جب دعا جواب سے پہلے انسان کو بدلتی ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کبھی انسان کی زندگی میں ایسا موسم آتا ہے جب باہر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر اندر جیسے کسی نے تمام گھڑیاں روک دی ہوں۔ لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہوتے ہیں، دنیا کو ہماری مسکراہٹ دکھائی دیتی ہے اور ہمیں اپنے دل کا وہ کمرہ معلوم ہوتا ہے جہاں کوئی آ کر نہیں بیٹھتا۔ ایسے میں انسان کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں رہتا کہ مشکل کب ختم ہوگی؛ وہ آہستہ سے یہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا میری یہ خاموشی بھی کسی تک پہنچ رہی ہے؟
وہیں سے دعا کی ایک دوسری دنیا شروع ہوتی ہے۔
دعا ہمیشہ الفاظ سے نہیں نکلتی۔ کبھی یہ آنکھ کی نمی میں ہوتی ہے، کبھی بے سبب اٹھے ہوئے ہاتھ میں، کبھی اس فیصلے میں کہ آدمی ٹوٹ کر بھی اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوگا۔ کبھی بندہ کچھ مانگ بھی نہیں پاتا، صرف اپنے اندر کی شکست لے کر اللہ کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔ شاید یہی دعا کی وہ صورت ہے جس میں زبان خاموش اور روح بول رہی ہوتی ہے۔
ہم چونکہ دنیا کے عادی ہیں، اس لیے ہر چیز کا جواب اسی دنیا کے طریقے سے چاہتے ہیں۔ خط بھیجا تو جواب آئے، دروازہ کھٹکھٹایا تو کھلے، سوال کیا تو فوراً وضاحت ملے۔ پھر جب دعا کے بعد خاموشی رہتی ہے تو ہمیں گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید ہماری صدا وہاں تک پہنچی ہی نہیں۔ حالانکہ خاموشی ہمیشہ عدمِ جواب نہیں ہوتی؛ کبھی وہ جواب کے لیے بنائی جانے والی جگہ ہوتی ہے۔
اللہ کے ہاں تاخیر اور ہمارے ہاں تاخیر ایک معنی نہیں رکھتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ بدل جائے، جبکہ کبھی اللہ پہلے ہمیں اس مقام تک لے جا رہا ہوتا ہے جہاں وہ مسئلہ ہماری روح پر وہ اختیار نہ رکھ سکے جو آج رکھتا ہے۔ ہم نعمت مانگتے ہیں اور وہ ظرف بناتا ہے۔ ہم راستہ مانگتے ہیں اور وہ بصیرت دیتا ہے۔ ہم بوجھ اٹھانے کی طاقت مانگتے ہیں اور وہ ہمارے کندھے بدل دیتا ہے۔ پھر ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ ہم جس جواب کا انتظار کر رہے تھے، اس سے پہلے ایک اور کام ہو رہا تھا: ہم خود جواب کے قابل بنائے جا رہے تھے۔
دعا کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ صرف آسمان کی طرف نہیں اٹھتی، انسان کے اندر بھی اترتی ہے۔ بار بار ایک ہی در پر جھکنے سے خواہش کی تیزی کم ہونے لگتی ہے اور نسبت کی گہرائی بڑھنے لگتی ہے۔ ابتدا میں بندہ کہتا ہے، “یا اللہ، یہ مجھے دے دے۔” پھر کسی مقام پر وہ کہنے لگتا ہے، “یا اللہ، اگر یہ میرے لیے بہتر ہے تو عطا فرما۔” اور کبھی دعا اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ اس میں مطلوب سے زیادہ رب کی رضا اہم ہو جاتی ہے۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دعا کے نتیجے سے پہلے دعا کے اثر کو پہچان لیتا ہے۔
