(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
سورج ابھی پوری طرح نہیں ابھرا تھا، مگر سکھ چوہدریوں کی چوپال کے سامنے بنے بڑے کنویں پر رونق شروع ہو چکی تھی۔ گاموں نے بیلوں کی جوڑی کو ناد سے باندھا اور گہرے کنویں سے چمڑے کا بوکا کھینچنے لگا۔ پچھلے چالیس سالوں سے اس کی صبح اسی کنویں پر ہوتی تھی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو، لہلہاتے ہوئے گندم کے کھیت اور بیلوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی چھن چھن۔۔۔یہی گاموں کی کل کائنات تھی۔
وہ چوہدری فتح خان کا پالی (ملازم) تھا، اور اس کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے سر پر بندھی سفید کلف لگی پگڑی تھی، جو اس کے پنڈ (گاؤں) کی غیرت اور چوہدری سے وفاداری کی علامت تھی۔
دوپہر کو جب چوہدری فتح خان چوپال میں حقے کے کش لگا رہے تھے، تو پٹواری نے آ کر ایک نقشہ میز پر پھیلایا۔ شہر کی ایک بڑی فیکٹری کے لیے چوہدری کی زمین کا سودا ہو رہا تھا، مگر بیچ میں گاموں کے بزرگوں کی وہ چھوٹی سی تین مرلے کی کوٹھڑی آ رہی تھی جہاں گاموں کا خاندان نسلوں سے رہ رہا تھا۔
چوہدری نے حقے کی نلکی منہ سے ہٹائی اور گاموں کو بلا کر رعب دار آواز میں کہا:
”گامو! شہر کے بابو آئے ہیں، فیکٹری لگ رہی ہے۔ تیری کوٹھڑی بیچ میں آ رہی ہے۔ تو یہ کاغذ پر انگوٹھا لگا دے، میں تجھے پنڈ کے پچھواڑے نئی جگہ دے دوں گا۔”
گاموں کے ہاتھوں سے چمڑے کا رسہ چھوٹ گیا۔ اس نے اپنی پگڑی کو سیدھا کیا اور لرزتی آواز میں بولا:
”چوہدری صاحب! اس کوٹھڑی کی مٹی میں میرے باپ دادا کی وفائیں دفن ہیں، اور میری دادی نے اسی صحن میں بیٹھ کر مجھے لوریاں دی تھیں۔ یہ مٹی نہیں، چوہدری صاحب، یہ تو ہماری لاج ہے۔ میں اسے کیسے بیچ دوں؟”
چوہدری کی بھنویں تن گئیں۔ چوپال میں بیٹھے دیگر زمینداروں نے گاموں کو گھورا۔ چوہدری نے سرد لہجے میں کہا:
”گامو! دیہات کے کچھ قاعدے ہوتے ہیں۔ یہاں زمیندار کی زبان کے آگے غریب کی ضد نہیں چلتی۔ اگر پنڈ میں رہنا ہے، تو چوہدری کا حکم ماننا پڑے گا۔”
اگلے چند دن گاموں کے لیے قیامت بن گئے۔ پنڈ کے دکانداروں نے اسے ادھار دینا بند کر دیا، کنویں سے اس کے گھڑے بھرنے پر پابندی لگا دی گئی، یہاں تک کہ چوپال کے کارندوں نے رات کے اندھیرے میں اس کی کوٹھڑی کی کچی دیوار کا ایک حصہ گرا دیا۔ دیہات کا یہ بائیکاٹ کسی زہر سے زیادہ تیز تھا۔
ایک رات، جب پورا گاؤں سو رہا تھا اور مٹی کے کچے گھروں سے اماوس اتر رہی تھی ، گاموں اپنی کوٹھڑی کے مسمار شدہ حصے کے پاس بیٹھ کر رو رہا تھا۔ اس کی بوڑھی ماں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا:
”پتر گامو! چوہدریوں کی دشمنی دیہات میں غریب کو جینے نہیں دیتی۔ ان کے پاس بندوقیں ہیں اور ہمارے پاس صرف یہ مٹی۔ انگوٹھا لگا دے، ورنہ یہ ہمیں مار دیں گے۔”
اگلی صبح، گاموں چوپال پہنچا۔ اس کا چہرہ زرد تھا اور آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔ اس نے چوہدری کے سامنے پڑے کاغذ پر اپنا انگوٹھا لگا دیا۔ چوہدری نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ حقے کا دھواں ہوا میں اچھالا اور چند نوٹ اس کی طرف بڑھائے۔
گاموں نے وہ نوٹ نہیں اٹھائے۔ اس نے آہستہ سے اپنے سر سے وہ سفید پگڑی اتاری، جسے اس نے کبھی کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیا تھا، اور اسے چوہدری کے پیروں میں رکھ دیا۔
چوہدری چونک گیا۔ “یہ کیا کر رہے ہو، گامو؟”
گاموں نے چوپال کے بوڑھے برگد کے درخت کو دیکھا، جہاں صدیوں سے انصاف کے فیصلے ہوتے آئے تھے، اور دیہات کے اس بدلے ہوئے رنگ پر اپنا آخری فیصلہ کن جملہ کہا:
”چوہدری صاحب! جب دیسی مٹی کی خوشبو پر شہر کے کارخانوں کا دھواں غالب آ جائے، اور چوپال کا انصاف غریب کی چھت چھیننے کا پروانہ بن جائے، تو سر پر پگڑی نہیں، صرف ماتم سجتا ہے۔ اس دیہات کی غیرت تو اسی دن مر گئی تھی جب آپ نے مٹی کا سودا پیسوں سے کیا؛ اب یہ جسم تو نئی کوٹھڑی میں چلا جائے گا، مگر میری روح اسی پرانی مٹی میں رل چکی ہے۔”
وہ چوپال سے باہر نکل آیا۔ دوپہر کو جب شہر کی بڑی مشینری گاموں کی کچی کوٹھڑی کو مسمار کر رہی تھی، تو اس مٹی کے ڈھیر سے اٹھنے والی دھول پورے پنڈ کی فضا پر ایسے چھا گئی، جیسے چوہدریوں کی پگڑی پر مٹی کی ایک ابدی کالک مل گئی ہو۔
