اختیار کا جہیز

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی کے بڑے فیصلے اکثر شور و غوغا میں اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ شادی بھی انہی میں سے ایک اہم موڑ ہے جہاں رسم و رواج کی چمک دمک حقیقت کی بنیادی ضرورتوں پر دبیز پردہ ڈال دیتی ہے۔ بیٹی کو رخصت کرتے وقت ماں باپ اپنی محبت کا اظہار سامان، زیور اور ظاہری آسائشوں کی صورت میں کرتے ہیں، مگر ایک نہایت اہم سچائی اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے: اس کی مالی خود مختاری۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ایک لڑکی کو نئی زندگی کے لیے سب کچھ دیا جاتا ہے، سوائے اس اختیار کے جس سے وہ اپنی ضروریات خود پوری کر سکے۔ وہ ایک نئے گھر، نئے ماحول اور نئی ذمہ داریوں میں قدم تو رکھ دیتی ہے، مگر اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔ نہ اس کے پاس اپنی جمع پونجی ہوتی ہے، نہ فیصلے کی حقیقی آزادی۔ اور جب زندگی اپنی اصل صورت میں سامنے آتی ہے، خصوصاً ماں بننے کے مرحلے پر، تو یہی کمی سب سے زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
حمل محض ایک حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی تجربہ ہے جس میں جسم، ذہن اور وسائل تینوں کی ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ایک عورت کو اپنی بنیادی طبی ضروریات کے لیے بھی دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک اجتماعی غفلت کی علامت بن جاتا ہے۔ وہ خاموشی سے سمجھوتے کرتی ہے، کبھی کم معیار کے علاج پر، کبھی اپنی غذائی ضروریات پر اور کبھی اپنی صحت کو پس پشت ڈال کر۔
اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ محدود وسائل میں بھی دانشمندی پیدا کی جا سکتی ہے اور فراوانی کے باوجود نادانی باقی رہ سکتی ہے۔ اگر ایک بیٹی کو رخصت کرتے وقت اس کے ہاتھ میں مالی خود مختاری کا ایک چھوٹا سا ذریعہ دے دیا جائے، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو، تو وہ محض رقم نہیں رہتا بلکہ اعتماد، سہارا اور اختیار بن جاتا ہے۔ یہی وہ خاموش طاقت ہے جو مشکل وقت میں اسے کسی کے سامنے جھکنے سے بچاتی ہے۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مالی خود مختاری کسی رشتے کی نفی نہیں کرتی۔ یہ محبت یا اعتماد کے خلاف نہیں بلکہ ان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ ایک خود مختار عورت زیادہ پراعتماد ہوتی ہے، بہتر فیصلے کرتی ہے اور اپنے خاندان کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوتی ہے۔ اس کا اختیار کسی کی توہین نہیں بلکہ ایک متوازن اور باوقار زندگی کی بنیاد ہے۔
یہ سبق صرف شادی شدہ خواتین تک محدود نہیں بلکہ ہر اس لڑکی کے لیے ہے جو زندگی کے سفر پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اپنی کمائی میں سے کچھ بچانا، اپنے لیے ایک چھوٹا سا تحفظ قائم کرنا خود غرضی نہیں بلکہ دوراندیشی ہے۔ کیونکہ زندگی ہمیشہ یکساں نہیں رہتی اور حالات کا بدلنا ہی اس کی اصل فطرت ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روایتوں کے خول سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کریں۔ بیٹی کو صرف رخصت نہ کریں بلکہ اسے بااختیار بھی بنائیں۔ اسے صرف سکھائیں نہیں بلکہ اس کے ہاتھ میں وہ وسائل بھی دیں جن سے وہ اپنے علم کو عمل میں ڈھال سکے۔
کیونکہ ایک عورت کی خاموش خود مختاری دراصل آنے والی نسلوں کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top