ادب — حسن کا آخری محافظ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کی تخلیق محض وجود کی تخلیق نہیں، حسن کی تخلیق بھی ہے۔ خدا نے دنیا کو صرف آباد نہیں کیا، اسے آراستہ بھی کیا۔ پھول کو خوشبو دی، پرندے کو نغمہ، دریا کو روانی، پہاڑ کو وقار، آسمان کو وسعت، رات کو ستارے اور انسان کو دل عطا کیا، تاکہ وہ حسن کو صرف دیکھے نہیں، محسوس بھی کرے۔ یہی احساسِ جمال انسان کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے۔
لیکن حسن صرف چہروں میں نہیں ہوتا، کردار میں بھی ہوتا ہے۔ صرف گلستان میں نہیں، گفتار میں بھی ہوتا ہے۔ صرف منظر میں نہیں، نظر میں بھی ہوتا ہے۔ جب نظر بدصورت ہو جائے تو جنت بھی بے رنگ لگتی ہے، اور جب دل حسین ہو تو ویرانہ بھی گلزار محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے حسن کسی شے کی صفت سے پہلے دیکھنے والے کی کیفیت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ادب اپنی اصل ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
ادب الفاظ کی آرائش کا نام نہیں، احساس کی تہذیب کا نام ہے۔ شاعر محض قافیے نہیں جوڑتا، وہ بکھرے ہوئے انسان کو جوڑتا ہے۔ ادیب کہانی نہیں لکھتا، وہ ضمیر کی گم شدہ آواز کو لفظ عطا کرتا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی عظمت اس کی طاقت میں نہیں، اس کی لطافت میں ہے؛ اس کے غلبے میں نہیں، اس کے ظرف میں ہے؛ اس کے انتقام میں نہیں، اس کی معافی میں ہے۔
ہر عہد میں دو قوتیں آمنے سامنے رہی ہیں: ایک وہ جو انسان کے اندر حسن پیدا کرتی ہے، اور دوسری وہ جو اس کے اندر بدصورتی کو معمول بنا دیتی ہے۔ حسن کا راستہ محبت، علم، رحم، عدل، سچائی اور انکسار سے ہو کر گزرتا ہے، جبکہ بدصورتی نفرت، جھوٹ، تکبر، لالچ اور ظلم کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برائی صرف گناہ نہیں، ایک جمالیاتی زوال بھی ہے؛ اور نیکی صرف ثواب نہیں، حسن کی بلند ترین صورت ہے۔
ادب اسی حسن کا محافظ ہے۔
جب سیاست نفرت بانٹنے لگے، جب بازار انسان کی قیمت متعین کرنے لگے، جب میڈیا شور کو شعور پر ترجیح دے، جب طاقت دلیل کی جگہ لے لے، اور جب زبان سے مروّت رخصت ہونے لگے، تب بھی ایک سچا ادیب اپنے قلم کے ذریعے انسان کے اندر بچے ہوئے حسن کی نگہبانی کرتا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تہذیبیں قانون سے پہلے ذوق سے بنتی ہیں، اور ذوق کو زندہ رکھنے کا سب سے بڑا وسیلہ ادب ہے۔
یہی سبب ہے کہ ہر آمر کو شاعر سے خوف آتا ہے، ہر ظالم کو ادیب سے بے چینی ہوتی ہے، اور ہر جھوٹ کو سچ لکھنے والے قلم سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ ادب تلوار اٹھا لیتا ہے، بلکہ اس لیے کہ ادب آئینہ اٹھا لیتا ہے۔ تلوار جسم زخمی کرتی ہے، آئینہ ضمیر زخمی کر دیتا ہے۔
ادب انسان کو حسن پرست بناتا ہے۔ مگر یہ حسن چہرے کی کشش نہیں، کردار کی روشنی ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ایک خوبصورت عمل ہے، کسی غم زدہ کا ہاتھ تھامنا ایک خوبصورت منظر ہے، کسی کی خطا معاف کر دینا ایک خوبصورت فتح ہے، اور سچ بولنا ایک خوبصورت جرأت ہے۔
اسلام نے بھی حسن کو محض ظاہری آرائش تک محدود نہیں رکھا۔ احسان، اخلاق، عدل، عفو، صبر، شکر، حیا اور رحمت۔۔ یہ سب حسن کی مختلف صورتیں ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کو جمیل کہا گیا، کیونکہ حسن اپنی کامل ترین صورت میں اسی کی ذات سے پھوٹتا ہے۔ انسان جب نیکی اختیار کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے کردار میں اسی جمالِ الٰہی کی ایک ہلکی سی جھلک پیدا کرتا ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ کتابیں کم پڑھی جا رہی ہیں؛ اصل المیہ یہ ہے کہ انسان کا ذوقِ حسن کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اسے پھول سے زیادہ اسلحہ، مکالمے سے زیادہ شور، سچ سے زیادہ سنسنی، اور کردار سے زیادہ شہرت متاثر کرتی ہے۔ جب ذوق بدل جاتا ہے تو تہذیب کا چہرہ بھی بدل جاتا ہے۔
اسی لیے ادب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں ایسے افسانے درکار ہیں جو انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھائیں، ایسی شاعری جو دلوں میں امید جگائے، ایسے مضامین جو سوچ کو تہذیب بخشیں، اور ایسے قلم جو نفرت کے شور میں حسن کی سرگوشی سناتے رہیں۔
کیونکہ جب معاشرہ حسن کی حفاظت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو بدصورتی صرف چہروں پر نہیں، فیصلوں میں، اداروں میں، تعلقوں میں، زبانوں میں اور خوابوں میں بھی اتر آتی ہے۔ پھر عمارتیں تو باقی رہتی ہیں، مگر تہذیب ڈھہ جاتی ہے۔
آخرکار، ادب دنیا کو خوبصورت نہیں بناتا؛ وہ انسان کو خوبصورت بناتا ہے، اور جب انسان خوبصورت ہو جائے تو دنیا خود بخود خوبصورت ہونے لگتی ہے۔
شاید اسی لیے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ جب زمانے کے شور میں حسن کی ہر آواز دبنے لگے، جب بازار ہر چیز کی قیمت لگا دے، جب سیاست ہر رشتے کو تقسیم کر دے، اور جب طاقت ہر دلیل پر غالب آ جائے، تب بھی اگر کہیں انسانیت کی آخری شمع روشن رہتی ہے تو وہ ادب کے قلم کی نوک پر ہوتی ہے۔
ادب صرف حسن کو بیان نہیں کرتا، وہ حسن کی حفاظت کرتا ہے۔ اور جس دن ادب اپنی یہ ذمہ داری چھوڑ دے، اس دن انسان زندہ تو رہے گا، مگر انسانیت مر جائے گی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top