(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
مہرین کے لیے وہ کوئی لمحہ نہیں تھا، ایک ایسی دہلیز تھی جہاں وقت آ کر ٹھہر گیا تھا۔ وہ ماضی اور حال کے درمیان کھڑی تھی؛ نہ پیچھے لوٹ سکتی تھی، نہ آگے بڑھنے کا حوصلہ پاتی تھی۔
کمرے کی خاموشی میں ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ یہ وہ سکوت تھا جو باہر نہیں، انسان کے اندر اترتا ہے۔ دیواریں خاموش تھیں، مگر ان کی خاموشی میں ہزاروں سوال دفن تھے۔ کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی بھی جیسے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اجازت مانگتی تھی۔
مہرین اکثر سوچتی تھی کہ شاید انسان کا سب سے بڑا دکھ وہ نہیں جو اسے دنیا دیتی ہے، بلکہ وہ ہے جسے وہ اپنے اندر دفن کر دیتا ہے۔
اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھایا اور دیوار کی بے نام دراڑ کو چھوا۔ وہ دراڑ جو کسی اور کے لیے محض ایک نشان تھی، مہرین کے لیے ایک پوری داستان بن گئی۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ دراڑ دیوار پر نہیں، اس کے اپنے وجود پر ثبت ہے۔ کچھ زخم جسم پر نہیں لگتے، وہ روح کی سطح پر اپنی تحریر چھوڑ جاتے ہیں۔
“کیا وقت واقعی درد کو مٹا دیتا ہے؟”
یہ سوال اس کے لبوں سے نکلا، مگر جواب بن کر واپس نہ آیا۔ صرف خاموشی نے اسے گلے لگا لیا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ انسان اپنے دکھوں کو بھولتا نہیں، صرف ان کے ساتھ رہنا سیکھ لیتا ہے۔ کچھ درد وقت کے ساتھ مدھم ضرور پڑتے ہیں، مگر ان کے نشان روح کے کسی گوشے میں ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔
باہر ایک خشک پتا شاخ سے جدا ہو کر زمین پر گرا۔ آواز بہت ہلکی تھی، مگر مہرین کے اندر کوئی گہری چیز ٹوٹ گئی۔ تب اسے معلوم ہوا کہ درد ہمیشہ بڑے حادثوں سے پیدا نہیں ہوتا، کبھی ایک معمولی منظر بھی اندر دفن طوفان کو بیدار کر دیتا ہے۔
وہ اپنے اندر ایک ایسی جگہ تلاش کرنے لگی جہاں کوئی یاد نہ ہو، کوئی چیخ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے ہی وجود سے فرار کہاں حاصل کر سکتا ہے؟ جس درد سے بھاگتا ہے، وہی درد اس کی پہچان کا حصہ بن جاتا ہے۔
مہرین نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے لگا جیسے اس کے اندر ایک خاموش مکالمہ جاری ہے؛ ایک طرف وہ ماضی تھا جو اسے بار بار اپنے زخم دکھاتا تھا، اور دوسری طرف وہ امید تھی جو انہی زخموں میں زندگی کا امکان تلاش کر رہی تھی۔
تب اسے ایک راز معلوم ہوا؛ انسان کی روح بھی عجیب ہے۔ یہ ٹوٹتی ہے، بکھرتی ہے، مگر پھر انہی ٹکڑوں سے اپنے لیے ایک نئی شکل تراش لیتی ہے۔ ہر دراڑ شکست کی علامت نہیں ہوتی، بعض دراڑیں روشنی کے گزرنے کا راستہ بن جاتی ہیں۔
مہرین نے دیوار کی اس دراڑ کو دوبارہ دیکھا۔ اب وہ اسے اپنی شکست کا نشان نہیں لگ رہی تھی، بلکہ ایک خاموش گواہی محسوس ہو رہی تھی کہ اس نے اندھیروں کا سفر طے کیا ہے اور پھر بھی روشنی کی خواہش باقی ہے۔
اس نے اپنے زخم کو کمزوری نہیں سمجھا، کیونکہ زخمی دل ہی دوسرے دلوں کی کسک کو پہچاننے کا ہنر سیکھتا ہے۔
وہ جان گئی تھی کہ انسان درد سے خالی ہو کر عظیم نہیں بنتا، بلکہ درد کو شعور، صبر اور محبت میں ڈھال کر بلند ہوتا ہے۔
مہرین اب بھی اسی کمرے میں کھڑی تھی، مگر وہ پہلے والی مہرین نہیں تھی۔ اندھیرا مکمل ختم نہیں ہوا تھا، مگر اس اندھیرے میں ایک چراغ جل چکا تھا۔
ایک ایسی روشنی جو خاموش تھی، مگر کہہ رہی تھی:
“میں زخموں سے شکستہ نہیں ہوئی، انہی زخموں سے گزر کر اپنی پہچان تک پہنچی ہوں۔”
اور شاید یہی ہر مجروح روح کی آخری صدا ہے۔
