جس دن شہر نے اسے پہچان لیا

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اس شہر میں ایک عجیب دستور تھا۔ جو چیز انسان کے لیے حد سے بڑھ کر عزیز ہو جاتی، لوگ اس کا نام لینا چھوڑ دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نام کسی حقیقت کی پہچان تو بن سکتا ہے، مگر اس کی گہرائی بیان نہیں کر سکتا۔ محبت کو صرف “محبت” کہہ دینا اس کے اندر چھپی بے قراری، ایثار اور خوفِ جدائی کو ایک لفظ میں سمیٹ دینا تھا۔ ماں کو صرف “ماں” کہہ دینا اس کی ان گنت بے نام قربانیوں کو ایک رشتے کے نام تک محدود کر دینا تھا۔ اور جس شخص سے دل اس حد تک وابستہ ہو کہ اس کی جدائی کا تصور بھی آدمی کو اندر سے توڑ دے، اس کا نام لینا بھی دل کو یہ یاد دلانا تھا کہ جسے وہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، وہ دراصل فنا کے قانون سے آزاد نہیں۔
اسی لیے شہر کے لوگ اپنے سب سے عزیز لوگوں اور سب سے قیمتی احساسات کو نام نہیں دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے: جنہیں دل میں پوری طرح جگہ دے دی جائے، انہیں زبان پر لانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ نام چیزوں کی شناخت ہوتے ہیں؛ محبت شناخت نہیں، ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان خود اپنی شناخت بھولنے لگتا ہے۔
اسی شہر کے پرانے حصے میں ساور نام کا ایک کاتب رہتا تھا۔ وہ خط لکھتا تھا۔۔۔ دوسروں کے۔ کسی بیٹے کو باپ سے معافی مانگنی ہوتی، کسی عورت کو پردیس گئے شوہر سے شکوہ کرنا ہوتا، کسی بوڑھے کو اپنے مرحوم بھائی کے بچوں کے لیے وصیت لکھوانی ہوتی، اور کبھی کوئی ایسا شخص بھی آتا جو صرف وہ بات کاغذ پر اتروانا چاہتا جسے زبان ادا کرنے سے ڈرتی تھی۔ ساور سب کے خط لکھتا تھا، مگر اپنا ایک بھی خط نہیں لکھ سکتا تھا، کیونکہ جس کے نام لکھ سکتا، وہ دنیا میں موجود نہ تھا۔ اور شاید اسی لیے وہ دوسروں کے خطوط لکھتے لکھتے یہ بھول گیا تھا کہ کچھ خط کاغذ پر نہیں، آدمی کی پوری زندگی پر لکھے جاتے ہیں۔
وہ لڑکی اسے ایک برساتی شام ملی۔ بازار میں پانی گھٹنوں تک تھا۔ دکانوں کے چھجوں تلے لوگ بارش سے بچنے کے لیے سمٹے کھڑے تھے کہ وہ بھیگتی ہوئی ساور کی دکان میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا خط تھا۔ کاغذ اتنا گل چکا تھا کہ چھوتے ہی بکھر جانے کا اندیشہ تھا۔ اس نے خط میز پر رکھا اور کہا، “اسے پڑھ دیں۔”
ساور نے کاغذ احتیاط سے اٹھایا۔ سیاہی جگہ جگہ بہہ چکی تھی۔ “کچھ لفظ مٹ گئے ہیں۔”
“جو بچ گئے ہیں، وہ پڑھ دیجیے۔”
ساور نے پڑھنا شروع کیا۔ خط کسی ایسے شخص کا تھا جو بہت دور جا چکا تھا۔۔۔ اتنا دور کہ واپسی کی امید، خط کے آخری لفظ سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ لڑکی خاموشی سے سنتی رہی۔ آخر میں ساور رک گیا۔
