر سو نہ سکا۔ صبح ایک عجیب واقعہ ہوا۔ جب سورج نکلا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے تمام لوگ اپنی اپنی آنکھوں کے ساتھ بازار میں کھڑے ہیں، مگر ان کی آنکھوں کے رنگ بدل چکے تھے۔ کسی کی آنکھ میں صرف خوف تھا، کسی میں حسد، کسی میں شک، کسی میں انتقام، اور کسی کی آنکھ میں اتنی تاریکی تھی کہ سورج بھی اس میں داخل ہو کر بجھ جاتا تھا۔ وہ گھبرا کر شہر سے نکل گیا۔ راستے میں اسے ایک ویران غار ملی۔ غار کے اندر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا، “تم کون ہو؟” بوڑھے نے جواب دیا، “وہ، جو کبھی تم جیسا تھا۔” اس نے پوچھا، “آپ کے پاس کیا ہے؟” بوڑھے نے کہا، “ایک آنکھ۔” وہ حیران ہوا، “صرف ایک؟ دوسری کہاں گئی؟” بوڑھا مسکرایا، “میں نے اسے دنیا کے حوالے کر دیا تھا۔”
بوڑھے نے اسے ایک چھوٹا سا آئینہ دیا اور کہا، “اس میں دیکھو۔” اس نے دیکھا تو اسے اپنا چہرہ نظر آیا، پھر اچانک آئینے میں اس کا چہرہ بدلنے لگا۔ کبھی وہ مظلوم تھا، کبھی ظالم؛ کبھی عابد، کبھی غافل؛ کبھی محبت کرنے والا، کبھی محبت کا سودا کرنے والا؛ کبھی خدا کا شکر ادا کرنے والا، کبھی خدا سے شکوہ کرنے والا۔ وہ چیخ اٹھا، “یہ میں نہیں!” بوڑھے نے کہا، “یہ سب تم ہو۔” اس نے پوچھا، “تو پھر اصل میں کون ہوں؟” بوڑھے نے آئینہ توڑ دیا۔ شیشے کے ٹکڑے زمین پر بکھر گئے اور ہر ٹکڑے میں اس کا ایک الگ چہرہ تھا۔ بوڑھے نے کہا، “انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے چہرے کو اپنی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔” وہ خاموش رہا، پھر پوچھا، “پھر حقیقت کیا ہے؟” بوڑھے نے غار کے اندھیرے میں دیکھتے ہوئے کہا، “انتخاب۔” اس نے پوچھا، “کون سا انتخاب؟” بوڑھے نے جواب دیا، “یہ کہ تم اپنے اندر پیدا ہونے والی پہلی آواز کو سچ سمجھتے ہو یا دوسری کو۔”
وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا، “اور اگر دونوں جھوٹی ہوں؟” بوڑھا پہلی بار پوری طرح سنجیدہ ہوا۔ اس نے کہا، “تب تمہیں تیسری چیز پیدا کرنی ہوگی۔” وہ بے اختیار آگے جھکا۔ “کیا؟” بوڑھے نے کہا، “بصیرت۔” یہ لفظ غار کی دیواروں سے ٹکرایا اور یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں سے سویا ہوا کوئی راز جاگ اٹھا ہو۔ اچانک غار روشن ہو گئی، مگر بوڑھا وہاں نہیں تھا۔ صرف ایک آواز باقی تھی: “تمہیں دو آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے دی گئی تھیں، مگر بصیرت اس لیے دی گئی کہ تم دنیا کے پیچھے چھپی ہوئی دنیا دیکھ سکو۔”
وہ غار سے باہر نکلا تو صبح ہو چکی تھی۔ سامنے وہی شہر تھا، وہی گلیاں، وہی لوگ، وہی بازار اور وہی شور؛ مگر اس بار کچھ عجیب تھا۔ ایک آدمی کسی سے لڑ رہا تھا، تو اسے پہلی مرتبہ اس کے غصے کے پیچھے چھپا ہوا خوف دکھائی دیا۔ ایک عورت رو رہی تھی، تو اس کے آنسوؤں کے پیچھے برسوں کی تھکن نظر آئی۔ ایک بوڑھا تنہا بیٹھا تھا، تو اس کے چہرے پر گزری ہوئی پوری عمر لکھی دکھائی دی۔ ایک بچہ مٹی سے گھر بنا رہا تھا، تو اسے اس ننھے ہاتھ میں آنے والی پوری دنیا کا خواب دکھائی دیا۔ وہ چلتا رہا، جیسے شہر وہی تھا مگر اس کے اندر دیکھنے والا کوئی نیا شخص پیدا ہو چکا تھا۔
راستے میں ایک شخص نے اسے روک کر پوچھا، “مسافر! یہ دنیا کیسی ہے؟” وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، “دنیا؟ دنیا تو وہی ہے جو ہمیشہ سے تھی۔” اس شخص نے حیرت سے پوچھا، “پھر کیا بدل گیا؟” مسافر نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا، “فرق صرف اتنا ہے کہ آج میری آنکھوں کے پیچھے کوئی جاگ گیا ہے۔”
اور اسی لمحے اسے معلوم ہوا کہ ابلیس دنیا میں اندھیرا پھیلانے سے پہلے انسان کی نظر میں اندھیرا اتارتا ہے، اور رحمت دنیا بدلنے سے پہلے انسان کے اندر ایک چراغ جلاتی ہے۔ باہر کچھ نہیں بدلتا؛ نہ آسمان، نہ زمین، نہ حالات، نہ لوگ۔ صرف اندر کا دیکھنے والا بدل جاتا ہے۔ اور جس دن دیکھنے والا بدل جائے، اسی دن کائنات اپنا چہرہ بدل لیتی ہے۔
شاید انسان کی سب سے بڑی نجات یہی ہے کہ وہ دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنی نظر کو بدل لے؛ کیونکہ کائنات ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی جیسی وہ دکھائی دیتی ہے، اکثر وہ ویسی ہوتی ہے جیسی ہماری بصیرت اسے پڑھتی ہے۔
