سود خور کا جادو

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​رحیم رکشہ چلاتے ہوئے تپتی سڑکوں پر پچھلے پندرہ سال سے دوڑ رہا تھا۔ اس کی زندگی کا ایک ہی ہدف تھا: اپنی بیٹی کی شادی اور کرائے کے مکان سے نجات۔ پچھلے سال، حين پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور سواریوں نے رکشے کے کرائے پر بحث شروع کر دی، تو اس کے گھر کا بجٹ چرمرا گیا۔ اسی دوران بیٹی کی شادی طے پا گئی، اور مجبوری میں اسے محلے کے سب سے بڑے سیٹھ، میاں حفیظ سے دو لاکھ روپے قرض لینا پڑا۔
​میاں حفیظ کی دکان پر ایک بڑا ہندسوں والا کیلکولیٹر ہمیشہ کھلا رہتا تھا، جو اس کے چہرے کی مسکراہٹ سے زیادہ تیز چلتا تھا۔
​قرض دیتے وقت حفیظ نے رحیم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا:
​”رحیم بھائی! ہم تو آپ کی ضرورت دیکھ کر پیسے دے رہے ہیں، ورنہ مارکیٹ کا سود تو آپ جانتے ہی ہیں۔ بس ہر مہینے بیس ہزار روپے قسط لاتے رہنا، جب تک اصل رقم واپس نہیں ہوتی۔”
​رحیم نے خوشی خوشی کاغذ پر انگوٹھا لگا دیا۔ اسے لگا کہ اس نے بیٹی کا فرض ادا کر دیا ہے۔
​پہلے چھ مہینے، رحیم نے دن رات ایک کر کے بیس بیس ہزار کی چھ قسطیں۔۔یعنی ایک لاکھ بیس ہزار روپے۔۔۔سیٹھ حفیظ کی گدی پر جا کر رکھ دیے۔ ساتویں مہینے جب وہ قسط دینے گیا، تو اس نے سوچا کہ اب صرف اسی ہزار روپے باقی رہ گئے ہیں۔
​اس نے سیٹھ سے کہا: “صاحب! ایک لاکھ بیس ہزار تو دے دیے، اب باقی کا حساب کر لیں۔”
​سیٹھ حفیظ نے اپنے چمکتے ہوئے کیلکولیٹر پر چند بٹن دبائے، ایک لمبی سی پرچی نکالی اور عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوئے بولا:
​”ارے رحیم میاں! وہ تو صرف سود کی رقم تھی اور اس پر لگنے والا سروس چارج۔ تمہارا اصل دو لاکھ تو ابھی تک وہیں کھڑا ہے جہاں پہلے دن تھا۔ اگلے مہینے سے قسط پچیس ہزار ہوگی، کیونکہ ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ گئی ہے اور پیسے کی قیمت گر چکی ہے۔”
​رحیم کے پیروں تلے سے سڑک نکل گئی۔ “صاحب! میں نے اپنا خون پسینہ ایک کر کے ایک لاکھ بیس ہزار دیے، اور میری اصل رقم ایک روپیہ بھی کم نہیں ہوئی؟ یہ کیسا حساب ہے؟”
​سیٹھ نے مسکرا کر کیلکولیٹر بند کیا اور سرد آواز میں کہا:
​”یہ معاشیات ہے، رحیم میاں! مارکیٹ کی لہریں غریب کے پسینے سے نہیں، عالمی بینک کے فیصلوں سے چلتی ہیں۔”
​رحیم حویلی سے باہر نکل آیا۔ اب اس کا رکشہ صرف ایک گاڑی نہیں تھا، بلکہ ایک متحرک جیل بن چکا تھا جس کا میٹر تو چلتا تھا، مگر وہ اسے کبھی آزادی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اس نے اگلے تین مہینے روزانہ سولہ گھنٹے رکشہ چلایا، اپنی خوراک آدھی کر دی، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے اور جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا۔
​ایک شام، شہر کے سب سے بڑے فنانشل ٹاور کے سامنے، جہاں رات کو بڑی بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر اسٹاک ایکسچینج کے نمبر اور ڈالر کی قیمتیں لال اور سبز رنگ میں ناچتی تھیں، رحیم کا رکشہ اچانک بند ہو گیا۔
​اس نے ہینڈل مارنے کی کوشش کی، مگر اس کے اپنے ہاتھوں میں سکت ختم ہو چکی تھی۔ اس نے رکشے سے اتر کر اس دیو قامت شیشے کی عمارت کو دیکھا جس کے اندر صوفوں پر بیٹھ کر لوگ کمپیوٹر پر ایک کلک سے کروڑوں روپے ادھر سے ادھر کر رہے تھے، بغیر کوئی وزن اٹھائے، بغیر کوئی پسینہ بہائے۔
​اسے سمجھ آیا کہ اس ملک کا پورا معاشی ڈھانچہ دراصل ایک ایسا جادوئی کنواں ہے، جہاں غریب جتنا زیادہ پانی نکالنے کی کوشش کرتا ہے، کنویں کی گہرائی اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
​اس نے رکشے کے ہینڈل پر سر رکھ دیا، جہاں اس کا پسینہ اس تپتی ہوئی لوہے کی راڈ پر گر کر غائب ہو رہا تھا، اور اس عالمی معاشی جبر پر اپنا آخری محاکمہ پیش کیا:
​”اس نظام کے بینکوں کی دستاویزات ہوں یا سرمایہ داروں کے فنانس بل، یہ سب باریک بین جال ہیں؛ جہاں غریب جتنا زیادہ پاؤں مارتا ہے, قرض کی دلدل اسے اتنی ہی گہرائی سے نگل لیتی ہے۔ یہاں محنت کی قیمت صرف بقا ہے، اور منافع صرف اس کا ہے جو پہلے سے ہی آسودہ ہے۔”
​اگلی صبح، فنانشل ٹاور کے سامنے ایک لاوارث رکشہ کھڑا تھا، جس کے میٹر کی سوئی اب بھی چل رہی تھی اور کرایہ بڑھ رہا تھا، مگر اسے چلانے والا اس معاشی چکر کا قیدی ہمیشہ کے لیے اس حساب کتاب سے آزاد ہو چکا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top