“آگے پڑھا نہیں جا رہا۔”
لڑکی نے پوچھا، “اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آخر میں کیا لکھا ہوگا؟”
ساور نے کاغذ تہہ کرتے ہوئے کہا، “محبت کے خطوط کا آخری جملہ ہمیشہ اندازے سے لکھا جا سکتا ہے۔”
“کیا؟”
“یا تو۔۔۔ واپس آ جاؤ۔ یا۔۔۔ مجھے بھول جانا۔”
لڑکی نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ “اور دونوں میں فرق؟”
ساور مسکرایا۔ “کوئی نہیں۔ دونوں میں آدمی یہی کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں اب بھی تمہارے اختیار میں ہوں۔”
لڑکی نے خط واپس لے لیا۔ “آپ عجیب آدمی ہیں۔”
“خط لکھنے والے اکثر عجیب ہو جاتے ہیں۔”
“آپ نے کبھی محبت کی ہے؟”
ساور نے جواب نہیں دیا۔ لڑکی نے بھی اصرار نہیں کیا۔ جاتے جاتے بس پوچھا، “آپ کا نام؟”
“ساور۔”
“پورا نام؟”
وہ ذرا رکا۔ “صرف ساور۔”
وہ چلی گئی اور ساور نے پہلی بار محسوس کیا کہ کچھ لوگ جاتے ہوئے دروازہ بند نہیں کرتے۔۔۔ انسان کے اندر کوئی دروازہ کھول جاتے ہیں۔
وہ اگلے دن پھر آئی۔ پھر اس کے اگلے دن۔ پھر روز آنے لگی۔ کبھی خط پڑھوانے، کبھی جواب لکھوانے۔ ساور نے اس کا نام نہیں پوچھا۔ ایک دن وہ خود بولی، “میرا نام مہرو ہے۔”
ساور نے قلم روک دیا۔ “مہرو؟”
“ہاں۔”
“کس نے رکھا؟”
وہ ہلکا سا مسکرائی۔ “جس نے رکھا تھا، وہ اب یاد نہیں رکھتا۔”
“ایسا بھی ہوتا ہے؟”
“دنیا میں سب سے زیادہ یہی تو ہوتا ہے۔”
مہرو کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ وہ دوسروں کے خطوط پڑھتی، ان پر ہنستی، کبھی کسی جملے پر اچانک اداس ہو جاتی۔
ایک دن ساور نے پوچھا، “آپ خود خط کیوں نہیں لکھتیں؟”
“لکھتی ہوں۔”
“کس کو؟”
“جس تک پہنچنے کا کوئی پتہ نہیں۔”
ساور نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس لڑکی کے پاس بھی کوئی ایسا شخص ہے جس کا نام نہیں لیا جا سکتا۔
وقت گزرتا رہا۔ مہرو کے آنے کا کوئی وقت مقرر نہ تھا، مگر ساور کو یقین رہتا کہ وہ آئے گی۔ وہ ہر شام دکان کے سامنے پڑی لکڑی کی کرسی صاف کرتا۔ مہرو آتی، بیٹھتی، اور کبھی دونوں گھنٹوں خاموش رہتے۔
ایک دن اس نے اچانک پوچھا، “آپ کو معلوم ہے، محبت کیا ہے؟”
ساور نے کہا، “نہیں۔”
“آپ خط لکھتے ہیں اور محبت نہیں جانتے؟”
“خط لکھنے والا ہر بیماری کی دوا نہیں جانتا۔”
مہرو نے میز پر انگلی سے ایک دائرہ بناتے ہوئے کہا، “محبت شاید کسی کو حاصل کرنا نہیں۔۔۔”
“پھر؟”
“کسی کے اندر اپنی جگہ بنانا بھی نہیں۔”
ساور نے پوچھا، “تو پھر کیا ہے؟”
وہ دیر تک خاموش رہی۔ پھر بولی، “شاید محبت یہ ہے کہ کسی کے چلے جانے کے بعد بھی آپ کے اندر اس کے لیے جگہ کم نہ ہو۔”
