تحریرات
ادب — حسن کا آخری محافظ
کائنات کی تخلیق محض وجود کی تخلیق نہیں، حسن کی تخلیق بھی ہے۔ خدا نے دنیا کو صرف آباد نہیں کیا، اسے آراستہ بھی کیا۔ پھول کو خوشبو دی، پرندے کو نغمہ، دریا کو روانی، پہاڑ کو وقار، آسمان کو وسعت، رات کو ستارے اور انسان کو دل عطا کیا،...
بارود کے بعد جگنو کیوں نہیں لوٹتے؟
بارود صرف زمین کو زخمی نہیں کرتا، وہ آسمان کی خاموشی کو بھی دھواں بنا دیتا ہے۔ جنگ صرف دیواریں نہیں گراتی، وہ خوابوں کی چھتیں بھی منہدم کر دیتی ہے۔ خون صرف انسان کے جسم سے نہیں بہتا، تہذیب کی رگوں سے بھی رسنے لگتا ہے۔ اور جب ایک...
اخلاق کی زمین سے وحی کے آسمان تک
انسان نے جب سے اپنے وجود کی آنکھ کھولی ہے، تب سے ایک سوال اس کے شعور کے افق پر روشن ہے: خیر کیا ہے اور شر کیا؟ کون سا راستہ اسے بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور کون سی راہ اسے اپنی ہی حقیقت سے دور کر دیتی...
رشتوں کا آخری ادب
ہر تعلق کی ابتدا محبت سے نہیں ہوتی، اور نہ ہر تعلق کا اختتام نفرت پر ہونا چاہیے۔ بعض رشتے وقت کی دھوپ میں پروان چڑھتے ہیں، بعض حالات کی بارش میں بھیگتے ہیں، اور بعض تقدیر کے موسم بدلنے پر خاموشی سے اپنے اختتام کو پہنچ جاتے ہیں۔ مگر...
استاد اور تخت کے درمیان کھڑی قوم
طاقت کی نقل، دراصل طاقت کی خواہش نہیں ہوتی؛ بلکہ اپنی اصل طاقت پر عدمِ اعتماد کا خاموش اعتراف ہوتی ہے۔ جو معاشرہ اپنی حقیقی قوت کو پہچان لیتا ہے، وہ دوسروں کے لباس، القابات اور علامتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ لیکن جب کوئی قوم اپنی فکری بنیادیں کھو بیٹھتی...
زندانِ شعور اور مسخِ ذات
انسان کی سب سے بڑی آزادی اس کے قدموں میں نہیں، اس کے شعور میں ہوتی ہے؛ اور اس کی سب سے ہولناک غلامی بھی ہاتھوں کی زنجیروں سے نہیں، بلکہ فکر کی اُن اَن دیکھی بیڑیوں سے جنم لیتی ہے جو آہستہ آہستہ اس کے باطن پر قبضہ جما...
کیمیائے باطن اور رازِ کائنات
کائنات کو محض مادّے، توانائی اور قوانینِ فطرت کے مجموعے کے طور پر دیکھنا اس کی ظاہری قرأت ہے؛ مگر جب نگاہِ فکر اس کے باطن میں اترتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ظاہری قانون کے پسِ پردہ ایک معنوی ترتیب بھی کارفرما ہے۔ اجرام اپنی مقررہ راہوں...
شکستِ دل سے عرفانِ رب تک
کائنات کا ایک نہایت لطیف مگر حیران کن قانون یہ ہے کہ مادی دنیا جسے شکست، زوال اور تخریب کا نام دیتی ہے، روحانی دنیا اسی کو تعمیر، ارتقا اور تکمیل کی پہلی اینٹ قرار دیتی ہے۔ انسان جن حادثات کو اپنے وجود کا انہدام سمجھتا ہے، حقیقت میں وہی...
تکمیلِ ذات اور تقاضائے حشر
علم محض معلومات کا انبار نہیں، بلکہ وہ باطنی نور ہے جو کائنات کے مخفی اسرار اور بظاہر متضاد حقیقتوں کے درمیان ایک عمیق ربط دریافت کرتا ہے۔ اسی نورِ علم کی بلند ترین رسائی اس ادراک تک ہوتی ہے کہ یہ بظاہر عارضی، متغیر اور نامکمل مادی دنیا اپنی...
عاجزی کے یتیم
ہر نارسسٹ ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا؛ وہ برسوں کی خاموش تربیت، غیر متوازن محبت، بےجا تعریف اور بےمحاسبہ اختیار کی فصل ہوتا ہے۔ یہ فصل صرف ماں نہیں بوتی، باپ، خاندان، معاشرہ، مدرسہ، میڈیا اور ہماری اجتماعی اقدار بھی اس کی آبیاری کرتی ہیں۔ اس لیے مسئلہ کسی...