کچھ دعائیں اس لیے دیر سے پوری ہوتی ہیں کہ ان کا جواب کسی واقعے کی صورت میں نہیں، انسان کی نئی بصیرت کی صورت میں آنا ہوتا ہے۔ ایک دن وہی چیز سامنے ہوتی ہے جس کے لیے برسوں رویا تھا، مگر اب دل اسے پہلے جیسی بے قراری سے نہیں مانگتا۔ تب حیرت ہوتی ہے کہ جسے ہم دعا کی تکمیل سمجھ رہے تھے، شاید اصل تکمیل تو یہ تھی کہ ہمارا دل اس چیز کا غلام نہ رہا۔
اللہ کبھی کبھی خواہش پوری کرنے سے پہلے خواہش کی گرفت توڑ دیتا ہے۔
اور یہ بھی رحمت ہے۔
اس لیے ہر بند دروازے کو اپنے خلاف فیصلہ نہ سمجھو۔ کچھ راستے اس لیے نہیں کھلتے کہ تمہیں کسی اور راستے پر لے جایا جا رہا ہوتا ہے؛ کچھ لوگ اس لیے نہیں ٹھہرتے کہ تمہیں اپنی ذات کا وہ حصہ واپس مل سکے جو ان کی موجودگی میں کہیں کھو گیا تھا؛ کچھ محرومیاں اس لیے طویل ہوتی ہیں کہ ان کے اندر چھپا ہوا سبق جلدی سمجھ میں نہیں آتا۔
ہم وقت کو گھڑی سے ناپتے ہیں، اللہ وقت کو حکمت سے۔
اسی لیے ایک ہی دن کسی کے لیے برس بن جاتا ہے اور ایک برس کسی کے لیے ایک لمحے میں اپنا راز کھول دیتا ہے۔
بس ایک بات دل میں رکھنا: دعا کو سودا مت بنانا۔ یہ نہ سوچنا کہ میں نے اتنا مانگا، اب اتنا ملنا چاہیے۔ دعا عبادت ہے، مطالبات کی رسید نہیں۔ اپنے رب کے سامنے اپنے دل کو رکھ دو؛ اپنی خواہش بھی، اپنی بے بسی بھی، اپنی الجھن بھی۔ پھر اس کے فیصلے کو اس اعتماد سے دیکھو کہ جو تمہاری نظر سے اوجھل ہے، وہ اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔
اور جب کبھی لگے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا تو اپنے اندر جھانکنا۔ ممکن ہے باہر کا منظر وہی ہو مگر تم پہلے جیسے نہ رہے ہو۔ ممکن ہے تمہارے اندر وہ صبر آ گیا ہو جو کل نہیں تھا، وہ یقین پیدا ہو گیا ہو جو پہلے صرف الفاظ تھا، وہ دروازہ کھل گیا ہو جس کی طرف تم نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
یہی تو رب کی خاموش کاریگری ہے۔
وہ ہمیشہ حالات پر فوراً ہاتھ نہیں رکھتا؛ کبھی پہلے انسان کے دل پر ہاتھ رکھتا ہے۔
پھر وہی دل، جو کل ایک خبر سے بکھر جاتا تھا، آج تقدیر کے سامنے ٹھہر جاتا ہے۔ وہی آنکھ، جو ہر تاخیر کو محرومی سمجھتی تھی، آج انتظار میں بھی حسن دیکھنے لگتی ہے۔ وہی انسان، جو کہتا تھا “میری دعا کیوں نہیں سنی جا رہی؟”، ایک دن اتنا قریب آ جاتا ہے کہ اسے سوال ہی بدلنا پڑتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے:
“یا رب، مجھے وہ نہیں ملا جس کے لیے میں آیا تھا، مگر جو تو نے مجھے بنا دیا ہے، کیا وہی میری اصل عطا نہیں؟”
شاید دعا کا سب سے بلند مقام وہی ہے جہاں مانگنے والا اپنی مانگی ہوئی چیز سے آگے بڑھ کر مانگنے والے رب کو پہچان لیتا ہے۔
پھر دل میں ایک عجیب اطمینان اترتا ہے۔
مسئلہ ابھی باقی ہو سکتا ہے، مگر بے قراری باقی نہیں رہتی۔
راستہ ابھی دکھائی نہ دیتا ہو، مگر تنہائی محسوس نہیں ہوتی۔
جواب ابھی آیا نہ ہو، مگر یقین آ جاتا ہے کہ خاموش آسمان کے نیچے بھی کوئی ایسا ہے جس سے اپنے دل کی بات کہنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں۔
اور جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو انتظار انتظار نہیں رہتا۔ وہ عبادت بن جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top