ساور نے قلم رکھ دیا۔ “آپ کسی کو کھو چکی ہیں؟”
مہرو نے بہت دھیرے سے کہا، “میں تو خود کھو چکی ہوں۔”
اس دن وہ چلی گئی اور ساور دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہا، جیسے وہ کوئی ایسا لفظ ہو جس کا مطلب لغت میں نہ ملتا ہو۔
ایک صبح مہرو نہیں آئی۔ ساور نے انتظار کیا۔ دوپہر ہوئی، شام ہوئی، دکان بند کرنے کا وقت آ گیا۔ وہ اگلے دن بھی نہیں آئی۔ پھر ایک ہفتہ گزر گیا۔
ساور نے اس کا پتہ کبھی پوچھا ہی نہیں تھا۔ بس اتنا جانتا تھا کہ وہ شہر کے مشرقی حصے سے آتی ہے۔ وہ اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ گلیاں، چوک، مسجد کے سامنے کی دکانیں، پرانا ڈاک خانہ، کنویں کے پاس بیٹھنے والے لوگ۔۔۔ کسی نے اسے نہیں دیکھا۔ یا شاید سب نے دیکھا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ ساور کس کو ڈھونڈ رہا ہے۔
آخر ایک بوڑھے کتاب فروش نے پوچھا، “کس کا نام بتایا؟”
“مہرو۔”
بوڑھے کی آنکھوں میں اچانک کوئی پرانی بات جاگی۔ “مہرو؟”
“جی۔”
وہ خاموش ہوگیا۔ پھر پوچھا، “آپ اس کے کیا لگتے ہیں؟”
ساور نے پہلی بار خود سے یہ سوال کیا۔ اور اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
اس رات وہ گھر نہیں گیا۔ دکان ہی میں بیٹھا رہا۔ میز پر مہرو کا آخری خط پڑا تھا۔ اس میں صرف تین سطریں تھیں:
“کچھ لوگ ہماری زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے۔ وہ یہ بتانے آتے ہیں کہ جس زندگی کو ہم زندگی سمجھ رہے تھے، وہ محض عادت تھی۔ اگر میں چلی جاؤں تو مجھے ڈھونڈنا مت۔”
ساور نے خط تہہ کیا۔ پھر پہلی بار اسے غصہ آیا۔ “لوگ اتنی آسانی سے کیسے کہہ دیتے ہیں۔۔۔ مجھے ڈھونڈنا مت؟”
وہ خط پھاڑنے ہی والا تھا کہ دروازے پر ایک بوڑھی عورت نمودار ہوئی۔
“تم ساور ہو؟”
“جی۔”
“مہرو نے کہا تھا، یہ تمہیں دے دوں۔”
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لکڑی کا صندوق تھا۔ ساور نے لے لیا۔
“اس میں کیا ہے؟”
بوڑھی عورت نے کہا، “تمہارا سوال۔”
اور چلی گئی۔
صندوق میں ایک کپڑا، ایک پرانی چابی اور ایک چھوٹی سی تصویر تھی۔ تصویر دیکھ کر ساور کے ہاتھ لرز گئے۔ اس میں مہرو تھی۔۔۔ مگر وہی مہرو نہیں جسے وہ جانتا تھا۔ وہ بہت کم عمر تھی۔ اور اس کے ساتھ کھڑا لڑکا۔۔۔ ساور تھا۔
اس نے تصویر پلٹی۔ پیچھے بائیس برس پرانی تاریخ لکھی تھی اور ایک جملہ:
“جب تمہیں یاد نہ رہے تو میں تمہیں پھر سے ملوں گی۔”
ساور بیٹھ گیا۔ کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔ پھر۔۔۔ ایک چہرہ۔ ایک درخت۔ ایک حادثہ۔ پانی۔ ایک چیخ۔ اور ایک کم سن لڑکی، جو اس کا ہاتھ پکڑ کر پکار رہی تھی:
“ساور! آنکھیں کھولو!”
