(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب انسان خواہشوں کے شور، تمناؤں کے ہجوم اور جستجو کی تھکن سے گزر کر ٹھہر جاتا ہے۔ یہ تھکن جسم کی نہیں ہوتی، یہ روح کا بوجھ ہوتی ہے۔ تب دنیا کے رنگ ماند پڑ جاتے ہیں، آوازیں بے معنی ہو جاتی ہیں، اور دل کی گہرائی میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن صدا اُبھرتی ہے: وہی کافی ہے۔
یہ کوئی نئی آواز نہیں۔ یہ ازل کی صدا ہے جو انسان کی فطرت میں ودیعت ہے، مگر دنیا کی گہماگہمی میں دب جاتی ہے۔ جب تک دل سہاروں، سببوں اور تدبیروں کے حصار میں مقید رہے، یہ صدا سنائی نہیں دیتی۔ اور جب انسان ہر دروازے سے لوٹ کر آتا ہے، ہر بھروسے کو چھوڑ دیتا ہے، تب باطن کی آنکھ کھلنے لگتی ہے۔
اس لمحے عقل خاموش ہو جاتی ہے، علم اپنی حد پہچان لیتا ہے، اور دل عاجزی کے ساتھ سچ کو قبول کر لیتا ہے۔ آنکھوں سے بہنے والے اشک پہلی دستک بن جاتے ہیں، اور روح کے حجرے میں نور کی ہلکی سی لرزش اترتی ہے۔ وہی نور کہتا ہے: بس وہی، وہی کافی ہے۔
یہ کوئی شاعرانہ جملہ نہیں، نہ جذبے کا دھوکا۔ یہ وہ حقیقت ہے جو بے جان کو جان بخشتی ہے، جو ویران دلوں کو آباد کرتی ہے، اور جو ٹوٹے ہوئے انسان کو اپنے رب سے جوڑ دیتی ہے۔ عقل کہتی ہے کہ وہ سوالوں کے اختتام تک ساتھ دیتی ہے۔ علم مان لیتا ہے کہ جو وہ جانتا ہے وہ قطرہ ہے، اور جو نہیں جانتا وہ سمندر۔ تب دل فیصلہ سناتا ہے: وہی کافی ہے۔
یہ مان لینا فنا ہے، اور یہی بقا ہے۔ یہ پہچان لینا کہ اپنی ہستی عارضی تھی، اور اصل صرف اسی کی ذات ہے۔ یہی عرفان ہے، یہی تصوف کی روح، یہی دین کا باطن۔ جب دل اس حقیقت پر ٹھہر جاتا ہے تو دنیا خاموش تائید بن جاتی ہے۔ کوئی لفظ ادا نہیں ہوتا مگر ہر شے گواہ ہو جاتی ہے۔ ہر سمت سے ایک ہی صدا آتی ہے: ہو اللہ۔
جسے یہ راز مل جاتا ہے وہ دنیا کے پیچھے نہیں دوڑتا۔ نہ مال اس کا مقصود رہتا ہے، نہ شہرت۔ وہ محبت میں خود کو مٹا دیتا ہے، اور ہر شے میں ایک ہی نور دیکھتا ہے۔ وہی جس کا ذکر قرآن میں آیا کہ جدھر رخ کرو، وہیں اس کا چہرہ ہے۔
یہی اصل عبادت ہے، یہی اصل بندگی۔ نہ کسی غار کی ضرورت ہے، نہ کسی سفر کی۔ بس دل کے حجرے میں سجدہ درکار ہے۔ وہیں سے ندا آئے گی: وہی کافی ہے۔
جو اس ایک حقیقت کو سمجھ گیا، وہ بوجھ سے آزاد ہو گیا۔ اور جو نہ سمجھا، وہ بہت کچھ جان کر بھی خالی ہی رہا۔ یہ تحریر نہ ابتدا رکھتی ہے نہ انتہا، کیونکہ جس کا ذکر ہے وہی ازل ہے اور وہی ابد۔
اگر یہ بات دل تک پہنچی ہے تو سمجھ لو کہ سفر مکمل ہوا۔ اور اگر صرف آنکھوں سے گزری ہے تو ابھی راستہ باقی ہے۔
دل نے کہا: وہی کافی ہے
