تحریرات
دیمک کا پہلا دانت
عادت کبھی ایک ہی دن میں تقدیر نہیں بنتی؛ وہ خاموشی سے آتی ہے، ٹھہرتی ہے، جڑ پکڑتی ہے، پھر شخصیت کی اینٹوں میں اس طرح اتر جاتی ہے کہ انسان کو اپنے انہدام کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ عادتیں دیمک کی طرح ہوتی ہیں؛ وہ شور نہیں کرتیں،...
آئینے جھوٹ نہیں بولتے، نگاہیں بول جاتی ہیں
محبت کے دعوے اکثر الفاظ سے شروع ہوتے ہیں، مگر سچائی ہمیشہ رویّوں میں اپنا تعارف کراتی ہے۔ زبانیں کسی کو چاند، سورج اور کائنات کا سب سے حسین انسان قرار دے سکتی ہیں، لیکن ایک بےاختیار جملہ اکثر برسوں سے تراشے گئے سارے استعارے ڈھا دیتا ہے۔ عجیب لوگ...
زندگی کا سب سے خوبصورت میک اپ
عمر کا بھی اپنا ایک سلیقہ ہوتا ہے۔ وہ انسان سے خاموشی سے بہت سی غیر ضروری چیزیں واپس لے لیتی ہے، مگر بدلے میں چند ایسی نعمتیں دے دیتی ہے جن کی قیمت جوانی میں سمجھ نہیں آتی۔ ایک وقت تھا جب خوشی کا معیار یہ تھا کہ لباس...
تاریک وفاداری
کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان صرف اندھیرے میں قبول کرتا ہے، لیکن روشنی کی پہلی کرن پھوٹتے ہی ان سے دامن چھڑا لیتا ہے۔ رات بھی ایک ایسا ہی آفاقی استعارہ ہے۔۔ایک ایسا کڑوا سچ، جو روزانہ وجود کی لامتناہی گہرائیوں سے نکل کر سامنے آتا ہے، مگر...
لامحدود امکانات کی دنیا میں ممکنات کی تلاش
کائنات اپنے باطن میں لامحدود امکانات کا ایک خاموش سمندر ہے۔ ہر لمحہ، ہر سانس، ہر راستہ اور ہر ملاقات اپنے اندر بے شمار "ہوسکتا تھا" اور "ہوسکتا ہے" کے در وا کیے ہوئے ہے۔ مگر انسان کو پوری کائنات نہیں ملتی؛ اسے صرف اتنا حصہ ملتا ہے جتنا وہ...
تسلیم کے بعد تحقیق کا زوال
انسان کی پوری زندگی ایک سوال ہے۔ وہ مٹی سے اٹھتا ہے، ستاروں تک دیکھتا ہے، ذرّے کو چیرتا ہے، کہکشاؤں کا حساب لگاتا ہے اور پھر بھی اپنے اندر کے ایک راز سے بے خبر رہتا ہے۔ تحقیق اس کی پیاس ہے، جستجو اس کا سفر ہے، اور سوال...
وجود کے پردے میں حقیقت
انسان کی سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ وہ اپنے وجود کو اپنی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ جسم، نام، مقام، اختیار اور اپنی ظاہری شناختوں کے حصار میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ یہ سب عطا ہے، اصل نہیں۔...
اپنی ذات سے ملاقات
انسان کی سب سے گہری تنہائی یہ نہیں کہ اس کے اردگرد کوئی نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ سب کے درمیان موجود ہو اور پھر بھی اپنے ہونے کا یقین نہ کر پائے۔ بعض اوقات زندگی کا سب سے بڑا دکھ محرومی نہیں ہوتا، بلکہ یہ احساس ہوتا ہے...
عطا کے دروازے طلب کی صدا سے کھلتے ہیں
کائنات کا ایک عظیم راز یہ ہے کہ عطائیں کبھی خالی ہاتھوں پر نہیں اترتیں، وہ پہلے دلوں میں ایک پیاس پیدا کرتی ہیں، پھر اسی پیاس کے وسیلے سے رحمت کے چشمے جاری ہوتے ہیں۔ جس دل میں طلب نہیں، وہاں عطا بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ کیونکہ...
الفاظ نہیں، کردار بولتے ہیں
انسان کی زبان بہت کچھ کہہ سکتی ہے، مگر اس کی زندگی اس سے کہیں زیادہ کہتی ہے۔ لفظوں کی گونج چند لمحوں تک سنائی دیتی ہے، جبکہ کردار کی بازگشت نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ اسی لیے دنیا نے ہمیشہ ان لوگوں کی بات کو دل سے قبول کیا...