پھر۔۔۔ اندھیرا۔
اس رات اسے اپنی ماں کی پرانی الماری یاد آئی۔ گھر پہنچ کر اس نے الماری کھولی۔ پرانے کاغذات میں ایک بائیس برس پرانی رپورٹ تھی:
“حادثے کے بعد لڑکے کی یادداشت کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا۔”
نیچے ایک اور نام تھا:
“مہرو۔۔۔ لاپتہ۔”
ساور زمین پر بیٹھ گیا۔
تو مہرو اسے پہچانتی تھی۔ وہ اس کی زندگی میں پہلی بار نہیں آئی تھی۔ وہ تو اس کی کھوئی ہوئی زندگی تھی۔
مگر پھر وہ واپس کیوں آئی؟
اور کیوں چلی گئی؟
اگلی صبح وہ لکڑی کی چابی لے کر شہر کے مشرقی کنارے پہنچا۔ چابی ایک بوسیدہ مکان کے دروازے میں لگی۔ دروازہ کھلا۔ اندر ایک کمرہ تھا۔ دیواروں پر خط چپکے ہوئے تھے۔ سینکڑوں خط۔ سب ساور کے نام۔ کسی پر اس کی عمر سولہ برس تھی، کسی پر سترہ، کسی پر بیس، کسی پر پچیس۔
وہ سب مہرو نے لکھے تھے۔۔۔ مگر بھیجے نہیں تھے۔
ساور ایک ایک خط پڑھتا گیا۔
ایک میں لکھا تھا:
“آج ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تم شاید مجھے کبھی یاد نہ کر سکو۔ میں نے کہا، کوئی بات نہیں۔ میں تمہیں یاد رکھوں گی۔ دو لوگوں کی محبت کے لیے دو حافظے ضروری نہیں ہوتے۔”
دوسرے میں:
“آج تم نے مجھے دیکھا اور پوچھا: آپ کون ہیں؟ میں ہنس دی۔ تمہیں کیا بتاتی کہ میں وہ ہوں جسے تم نے کبھی بھلایا ہی نہیں۔۔۔ صرف تمہاری یادداشت نے مجھ سے چھین لیا ہے۔”
ساور کے ہاتھ کانپتے رہے۔
پھر آخری خط ملا۔ سب سے نیا۔ صرف ایک صفحہ۔
“ساور،
میں تمہیں سچ بتا سکتی تھی، مگر ڈرتی تھی کہ اگر تم مجھے یاد کرنے لگے تو اپنے اندر اس لڑکے کو تلاش کرو گے جو بائیس برس پہلے تھا۔ اور میں تمہیں اس لڑکے سے محبت نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ تم اس شخص سے محبت کرو جو تم آج ہو۔
اس لیے میں نے تمہیں اپنی پہچان نہیں بتائی۔ میں نے تمہاری یادداشت کو نہیں چھیڑا۔ میں نے تمہیں دوبارہ میرے ساتھ محبت کرنے کا موقع دیا۔۔۔ اور تم نے کیا۔
مگر اب مجھے جانا ہوگا۔
تم نے ایک بار مجھے حادثے سے بچایا تھا۔ اب میں تمہیں اپنے مرنے سے بچا رہی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری دوسری موت تمہاری دوسری زندگی بھی ختم کر دے۔
بس یہ جان لینا کہ دنیا میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس نے تمہیں دو مرتبہ چاہا۔ ایک بار جب تم اسے پہچانتے تھے، اور دوسری بار جب تم اسے پہچانتے بھی نہیں تھے۔
پہلی محبت یاد تھی۔
دوسری محبت انتخاب۔
اور میں دوسری والی کو زیادہ سچا سمجھتی ہوں۔”
ساور دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اسے خیال آیا کہ وہ ساری عمر لوگوں کے خط لکھتا رہا تھا۔
“اسے بتا دیں کہ میں اسے چاہتا ہوں۔”
“اسے بتا دیں کہ مجھے افسوس ہے۔”
“اسے بتا دیں کہ میں واپس آنا چاہتا ہوں۔”
“اسے بتا دیں کہ میں بھول نہیں سکا۔”
