خوابوں کی اوٹ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​پرانے شہر کی اس تنگ، تاریک گلی کی چوتھی منزل پر، جہاں کھڑکی کھولو تو سامنے کسی اور کے گھر کی دیوار نظر آتی تھی، اس کا کینوس سجا رہتا تھا۔ فرحان پیشے کے لحاظ سے ایک گرافک ڈیزائنر تھا، جو دن بھر اشتہاروں کے لیے بے جان، چمکتے ہوئے کاغذی چہرے بناتا؛ مگر رات ڈھلتے ہی وہ اپنے رنگوں کی دنیا میں لوٹ آتا۔ پچھلے دو سالوں سے وہ ایک ہی تصویر بنا رہا تھا۔۔۔ایک ایسی لڑکی کا چہرہ جس کی آنکھوں میں گہری جھیل کا سکون تھا اور مسکراہٹ میں دسمبر کی دھوپ کی تپش۔
​وہ لڑکی اس کا خواب تھی، ایک ایسا تصور جسے اس نے کبھی حقیقت میں نہیں دیکھا تھا، مگر اس کا باطن گواہی دیتا تھا کہ کائنات کے کسی گوشے میں وہ موجود ہے۔
​ایک شام، جب تیز بارش نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، فرحان کی بائیک گلی کے موڑ پر بند ہو گئی۔ وہ پناہ کی تلاش میں ایک پرانی کتابوں کی دکان کے برآمدے میں جا کھڑا ہوا۔ دکان کے اندر پیلی روشنی کا ایک بلب جل رہا تھا اور پرانے کاغذوں کی سوندھی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔
​اسی لمحے، برآمدے کے دوسرے کونے سے ایک لڑکی بارش کے پانی سے اپنے بال جھٹکتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ فرحان نے اتفاقاً اس کی طرف دیکھا، اور اس کے ہاتھ سے رنگوں کی ڈائری نیچے گر گئی۔
​سیاہ ریشمی بال، وہی جھیل سی گہری آنکھیں، اور خشک ہونٹوں پر وہی مانوس مسکراہٹ۔ وہ عائزہ تھی۔۔اس کے کینوس کا وہ ادھورا خواب، جو آج گوشت پوست کا وجود بن کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔
​عائزہ نے نیچے گری ہوئی ڈائری اٹھائی، اسے فرحان کی طرف بڑھایا اور دھیمی آواز میں بولی:
​”بارش جب حد سے بڑھ جائے، تو رنگ بکھر جایا کرتے ہیں۔ ان کو سنبھال کر رکھیے۔”
​اس کی آواز میں وہی گونج تھی جو فرحان راتوں کو اپنے بند کمرے کی خاموشی میں سنتا تھا۔ اس رات ان کے درمیان کوئی طویل گفتگو نہیں ہوئی، بس بارش کے شور میں چند جملوں کا تبادلہ ہوا اور عائزہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔ مگر وہ فرحان کے وجود کا سارا سکون اپنے ساتھ لے گئی تھی۔
​اگلے چند ماہ کائنات کا ایک خوبصورت معجزہ بن گئے۔ وہ دونوں اکثر اسی دکان پر، یا شہر کے کسی خاموش کیفے میں ملنے لگے۔ فرحان نے اسے اپنے کینوس کی وہ تصویر دکھائی تو عائزہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے لگا جیسے وہ صدیوں سے فرحان کے باطن میں جی رہی تھی۔ ان کی محبت میں روایتی وعدے قسمیں نہیں تھیں، بلکہ ایک ایسی خاموش وابستگی تھی جہاں لفظوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
​مگر زندگی کبھی بھی کینوس کی طرح ہمارے قابو میں نہیں رہتی۔
​عائزہ کے خاندان کا تعلق شہر کے اس طبقے سے تھا جہاں رشتوں کا فیصلہ دلوں کی دھڑکن پر نہیں، بلکہ خاندانی جاہ و جلال پر ہوتا تھا۔ ایک شام، جب خزاں کے زرد پتے سڑکوں پر رل رہے تھے، عائزہ اس سے ملنے آئی۔ اس کا چہرہ زرد تھا اور آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔
​”فرحان! میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ اگلے ہفتے میری رخصتی ہے… کسی ایسے شہر، جہاں کے راستے مجھے تمہاری طرف کبھی واپس نہیں لائیں گے۔ ہم اس معاشرے کے بنے ہوئے اصولوں کے سامنے بہت بے بس ہیں۔”
​فرحان نے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا۔ اس کے اندر ایک طوفان اٹھا، وہ چاہتا تو التجا کرتا، بغاوت کے لیے کہتا، مگر وہ عائزہ کی آنکھوں میں لکھی مجبوری کو پڑھ چکا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی، اپنے آنسوؤں کو اندر ہی کہیں دفن کیا اور مسکرا کر بولا:
​”عائزہ! محبت پانے کا نام نہیں ہے۔ تم جہاں بھی رہو گی، میرے اس کینوس میں، میری ہر تخلیق میں ہمیشہ سانس لیتی رہو گی۔ تم سے بچھڑ کر بھی، میں تم سے کبھی الگ نہیں ہو سکتا۔”
​شادی کی رات، جب عائزہ ریشمی عروسی لباس میں ملبوس، کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہنے رخصت ہو رہی تھی، تو اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کر اس کے مہندی لگے ہاتھوں پر جم گیا۔
​اسی رات، اپنے تیرہ و تاریک کمرے میں، فرحان نے اس کینوس کے سامنے کھڑے ہو کر آخری بار برش اٹھایا۔ اس نے اس چہرے کو مکمل کیا، اور کینوس کے نچلے کونے پر محبت کی اس لازوال حقیقت پر اپنا آخری جملہ لکھا:
​”دنیا کی نظر میں محبت کا انجام صرف وصل یا ہجر ہے؛ لیکن سچی محبت تو زمان و مکان کے اس پار ایک ابدی قید ہے، جہاں جسم فاصلوں کی مٹی میں رل جاتے ہیں، مگر روحیں ایک دوسرے کے خوابوں کی اوٹ میں ہمیشہ کے لیے لافانی ہو جاتی ہیں۔”
​اگلے دن، وہ کینوس شہر کی سب سے بڑی آرٹ گیلری کی زینت بن چکا تھا، جہاں آنے والے ہر انسان کی آنکھیں اس تصویر کے سامنے نم ہو جاتی تھیں، مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس رنگ برنگی تصویر کے پیچھے ایک فنکار کا پورا وجود خون بن کر بہہ چکا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top