وہ دوسروں کی باتوں کو لفظ دیتا رہا، مگر مہرو نے اسے ایسی محبت سکھائی تھی جس کے لیے خط بھیجنا ضروری نہیں تھا۔
وہ دکان پر واپس آیا۔ قلم اٹھایا اور پہلی بار کسی دوسرے کے نام نہیں۔۔۔ اپنے نام خط لکھا۔
“ساور،
محبت ہمیشہ کسی کے ساتھ رہنے کا نام نہیں۔ کبھی کبھی محبت کسی کو اتنی آزادی دینا ہے کہ وہ تمہاری یاد بن کر بھی تمہاری زندگی پر قبضہ نہ کرے۔
مہرو چلی گئی تو کیا ہوا؟ وہ اپنے ساتھ مجھے نہیں لے گئی۔ وہ میرے اندر ایک سوال چھوڑ گئی ہے۔ اور سوال کبھی نہیں مرتے۔۔۔ صرف ان کے جواب مرتے رہتے ہیں۔
اب میں اسے ڈھونڈوں گا نہیں۔ اسے زندہ رکھوں گا۔۔۔ اس طرح نہیں کہ ہر روز اسے یاد کروں، بلکہ اس طرح کہ ہر روز کسی اور کی زندگی میں وہ نرمی چھوڑ آؤں جو اس نے میری زندگی میں چھوڑی تھی۔
شاید محبت کی آخری صورت یہی ہے: محبوب کو یاد رکھنا نہیں۔۔۔ محبوب کی وجہ سے دنیا کو کچھ زیادہ قابلِ محبت بنا دینا۔”
اس نے خط تہہ کیا، لفافے میں رکھا اور میز کی دراز میں رکھ دیا۔
کئی برس بعد ساور کاتب مر گیا۔ دکان بند ہوئی۔ مگر میز کی وہی دراز کھلی تو اندر سیکڑوں خط تھے۔ کسی پر کوئی پتہ نہیں تھا۔ سب کے اوپر ایک ہی نام:
“اس شخص کے نام جو ابھی کسی کو معاف نہیں کر سکا۔”
وہ خط شہر میں پھیل گئے۔ کسی نے باپ کو فون کیا۔ کسی نے برسوں بعد بہن سے بات کی۔ کسی نے بیوی سے معافی مانگی۔ کسی نے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ کسی نے پرانی دشمنی دفن کر دی۔
اور شہر آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ لوگ ایک دوسرے کو زیادہ دیر سننے لگے۔ معافیاں جلدی ہونے لگیں۔ بوڑھے والدین کے دروازوں پر بچوں کے قدم زیادہ سنائی دینے لگے۔
ایک دن کسی نے ساور کی دکان کے دروازے پر ایک تختی لگا دی:
“یہاں خط نہیں لکھے جاتے؛ یہاں دل کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ بات کہہ سکے۔”
برسوں بعد ایک بچی وہاں سے گزری۔ اس نے تختی پڑھی اور ماں سے پوچھا، “امی، محبت کیا ہوتی ہے؟”
ماں نے کچھ سوچا۔ پھر اس کا ہاتھ تھام کر کہا، “کسی کو اپنا بنا لینا نہیں۔”
“پھر؟”
“کسی کو ایسا بنا دینا کہ وہ تمہارے بغیر بھی اچھا انسان رہے۔”
بچی نے کچھ دیر سوچا۔ پھر شیشے کے اندر رکھی ایک پرانی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
“تو مہرو کون تھی؟”
ماں چونک گئی۔
“تم نے مہرو کا نام کہاں سے سنا؟”
بچی نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
وہاں مہرو اور ساور کھڑے تھے۔
تصویر کے نیچے ایک سطر لکھی تھی:
“وہ مجھے دو بار ملی؛ پہلی بار میں اسے جانتا تھا، دوسری بار میں نے اسے پہچانا۔”
اور شاید محبت کی سب سے حیران کن بات یہی ہے۔۔۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محبوب ہمیں مل گیا ہے۔ حالانکہ بعض اوقات محبوب ہمیں نہیں ملتا۔
ہم خود، اس کے ہاتھوں، پہلی بار ملتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top